باتیں کرنے‘ نعرے لگانے کی بجائے عملی کام کریں گے: ڈاکٹر شاہد کمال

فیصل آباد (احمد یٰسین) جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال نے کہا ہے کہ یونیورسٹی سے ایڈہاک ازم ختم کرنا‘ نظام کو شفاف بنانا‘ میرٹ کا فروغ اور طلبہ کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا میری اولین ترجیح ہے ۔باتیں کرنے اور نعرے لگانے کی بجائے عملی کام کرکے دکھائیں گے۔ یونیورسٹی کے نصاف کو درست کریں گے جبکہ امتحانی سسٹم کی خامیاں بھی جلد دور کرلی جائیں گی۔ نیوز لائن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرٹ کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائیگا۔ یونیورسٹی میں ہونیوالے داخلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم میرٹ کو یقینی بنانے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ سفارش کلچر کی سختی کے ساتھ روک تھام کررہے ہیں ۔ عارضی اقدامات کی بجائے سسٹم کو اتنا مضبوط کردیں گے کہ میرٹ کی خلاف ورزی ممکن ہی نہ ہوسکے۔ رئیس جامعہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے نصاب اور امتحانی سسٹم کی خامیوں پر ان کی نظر ہے۔ اس کیلئے کام کررہے ہیں بہت جلد اس بارے میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد جامع انداز میں اقدام اٹھائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام ڈین اور ڈیپارٹمنٹس کے انچارج اپنے اپنے کام کے ذمہ دار ہیں ۔ ہر کسی کو اپنے فرائض کی انجام دہی کرکے دکھانا ہوگی۔ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہنے والوں کو برداشت نہیں کروں گا۔ تاہم کوئی بھی معاملہ قانون سے ہٹ کر نہیں ہوگا۔ یونیورسٹی ایکٹ کو مدنظر رکھیں گے اور قانون کے دائرے میں رہ کر معاملات میں بہتری لائیں گے۔ ڈاکٹر شاہد کمال نے کہا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کے داخلے ہورہے ہیں۔ داخلوں کے بعد انتظامی امور میں بہتری لانے پر فوکس کریں گے ۔

Related posts