علم‘ سوچ‘ دوستی‘بھائی چارے کی کوئی سرحد نہیں ہوتی: ڈاکٹر رضوان

فیصل آباد (نیوز لائن) جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ تاریخ و پاکستان سٹڈیز کے انچارج ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے کہا ہے کہ علم‘ سوچ‘ دوستی اور بھائی چارے کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ پاکستان نے کرتار پور راہداری قائم کرکے نہ صرف سکھ قوم کو اپنے مقدس مقام تک رسائی دی ہے بلکہ تاریخ وکلچر کو محفوظ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بابا گورونانک کی 550ویں سالگرہ‘ پاکستان میں سکھ کلچر اور کرتارپور راہداری کے تناظر میں شعبہ تاریخ و پاکستان سٹڈیز میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کا کہنا تھا کہ بابا گورونانک‘ علامہ اقبال‘ بابا فرید اور ہمارے دیگر سکالرز ہمیشہ امن‘ محبت اور بھائی چارے کا درس دیتے رہے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے شدید ترین مخالف تھے۔ انہوں نے آخری لمحات تک کوشش کی کہ پنجاب تقسیم نہ ہو۔ پنجاب کی تاریخ ایک ہے‘ یہاں کا کلچر سانجھا ہے‘ یہاں کی رسومات اور سماجی اطوار ایک جیسے ہیں۔ کرتار پور راہداری بننے سے بھارتی پنجاب کے سکھوں کو امن اور دوستی کا پیغام جائے گا۔ کرتار پور راہدری بنا کر موجودہ حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے جو یقینی طور پر تحسین کے لائق ہے۔ اس موقع پر بھارتی نژاد امریکی سکھ ڈاکٹر دلویر سنگھ پنوں نے کہا کہ پاکستان آنا ہر سکھ کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا ہوتی ہے۔ سکھوں کیلئے پاکستان کے سکھ مذہبی مقامات بہت مقدس اور اہم ہیں۔ معروف سوشل سکالر کورین وحید نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ اور تہذیب 1947 سے نہیں ہے۔ یہ ہزاروں سال پرانی اورموہنجو دڑو اور ہڑپہ کی وارث تہذیب اور تاریخ ہے۔ تاریخ کو دورانئے‘ وقت اور مذہب کے کھانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں کی تاریخی عمارتیں جس بھی دورانئے میں بنائی گئیں وہ یہاں کی تاریخ اور ورثے کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کی حفاظت کی جانی چاہئے۔ ڈاکٹر گورمیت کور نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرتار پور راہدری کا قیام خوش آئند اور پنجاب کی ثقافت کی تقسیم ختم کرنے کی کوشش ہے تاہم کرتار پور گوردوارے کو مصنوعی رنگوں میں رنگنے کی بجائے اس کی اصلی شکل بحال رکھی جانی چاہئے۔ معروف پنجابی شاعر بابا نجمی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستانی امن اور بھائی چارے کی بات کرنے والے لوگ ہیں۔ پنجابی زبان کی معلوم تاریخ ایک ہزار سال پرانی ہے۔ ہمیں پنجاب کے سانجھے کلچر کے فروغ کیلئے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ کانفرنس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری حامد یٰسین‘ سماجی تنظیم”عوام پاکستان“کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نازیہ سردار‘ نسیم انتھونی‘ نورالامین‘ شعبہ تاریخ و پاکستان سٹڈیز کے اساتذہ ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق،ڈاکٹر وارث،ڈاکٹر نجیب الرحمان، ڈاکٹر عظمت اللہ اور توحید چٹھہ نے بھی شرکت کی۔

Related posts