جی سی یونیورسٹی فیصل آباد: ڈائریکٹر کیو ای سی بابک محمود کا خصوصی انٹرویو

گورنمنٹ کا لج یونیورسٹی فیصل آباد کا شمار پاکستان کی چند ایک بہترین جامعات میں کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی لحاظ سے اس ادارے کو لائلپور اور اس کے ارد گرد کے خطے میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یونیورسٹی بننے سے قبل بھی اس ادارے کا شمار اس خطے کے اہم ترین تعلیمی اداروں میں ہوتا تھا۔ اس ادارے کا سفر ایک سو بائیس سال قبل ایک سکول کی حیثیت سے شروع ہوا تھا۔ بطور کالج پچانوے برس تک گیان بانٹا اور سترہ سال پہلے بطور جامعہ اپنے سفر کا آغاز کیا۔ 1897 میں ایک پرائمری سکول کی حیثیت سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے ادارے کو 1924میں کالج بنایا گیا۔”گورنمنٹ کالج فیصل آباد“ کا ڈنکا پورے پنجاب میں بجتا رہا۔ یہاں کے ہونہار طلبہ نے ہر شعبہ زندگی میں ملک کا نام روشن کیا۔ سال 2002 میں اس وقت کے گورنر پنجاب خالد مقبول کی کوششوں سے اسے یونیورسٹی کا درجہ دے کر ڈگری کے اجراء کا اختیار سونپ دیا گیا۔یونیورسٹی بننے کے بعد اس ادارے نے ہر شعبہ میں خدمات سرانجام دی ہیں تاہم کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے صرف 17برس میں اس کے کام کو سالہا سال سے تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے والی جامعات بھی تسلیم کرتی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے جی سی یو ایف کے کیو ای سی کے سربراہ کے طور پر خدمات یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر بابک محمود سرانجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر بابک محمود کے ڈائریکٹر کیو ای سی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے معاملات میں بتدریج بہتری آئی ہے۔ اس کا اعتراف یونیورسٹی میں ہر سطح پر کیا جا رہا ہے۔

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں کوالٹی ایجوکیشن یقینی بنانے اور اس معاملے میں کیو ای سی کے کردار کے حوالے سے ”نیوز لائن“ نے ڈاکٹر بابک محمود سے خصوصی گفتگو کی جو نذر قارئین ہے۔

انٹرویو: احمد یٰسین۔ نورالامین

کوالٹی ایجوکیشن کو کسی ایک انڈیکیٹر پر ماپا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کو ایک جملے میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ کوالٹی ایجوکیشن کیلئے انفراسٹرکچر کے ساتھ طلبہ کی لگن‘ اساتذہ کی محنت‘ ٹائمنگ‘ تدریس کا طریقہ کار‘ تدریسی مواد کے ذرائع‘ کتاب کا استعمال‘ لیکچر کا ماحول سمیت دیگر کئی ایک عوامل کا بہتر بنانا ضروری ہے۔ بتدریج بہتری کے عمل کو ہم کوالٹی ایجوکیشن کہہ سکتے ہیں۔ کوالٹی ایجوکیشن اسی کا نام ہے کہ طلبہ کی علمی صلاحیتوں میں بتدریج بہتری آتی جائے۔ اساتذہ کے تدریسی عمل میں بتدریج بہتری آتی جائے۔ بہتر سے بہتر تدریسی مواد بچوں کو ملتا رہے۔ اساتذہ کی کوششوں سے طلبہ میں کتب بینی کی عادت مزید بہتر ہوتی جائے۔ اساتذہ کی طرف سے کلاس چھوڑنے کا رجحان ختم ہوجائے۔ طلبہ کو سوچنے پر مجبور کردیا جائے۔ طلبہ مختلف نکات پر سوچ کر معاملات کی بہتری کیلئے تجاویز دینے لگیں تویہی کامیابی کے سفر کا آغاز ہے۔ اس سب کو ہی کوالٹی ایجوکیشن کہہ سکتے ہیں اور یہ عمل جی سی یونیورسٹی میں بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے۔

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے ہی ایس ڈی جیزچار اور وژن 2025کا بھی حصہ ہے۔ ایس ڈی جیز میں کوالٹی ایجوکیشن کے لئے متعارف کروائے گئے انڈیکیٹرز اور طریقہ کار پر ہم پہلے ہی عمل کررہے ہیں اور انہی انڈیکیٹرز کی بنیاد پر یونیورسٹی میں کوالٹی ایجوکیشن یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایس ڈی جیز میں رکھے گئے تمام انڈیکیٹرز ہم نے پہلے ہی یونیورسٹی میں مانیٹرنگ کیلئے رکھے ہوئے ہیں۔ اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے ایس ڈی جیز اور وژن 2025کے اہداف حاصل کرنے کی کوششوں میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سرفہرست ہے۔

جی سی یو ایف کا کیو ای سی اپنی ذمہ داریاں کس قدر درست انداز میں سرانجام دے رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوسری جامعات ہمیں کیو ای سی ٹریننگ کیلئے بلا رہی ہیں۔ ہمارے کیو ای سی سٹاف کو ماسٹر ٹرینرز میں رکھا گیا ہے۔ متعدد جامعات کوالٹی ایجوکیشن مانیٹرنگ کیلئے ہمارے ماڈل کو اپنا رہی ہیں۔ میں خود بھی اور ہمارا دیگر سٹاف بھی دوسری جامعات میں جا کر وہاں کے کیو ای سی کے لوگوں کو ٹریننگ دے چکا ہے۔ تربیتی سیشن میں بھی اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے بھی ہم اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ اساتذہ کے حوالے سے غلط تاثر کسی بھی مرحلے پر پیدا نہ ہو۔

اساتذہ ادارے کا سب سے اہم اور محترم حصہ ہیں۔ کیو ای سی مانیٹرنگ کے دوران اساتذہ کی عزت و تکریم یقینی بنانے پر ہم خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ محض کیو ای سی مانیٹرنگ ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اساتذہ کی عزت و تکریم یقینی بنانا بھی لازم ہے۔ کلاسز کی چیکنگ کے دوران اساتذہ کے لیکچرز متاثر نہ ہونا یقینی بنایا جاتا ہے۔ کلاسز میں خلل ڈالنے کی سختی سے ممانعت ہے۔ کلاسز خالی نہ رہیں۔ اساتذہ کلاس کو خالی نہ چھوڑیں۔ پڑھائی یقینی بنائیں۔ اس پر فوکس کیا جاتا ہے۔ تدریسی مواد‘ تدریسی طریقہ کار اور دیگر عوامل کے حوالے سے اساتذہ کی ٹریننگ ورکشاپس کرواتے ہیں۔ ہم براہ راست طلبہ اور اساتذہ کے درمیان حائل ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔ تدریسی عمل کی مانیٹرنگ کرتے ہیں ذاتی طور پر اساتذہ کی نگرانی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جی سی یونیورسٹی میں تعلیمی معیار بھی بہتر ہورہا ہے‘ کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے مانیٹرنگ کا عمل بھی خوش اسلوبی سے چل رہا ہے اور اساتذہ کو بھی کیو ای سی سٹاف سے کوئی ایسی شکائت نہیں ہے۔ اساتذہ کی مانیٹرنگ کے عمل کو بھی رازداری سے سرانجام دیا جاتا ہے اور انہیں اپنی غلطی کا محترمانہ انداز میں احساس دلوا کر صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کیو ای سی کے حوالے سے ہمارا سیلف اسیسمنٹ کا طریقہ کار بھی انتہائی کارآمد ثابت ہوا ہے۔ طلبہ سے نصاب‘ تدریسی میٹریل اور اساتذہ کے حوالے سے اسیسمنٹ کروائی جاتی ہے۔ اساتذہ سے بھی نصاب کے حوالے سے ایسیمنٹ کروائی جاتی ہے۔ سیلف اسیسمنٹ میں ہی انتہائی اہم یہ بھی ہے کہ ان رپورٹس کے بارے میں کسی کی بھی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی۔ اساتذہ اور طلبہ کی اسیسمنٹ رپورٹس کی روشنی میں بہتری کیلئے کام کیا جاتا ہے تاہم یہ ظاہر نہیں کیا جاتا کہ اسیسمنٹ میں کون سی سفارشات کس نے ظاہر کی ہیں۔ اسیسمنٹ سسٹم میں شناخت ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے ہی اسیسمنٹ رپورٹس بتدریج بہتر ہوتی جارہی ہیں۔

کیو ای سی صرف ایک عمل درآمدی شعبہ ہے۔ ہم پالیسی تشکیل نہیں دیتے۔ سکیم آف سٹڈی (نصاب) ہماری بنائی ہوئی نہیں ہے۔ امتحانی نظام اور تدریسی سسٹم ہمارے تشکیل کردہ نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ ہمیں بنا ہوا ملتا ہے۔ اسی سب کو فالو کرتے ہوئے ہم نے بہتری کی گنجائش نکالنی ہے۔اگر نصاب‘ امتحانی نظام‘ تدریسی سسٹم میں کسی جگہ کوئی کمی بیشی ہے بھی تو ہم اسے درست کرنے کیلئے سفارشات دے سکتے ہیں اور ہم ایسا کرتے بھی ہیں۔ کوالٹی ایجوکیشن کیلئے ہم سفارشات دیتے بھی رہتے ہیں۔

نصاب کی تشکیل میں ہمارا براہ راست تو کوئی عمل دخل نہیں ہے لیکن مارکیٹ ڈیمانڈ اور مشن سٹیٹمنٹ کے حصول کے حوالے سے ہم کام کرتے ہیں۔ کسی بھی کورس یا سبجیکٹ کی مارکیٹ ڈیمانڈ کو جانچ کر مارکیٹ کے نمائندوں کی سفارشات کو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ تک پہنچاتے ہیں۔ بعض اوقات نصاب میں مجوزہ تبدیلیوں کیلئے متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان اور بی او ایس کے نمائندوں کے ساتھ مارکیٹ ڈیمانڈ تشکیل دینے والوں کی ملاقات بھی کروا دیتے ہیں تاکہ نصاب میں بہتری لا کر مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا اور طلبہ کی بہتر تیاری ممکن بنائی جا سکے۔

کتاب کے بغیر کوئی قوم اور معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ لیکن ہمارے معاشرے میں مجموعی طورپر کتب بینی کم ہورہی ہے۔ مجموعی طور پر فرد کا کتاب سے تعلق کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے۔ یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے۔ پڑے لکھے لوگوں کو کتاب کی طرف مائل کرنا ہوگا۔ مادری زبانوں کا فروغ اور دیگر زبانوں کی کتب کے اپنی زبانوں میں تراجم کی بھی انتہائی اہمیت ہے۔مادری زبان کو فروغ دئیے بغیر دیگر اقوام کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے اور افراد کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر اجاگر کرنے میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ اس سلسلے میں ہمیں سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران میں دنیا میں کہیں بھی چھپنے والی اہم کتب کا 24گھنٹے میں ترجمہ سامنے آجاتا ہے۔ وہاں کے لوگ دوسری زبان کی کتب کو اپنی مادری زبان میں پڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح جرمن‘ ڈچ اور متعدد دیگر اقوام بھی غیرملکی زبانوں کی کتب کی اپنی زبان میں تراجم پر فوکس کرتے ہیں۔ ہمیں بھی اس سلسلے میں کام کرنا ہوگا۔ مادری زبانوں کو فروغ دے کر اور صلاحیتوں کو غیرملکی زبان پر عبور کے پیمانے پر جانچنے کی سوچ کی حوصلہ شکنی کرکے ہی ہم ترقی کرسکتے ہیں۔ اگر ہم ترقی کے میدان میں دیگر اقوام کو نیچا دکھانے چاہتے ہیں تو کتاب اور فرد کا ٹوٹتا ہوا تعلق مضبوط بنانا ہو گا اور مقامی زبانوں کے فروغ کیلئے تیزی سے کام کرنا ہوگا۔

ڈائیلاگ کا بھی ترقی کے عمل میں انتہائی اہم کردار ہے۔ ڈائیلاگ کے بغیر صلاحیتیں جلا پا سکتی ہیں نہ مفاہمت کے راستے ہموار ہوسکتے ہیں۔ ڈائیلاگ ہمیشہ اختلافی نکتہ نظر سے ہی آگے بڑھتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ڈئیلاگ سے دور بھاگنے والوں میں شامل ہیں۔ ہمارے اکثریتی تعلیمی اداروں میں ڈائیلاگ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ بچے کو سوچنے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی۔ایسا کرکے ہم ڈائیلاگ اور مفاہمت کا راستی ہی نہیں روکتے بچے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی دبا دیتے ہیں۔ اس صورتحال کے مجموعی نتائج اچھے نہیں آرہے۔ انفرادی طور پر کند ذہنی کے ساتھ مجموعی طور پر معاشرے میں انتہا پسند سوچ جنم لینے کی ایک بڑی وجہ ڈائیلاگ کی روائت کا دم توڑنا بھی ہے۔ مغل شہنشاہ اکبر اعظم کے مذہبی رجحانات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس نے ڈائیلاگ کا عمل شروع کرکے اس وقت کے معاشرے میں جو افہام و تفہیم پیدا کی اور مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمانہ انداز میں بیٹھنے کا موقع دیا اس کی تعریف نہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ ڈائیلاگ کا ہی اثر تھا کہ اکبر اعظم کے پورے دور حکومت میں مذہب کی بنیاد پر کہیں کوئی جھگڑا نظر نہیں آتا۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کے مل جل کر رہنے اور مفاہمت کے سماجی روئیے فروغ پاتے نظر آتے ہیں۔ آج ہم انتہا پسندی کے حوالے سے جن مسائل کا شکار ہیں۔ اس کیلئے ضرورت ہے کہ ڈائیلاگ کو فروغ دیا جائے۔ کلاس روم میں بچے کو ڈائیلاگ کی زیادہ سے زیادہ اجازت دی جائے۔ اختلاف رائے کو دشمنی سمجھنے کی سوچ کو بدلا جائے۔ اختلاف رائے کو ڈائیلاگ کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ رائے میں اختلاف کو دبانے اور زبردستی اپنی رائے دوسروں پر تھوپنے کی سختی کے ساتھ حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ ڈائیلاگ کے عمل اور دلیل کی زبان سمجھنے کا طور اپنانا ہوگا۔ اس کے بغیر پرامن بقائے باہمی کا ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ اب بھی ہم نہ سنبھلے اور ڈائیلاگ کے عمل اور دلیل کی زبان کو فروغ نہ دیا تو انتہا پسندی کا عفریت ہمارے معاشرے کو بہا لے جائے گا۔

Related posts