جی سی ویمن فیصل آباد5برس میں ملک کی بہترین یونیورسٹی بن جائیگی

جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کو یونیورسٹی کا درجہ جنوری 2013 میں ملا ۔یونیورسٹی کا درجہ ملنے سے قبل یہ ادارہ ”گورنمنٹ کالج برائے خواتین مدینہ ٹاو¿ن“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ٹیکسٹائل سٹی کی پہلی ویمن یونیورسٹی کا مقام پانے والے اس ادارے نے اپنا سفر پاکستان بننے سے سے 13برس پہلے 1934 میںفیصل آباد (اس وقت لائل پور) کے پہلے انٹرمیڈیٹ کالج کی حیثیت سے کیا تھا۔ صرف دس برس کے سفر کے بعد پاکستان بننے سے چارسال پہلے ہی اسے گریجویٹ کالج کا درجہ مل گیا۔ قیام پاکستان کے وقت یہ لائل پور میں خواتین کا واحد گریجویٹ کالج تھا ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی اس ادارے نے اپنا سفر انتہائی تیزی سے جاری رکھا اور شہر کا سب سے بہترین خواتین کالج قرار دیا جاتا رہا۔ اسے فیصل آباد میں خواتین کا پہلا پوسٹ گریجویٹ کالج ہونے کا اعزاز بھی ملا ۔ تاہم پوسٹ گریجویٹ کا مقام حاصل کرنے میں اسے نصف صدی لگ گئی ۔ اسے پوسٹ گریجویٹ کا درجہ فیصل آباد کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر بن جانے کے بھی تین سال بعد 1985میں دیا گیا ۔یکم جنوری کو یونیورسٹی کا درجہ ملا تاہم تین جنوری 2103کو اس ادارے نے باضابطہ یونیورسٹی کی حیثیت سے ورکنگ شروع کی ۔

انٹرویو ٭ احمد ایچ یٰسین

کامرس اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم موجودہ دور میں اقتصادی ترقی کا لازم جزو بن چکا ہے۔ جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد نے بھی ٹیکسٹائل سٹی فیصل آباد اور ملک کی اقتصادی ضروریات اور اس میں خواتین کے انتہائی اہم کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے ابتدا میں ہی کامرس کا شعبہ قائم کرلیا۔ سال 2014میں یہاں کامرس کا ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا اور اس سال سے ہی اس ڈیپارٹمنٹ کی انچارج عائشہ امتیاز ہیں۔عائشہ امتیاز کا شمار فیصل آباد میں کامرس کی بہترین اساتذہ میں کیا جاتا ہے ۔ جی سی ویمن یونیورسٹی میں آنے سے پہلے دس برس تک وہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی کامرس اور بزنس ایڈمسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج کے طور پر خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں۔ اکتوبر 2014میں جی سی ویمن یونیورسٹی میں آئیں اور گزشتہ پانچ برس سے جی وی ویمن یونیورسٹی کے کامرس ڈیپارٹمنٹ کی انچارج کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ نیوز لائن نے ان کے ساتھ ملک اور شہر کی اقتصادی ضروریات‘ اس میں خواتین کے کردار اور جی سی ویمن یونیورسٹی کے حوالے سے گفتگو کی جو نذر قارئین ہے۔

کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی میں خواتین کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی پچاس فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ خواتین کو معیشت کے مرکزی دھاری میں لائے بغیر ملکی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ خواتین کو صرف ملازمتوں میں ہی نہیں بزنس کے یکساں مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ مقابلے کی فضاءخواتین اور مردوں کیلئے یکساں ہوگی تو اسی صورت ملک ترقی کے میدان میں دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے گا۔

جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی ہے۔ اگرچہ ابتدائی مسائل پر قابو پانے میں یونیورسٹی نے کسی قدر تاخیر کی ہے تاہم گزشتہ چھے ماہ سے یونیورسٹی نے درست میں اپنے سفر کا آغاز کردیا ہے۔ یونیورسٹی کی موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ فاروق
یونیورسٹی کو درست سمت میں لے جانے کا عزم لئے ہوئے ہیں اور اس کیلئے ترجیحی اقدامات بھی اٹھا رہی ہیں۔ آئندہ پانچ سے چھے سالوں میں یہ یونیورسٹی بہت ترقی کرے گی اور ترقی کی منازل طے کرکے پاکستان کی چند ایک بہترین جامعات میں شامل ہو جائے گی۔

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد اور جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کا باہمی موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔ جی سی یوایف کو بنے 17برس ہو چکے ہیں۔ ان 17برسوں میں اس نے بہت گروم کرلیا ہے۔ دوسرے وہاں میل اور فی میل دونوں طلبہ ہیں ۔ جس سے وہاں کا ماحول ایسا ہے کہ بچے میں اعتماد جلد آجاتا ہے۔ جی سی ویمن ابھی اپنے ابتدائی دورانئے میں ہے۔ اسے بنے ابھی ایک دہائی بھی نہیں ہوئی۔ پانچ چھے سال میں یونیورسٹی نہیں بنتی۔ اسے وقت چاہئے۔ آئندہ پانچ چھے سال اس کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ چھے سات ماہ میں ہی تو جی سی ویمن کو بطور ایک یونیورسٹی شہر میں شناخت اور قبولیت ملی ہے۔ رواں برس کے طالبات کے داخلے ثبوت پیش کررہے ہیں کہ لوگوں نے اب اس ادارے کو بطور یونیورسٹی قبول کرلیا ہے۔ اس کی کالج کی شناخت اب پیچھے رہ جائے گی اور یونیورسٹی بنتے بنتے بنے گی۔ اس ادارے کیلئے یہ بھی ایک اچھی علامت ہے کہ نئی وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ فاروق خود بھی ریسرچر ہیں اور تحقیقی کاموں کے فروغ میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ریسرچ کلچر فروغ پائے گا تو یونیورسٹی کو بطور یونیورسٹی اپنی شناخت بنانے میں زیادہ آسانی ہو گی۔

جی سی ویمن میں یونیورسٹی کیڈر اور کالج کیڈر دونوں کی فیکلٹی موجود ہے اور دونوں کے مابین بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔ دونوں کیڈر کے مابین انتظامی طور پر کچھ فرق ہے مگر کام کے لحاظ سے دونوں کیڈرز کے لوگ یونیورسٹی کی ترقی کے خواہاں ہیں اور اپنی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ تاہم یہ ہے کہ یونیورسٹی کیڈر کی فیکلٹی کا تمام تر فوکس یونیورسٹی ہی ہوتا ہے جبکہ کالج کیڈر کی فیکلٹی چونکہ براہ راست ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت آ جاتی ہے اس لئے ان کیلئے دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایک انتظامی معاملہ ہے یونیورسٹی کی ترقی کیلئے دونوں کیڈر کے لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہاں کا ماحول ایسانہیں ہے کہ کہا جائے کہ دونوں کیڈر کے مابین کوئی کھینچا تانی فضاءہے۔

کوالٹی ایجوکیشن ایک ایسا سوال ہے کہ اس کے ساتھ کئی عوامل جڑے ہوئے ہیں۔ جی سی ویمن یونیورسٹی ابھی اپنی ابتدائی عمر میں ہے۔ اسے ابھی انفرا سٹرکچر کی ضرورت ہے۔ اس کے نیو کیمپس کیلئے جگہ تو مل چکی ہے مگر وہاں ابھی کنسٹرکشن نہیں ہو سکی۔ اولڈ کیمپس میں بھی نئی کنسٹرکشن کی ضرورت ہے۔کلاس رومز کی کمی اور کلاس رومز کے سائز کا بھی مسئلہ ہے۔ ابھی یہاں زیادہ بھرتی نہیں ہو سکیا¿ مستقل فیکلٹی کی تعداد بھی کم ہے۔ طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ سٹوڈنٹ ٹیچر ریشو ابھی زیادہ ہے جبکہ انفراسٹرکچر کا معاملہ بھی درپیش ہے۔کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ نصاب اور سکیم آف سٹڈی بھی نتھی ہے۔تاہم اساتذہ اپنی بھرپور کوشش کر رہی ہیںکہ طالبات کو بہترین ایجوکیشن فراہم کی جائے۔ انفراسٹرکچر اور دیگر مسائل جیسے جیسے حال ہوتے جائیں گے ویسے ہی کوالٹی ایجوکیشن بھی بہتر ہو گی اور دیگر معاملات میں بھی بہتری آتی جائے گی۔

یہاں ریسرچ کلچر کے فروغ کے حوالے سے بھی وہی ایشوز ہیں۔ جو کوالٹی ایجوکیشن کی بابت ہیں۔ ہماری سکیم آف سٹڈی میں کوئی مسئلہ ہے نہ اساتذہ کی صلاحیتیں کسی سے کم ہیں۔لیکن یہ ایک نئی یونیورسٹی ہے۔ یہاں مستقل اساتذہ کی کمی ہے۔ پی ایچ ڈی اساتذہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی وجہ سے متعدد شعبہ جات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسز نہیں شروع ہو پائیں۔ پی ایچ ڈی اساتذہ کے آنے اور ایم فل و پی ایچ ڈی کی کلاسز شروع ہونے سے ہی یہاں ریسرچ کلچر کو فروغ ملے گا۔ اس کا مستقبل انتہائی روش ہے۔ آنیوالے سالوں میں یہ یونیورسٹی دوسری جامعات سے بہت آگے نکل سکتی ہے شرط صرف یہ ہے کہ یہاں کے مسائل حل کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کی جاتی رہیں۔

حال ہی میں یونیورسٹی انتظامیہ نے بائیومیٹرک حاضری کا آغاز کیا ہے ۔جس سے اساتذہ اور انتظامی ذمہ داران کی یونیورسٹی میں حاضری کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوتا جا رہا ہے۔ اساتذہ یہاں موجود رہیں گی تو ان کی ورکنگ بھی بڑھے گی اور یونیورسٹی کی صورتحال بھی بتدریج بہتر ہوتی جائے گی۔ اساتذہ خود حاضر ہوں گی تو طالبات کی غیر حاضری میں کمی آئے گی اور حالات بتدریج بہتر سے بہتر ہوتے جائیں گے۔

Related posts