یونیورسٹی آف نارووال میں بابا گرونانک چیئر کے قیام کا اعلان

نارووال (نیوز لائن) یونیورسٹی آف نارووال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود نے کہا ہے کہ کرتارپور کوریڈور کے قیام سے نہ صرف بین المذاہب ہم آہنگی کو ٖ فروغ ملے گا بلکہ سماجی و اقتصادی ترقی کے نئے راستے کھلیں گے، وائس چانسلر نے بابا گرونانک کی تعلیمات پر تحقیق و تالیف اور اس کے فروغ کے لئے یونیورسٹی آف نارووال میں ’باباگرونانک چیئر‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا، ان خیا لات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف نارووال میں ’باباگرونانک کی تعلیمات اور مذہبی ہم آہنگی‘ کے موضوع پر منعقدہ مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوے کیا۔ یونیورسٹی میں منعقدہ ان مقابلوں میں ضلع بھرکے اکانوے تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس چیئر میں اعلی تعلیم یافتہ پروفیسرز کو تعینات کیا جاے گا تاکہ اس موضوع پر تحقیق،کتابت کے سلسے میں ہر قسم کی سہولیات میسر ہو نگی پروفیسرڈاکٹرطارق محمود نے کرتارپور کوریڈور کو ’پیس کوریڈور‘ قرار دیتے ہوے کہا کہ یہ حکومت کا ایک احسن قدم ہے جس کی وجہ سے ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا اور اس سلسلے میں یونیورسٹی آف نارووال اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی معروف سکھ رہنما و سابق رکن پنجاب اسمبلی سردار رمیش سنگھ اروڑانے کہا کہ بابا گرونانک جی نے تمام زندگی انسانیت کا درس دیا اور بابا جی اپنی شخصی انفرادیت اور بلند فکری کی بدولت عالم انسانیت میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، انہوں نے بتایا دربار کرتارپور صاحب دنیا کا سب سے بڑا گرردوارہ بن چکا ہے اور کرتارپور کوریڈور کے قیام سے پوری دنیا کی سکھ برادری کا ایک بڑا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، سردار رمیش سنگھ اڑوڑا نے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے یونیورسٹی آف نارووال کے کردار کو سراہا۔ تقریب سے مقبوضہ کشمیر سے تشریف لانے والے چیرمین سکھ انٹلیکچول فورم سردار نرندن سنگھ خالصہ اور ماہر تعلیم ثمرن کور صاحبہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Related posts