جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے بی ایس پنجابی‘ فارسی‘ عربی‘ مصوری فارغ

فیصل آباد (احمد یٰسین) جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں بی ایس کی سطح پر پنجابی‘ فارسی‘ عربی اور مصوری فارغ ہوگئی ہیں۔ جبکہ اسلامک سٹڈیز کا مضمون بھی ڈانواں ڈول ہے۔ کلاس کیلئے بنائی گئی پالیسی پر پورا نہ اترنے والے مضامین میں داخلہ لینے میں کامیاب ہونیوالے طلباء و طالبات کو دوسرے مضامین میں ٹرانسفر کئے جانے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔ نیوز لائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد کمال نے ڈینز‘ ڈیپارٹمنٹ سربراہان اور سینئر مینجمنٹ کے ساتھ مشاورت کے بعد ایڈ میشن پالیسی میں ترامیم کی ہیں۔ نئی ایڈمیشن پالیسی کے مطابق پی ایچ ڈی میں پانچ طلبہ سے کم کی کلاس نہیں ہوگی۔ پانچ طلبہ سے کم کی کلاس پر مذکورہ مضمون میں پی ایچ ڈی کی کلاسز نہیں لی جائیں گی۔ ایم فل کی کلاس 10سے کم نہیں ہو سکے گی جبکہ بی ایس کیلئے کلاس کا معیار کم سے کم 25طلبہ رکھا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق مارننگ میں چار اور ایوننگ میں دو مضامین میں بی ایس کے داخلے 25سے کم رہے ہیں۔ ریکارڈ میں سامنے آیا کہ نوجوان نسل کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے مضامین میں سرفہرست بی ایس مصوری (ایوننگ) کی کلاس رہی۔ اس مضمون کیلئے کسی ایک بھی طالب علم نے فیس جمع نہیں کروائی اگرچہ بی ایس پینٹنگ ایوننگ میں داخلہ کیلئے 19طلبہ نے داخلہ فارم جمع کروایا تھا اور ان سب کو ہی داخلے کا اہل قرار دیدیا گیا تھا مگر کسی ایک نے بھی فیس جمع کروانے کی زحمت نہ کی۔اس فہرست میں دوسری پوزیشن صرف ایک طالبہ طوبیٰ ظفر کے داخلہ کے ساتھ شہرہ آفاق عربی نے حاصل کی۔ تیسری پوزیشن تین طالب علموں غلام رضا‘ بابر نصیر‘ اور احمد اشرف کے داخلہ فیس جمع کروانے کے ساتھ اس خطے کی زبان پنجابی کو ملی۔ اہل فارس کی ماں بولی فارسی کو چوتھی پوزیشن ملی۔ فارسی میں ایک طالبہ سمیت پانچ طلبہ نے داخلہ فیس جمع کروائی تھی۔ بی ایس مصوری (پینٹنگ) کی مارننگ کی کلاس بھی مطلوبہ 25طلبہ کا اعتماد حاصل نہ کرسکی۔ اس میں صرف 19طلبہ نے فیس جمع کروائی۔ اسلامک سٹڈیز ایوننگ کی کلاس میں بھی صرف 15طلبہ نے فیس جمع کروائی ہے جبکہ آٹھ طلبہ اس کیلئے ویٹنگ لسٹ میں شامل ہیں۔ تاہم ان سب کے داخلہ فیس جمع کروانے پر بھی اسلامک سٹڈیز مطلوبہ 25طلبہ کی تعداد تک نہیں پہنچ پاتا۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد کمال کی ہدائت پر بی ایس (مارننگ) میں پنجابی‘ عربی اور فارسی جبکہ ایوننگ میں بی ایس مصوری (پینٹنگ) کی کلاسز ختم کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ ان مضامین میں داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کو دوسرے مضامین میں ٹرانسفر کرنے کی ہدائت کردی گئی ہے۔ ٹرانسفر نہ کروانے والے طلبہ کو جمع کروائی گئی داخلہ فیس واپس لینے کا آپشن بھی دیا جا رہا ہے۔داخلہ کیلئے مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والے ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان اسماء غلام رسول(پنجابی)‘ وجاہت علی(فائن آرٹس)‘ غلام شمس الرحمان (اسلامک سٹیڈیز و عربی)‘ ڈاکٹر غلام اکبر (فارسی)کو اظہار وجوہ کے نوٹس بھی جاری کئے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فارسی اور پنجابی ڈیپارٹمنٹ ایم فل کیلئے مقرر کی گئی تعداد 10طلبہ کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پنجاب میں صرف پانچ اور فارسی میں صرف ایک طالب علم نے ایم فل کیلئے داخلہ لیا ہے۔ وائس چانسلر ان داخلوں کی بھی منسوخ کرنے کے حامی تھے مگر کلاسز شروع ہوجانے کی وجہ سے ان کا داخلہ منسوخ نہیں کیا گیا۔ یونیورسٹی کے متعدد ڈیپارٹمنٹ پی ایچ ڈی کیلئے مقرر کئے گئے کم سے کم پانچ طلبہ کے معیار پر بھی پورا نہیں اتر سکے۔ پی ایچ ڈی کے طلبہ کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہنے والوں میں باٹنی دو طلبہ کے ساتھ سرفہرست ہے‘ فارماسوٹیکل میں تین‘ فزیالوجی اور عربی چار چار طلبہ کے ساتھ مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن پر براجمان ہوئے۔ انوائرمینٹل سائنسز اور فارماکالوجی صرف پانچ پانچ طلبہ کے ساتھ کم ترین معیار سے نیچے گرنے میں بال بال بچ سکے۔ تاہم پی ایچ ڈی کی کلاسز شروع ہوجانے کی وجہ سے وائس چانسلر نے ان کلاسز کو بھی جاری رکھنے کی اجازت دیدی۔ تاہم اس حوالے سے تمام شعبہ جات کے سربراہان کو واضح کردیا گیا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال میں کم ترین معیار سے نیچے داخلہ ہونے پر کلاسز شروع کروانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

Related posts