پاکستان کی تقسیم’ بنگلہ دیش بننے کا کوئی ایک طبقہ ‘ لیڈر یا ادارہ ذمہ دار نہیں

فیصل آباد (نیوز لائن) پاکستان کی تقسیم اور بنگلہ دیش بننے کا کوئی ایک طبقہ ‘ لیڈر یا ادارہ ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عالمی حالات’ محرومی کا مسلسل احساس ‘مشرقی پاکستان کی لیڈر شپ کاعوامی مؤقف سے دور رہنا اور مطالبات کو نظر انداز کرنا’سیاسی’ معاشی و معاشرتی صورتحال اور دیگر بہت سے عوامل تقسیم کی وجہ بنے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے معروف تاریخ دان اور جی سی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے انچارج ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کی کتاب ”مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی : ناکام قیادت کا تحقیقی مطالعہ ” کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی سی ویمن یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ڈائریکٹر ایڈوانس سٹڈیز ڈاکٹر صوفیہ انور نے کہا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہی قیادت کی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی طبقے میں احساس محرومی ‘ معاشی وسائل کی تقسیم میں عدم مساوات’ سیاسی’ معاشی اور پاور سٹرکچر سے کسی بھی طبقے کی عدم شمولیت معاشروں اور قوموں کیلئے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ماضی کے تلخ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کیلئے بہتر منصوبہ بندی کرنا ہی زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔

ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے کہا کہ پاکستان کی تقسیم اور مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی کا غیرجانبدارانہ انداز میں مطالعہ اور تحقیق کرنے کی ضرورت تھی۔ اس کتاب میں1947سے لے کر 1971تک کے حالات کا تحقیقی انداز میں غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر صورتحال کو پیش کیا گیا ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ قائداعظم پورا بنگال اور سکھوں سمیت پورا پاکستان لینا چاہتے تھے۔جہاں دو دوردراز کے دوجغرافیائی خطوں پر مشتمل ایک آزاد ملک (پاکستان ) کا بننا ایک تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا وہیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ کسی بھی ملک کی اکثریتی آبادی نے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی الگ شناخت بنائی ۔ ہمیشہ اقلیت میں ہونے والے علیحدگی کی بات کرتے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک صرف 70کی دہائی میں ہی شروع نہیں ہوئی۔ اس کی چنگاریاں 1947سے ہی پھوٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ قومی زبان کے ایشو سے تو ایک زمانہ آگاہ ہے۔ قائد اعظم نے اردو کو قومی زبان قرار بھی سی لئے دیا تھا کہ اردو پاکستان کے کسی صوبے یا علاقے کی زبان نہیں ہے۔ اگست 1947کی تاریخی ہجرت’ 1948 میں وسائل کی تقسیم’ 1949 میں آئین کے بنانے پر اختلاف’ عوامی مسلم لیگ اور یوتھ لیگ کا قیام اور متعدد دیگر عوامل علیحدگی پسندی کے چشمے سے پھوٹتی ہوئی چنگاریاں ہی تو تھیں۔ 1971کی جنگ کے حالات و نقصانات کے حوالے سے بھی دونوں طرف مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان کی تقسیم کے عوامل اور حالات کا دو نہیں چار( پاکستان’ بنگلہ دیش’ انڈیا اور عالمی صورتحال) تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت تھی اور اس کتاب میں ایسا ہی کیا گیا ہے۔

جی سی یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر محمد آصف نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کی اس کتاب کا سب سے اہم پہلو کو مجھے لگا وہ یہ ہے کہ پوری کتاب میں ڈاکٹر رضوان خود کہیں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے عام تاریخ دانوں کی طرح بیانیہ انداز میں صورتحال پیش کرنے کی بجائے غیرجانبدارانہ انداز میں حقائق پیش کئے ہیںاور یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ انہوں نے جس خوبی کے ساتھ حقائق کو غیرجانبدار رہتے ہوئے پیش کیا ہے وہ ان کا ہی خاصہ ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسماء آفتاب نے کہا کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اس سے کسی رعائت کی امید رکھنا ہی عبث ہے مگر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے تناظر میں پاکستان کی اس وقت کی لیڈر شپ کا کردار بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔ ضرورت تھی کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے غیرجانبدارانہ بیانیہ کے ساتھ کام کرکے حقائق سامنے لائے جاتے۔ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے اس ضروت کو بری حد تک پورا کیا ہے اور تاریخ کے قارئین کو نئے زاوئیے سے حقائق کا جائزہ لینے کا موقع دیا ہے۔تقریب کے دوران جی سی یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے لیکچرار حسن سانول نے بھی اظہار خیال کیا اور ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کو اس تاریخ کتاب کی تشکیل پر خراج تحسین پیش کیا۔

Related posts