جی سی یونیورسٹی کا سابق پی آر او حکومت مخالف مہم میں شامل

فیصل آباد (ندیم جاوید) مسلم لیگ ن کے دور میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے پبلک ریلیشن آفیسر کے طور خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق‘ وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت کیخلاف سوشل میڈیا پر ہرزہ سرائی کرنے اور عوام میں حکومت کے خلاف نفرت انگیز جذبات ابھارنے میں ملوث نکلے۔ جی سی یونیورسٹی کی انتظامیہ ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق کیخلاف انکوائری کمیٹی تشکیل دئیے جانے کے باوجود بروقت تحقیقات مکمل کرنے میں ناکام رہی۔کمیٹی کی سربراہ نے دیگر مصروفیات کو حکومت کیخلاف سوشل میڈیا مہم کی انکوائری مکمل نہ ہونے کا باعث قرار دیدیا۔ نیوز لائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے دوسرے دور حکمرانی کے دوران جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے پی آر او کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق کے حوالے سے الزامات سامنے آئے ہیں کہ وہ وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی وفاقی و صوبائی حکومت کیخلاف سوشل میڈیا پر ہرزہ سرائی کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ چند ماہ قبل یونیورسٹی کے کچھ ملازمین کی آئی ڈی سے سوشل میڈیا پر حکومت کے حوالے سے ہرزہ سرائی پر مبنی مواد شیئر کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے ایم پی اے اور جی سی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے ممبر شکیل شاہد کی نشاندہی پر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے کی انکوائری کیلئے ڈاکٹر طیبہ سلطانہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔ ابتدائی انکوائری میںسامنے آیا کہ ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق کے ڈیپارٹمنٹ کی کمپویٹر لیب کے اسسٹنٹ عثمان کی طرف سے بھی یہ مواد شیئر کیا گیا ہے۔ انکوائری کے دوران ہی عثمان نے انکشاف کیا کہ اس کی آئی ڈی سے اور دیگر اطراف سے مواد ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق نے سوشل میڈیا کی زینت بنایا ہے۔ انکوائری میں یہ صورتحال سامنے آنے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق کو بھی اس معاملے کی تحقیقات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور ڈاکٹرعبدالقادر مشتاق کے معاملے کی انکوائری کیلئے یونیورسٹی کی سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر طیبہ سلطانہ کی سربراہی میں دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کے دوسرے رکن یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کے سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر کلیم خان کھوسہ بنائے گئے۔

ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق کے معاملے کی انکوائری کیلئے یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کے نوٹیفکیشن کے مطابق بنائی گئی دو رکنی انکوائری کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرنے اور اس بارے رپورٹ فائنل کرنے کیلئے 30جولائی تک کا وقت دیا گیا تھا۔ تاہم 30جولائی گزرنے کے باوجود انکوائری کمیٹی اس معاملے پر تحقیقات شروع بھی نہیں کرسکی۔ انکوائری کمیٹی نے تحقیقات کے دورانئے کے دوران ایک مرتبہ بھی اس معاملے پر ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق یا عثمان کو طلب نہیں کیا۔ اس اہم ترین معاملے کی تحقیقات کیلئے دو رکنی کمیٹی کا اجلاس ایک مرتبہ بھی نہیں ہوسکا۔ اس معاملے بارے مو¿قف جاننے کیلئے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی شکیل شاہد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ ملک و قوم کیخلاف کام کرنیوالوں کو سخت سزا ملنی چاہئے۔ اس معاملے میں کوئی بھی ملوث ہو تو اسے کوئی رعائت نہیں ملنی چاہئے دوسری طرف ہم کسی کے ساتھ زیادتی کے بھی ہم قائل نہیں ہیں۔ معاملے کی تحقیقات فوری مکمل کی جانی چاہئے اور جو بھی اس میں ملوث ہو اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس حوالے سے جی سی یونیورسٹی کے سابق پبلک ریلیشن آفیسر ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں وہ کسی بھی طرح ملوث نہیں ہیں۔ ویسے بھی یہ معاملہ اب پرانا ہوچکاہے۔ اس حوالے سے نیوز لائن کے رابطہ کرنے پر ڈاکٹر طیبہ سلطانہ نے کہا کہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے وہ اس معاملے کو نہیں دیکھ سکیں ۔ اب اس کو دیکھیں گی ۔ کمیٹی معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی اور اس میں جو بھی ملوث ہوگا اس کیخلاف ایکشن کی سفارش کی جائے گی۔ اس معاملے بارے جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد کمال سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات جلد مکمل ہو جائیں گی۔انکوائری مکمل ہونے پر اس کی رپورٹ پبلک کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Related posts