ہوم اکنامکس صرف امور خانہ داری نہیں: ڈاکٹر فرحانہ نوشین کا خصوصی انٹرویو

انسان ابتدائے آفرینش سے معاشرت پسند ہے۔ سماج کو سمجھنے اور سجانے میں خصوصی دلچسپی لیتا ہے۔ مل جل کر رہنے اور اور سماجی معاہدے کے تحت گھر اورخاندان کی تشکیل بھی ابتدائے آفرینش سے موجود ہے۔ سماجی معاہدے کے تحت ہی خاندان کے بنانے او ر گھرکے معاملات چلانے کیلئے مرد اور عورت نے باہمی تعاون کی راہ اپنائی اور مل جل کر چلنے کی کوشش کرتے رہے۔ گھراور خاندان کے معاشرتی و معاشی معاملات کو چلانے کو ہی جدید دور میں ہوم اکنامکس کا نام دیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہوم اکنامکس باقاعدہ سائنس کا درجہ حاصل کرتی گئی۔ اب تو ہوم اکنامکس کے معاملات کی تعلیم کیلئے باقاعدہ الگ سے یونیورسٹی بن چکی ہے۔

جامعہ زرعیہ فیصل آباد چھے دہائیاں قبل بن چکی تھی مگر صرف زرعی علوم کی ترویج تک محدود تھی۔ جنرل علوم کی ترویج کیلئے فیصل آباد میں پہلی یونیورسٹی ”جی سی یونیورسٹی فیصل آباد“ بنی تو معاشرے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے 2004 میں شعبہ ہوم اکنامکس قائم کیا۔ اس کی پہلی انچارج فرحانہ نوشین بنیں۔ 2007میں یونیورسٹی نے ایک سینئر ٹیچر ڈاکٹر نگہت بھٹی کی بطور فیکلٹی ممبر خدمات حاصل کیں اور انہیں شعبہ ہوم اکنامکس کی سربراہی سونپ دی۔2011میں ہوم اکنامکس کو فوڈ سائنس کے ساتھ ضم کردیا گیا اور اس کا نام ہوم اینڈ فوڈ سائنس کردیا گیا۔ بعد ازاں اس شعبے کو ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دیا گیا تو شعبہ ہوم اکنامکس کی الگ حیثیت میں بحالی ہوئی۔ ہوم اکنامکس کی پہلی انچارج ڈاکٹر فرحانہ نوشین اس دورانئے میں پوسٹ ڈاک کرنے کے علاوہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کئی سال پڑھانے کے بعد واپس آچکی تھی تو شعبہ کی سربراہی دوبارہ انہیں سونپ دی گئی۔جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ ہوم اکنامکس کی انچارج ڈاکٹر فرحانہ نوشین کے ساتھ ”نیوز لائن“ نے ایک نشست کا اہتمام کیا۔ اس دوران ڈاکٹر فرحانہ کے ساتھ ہوم اکنامکس کے بطور مضمون دائرہ کار‘ اس سبجیکٹ میں لڑکوں کیلئے جگہ‘معاشرے کیلئے افادیت‘ اعلیٰ تعلیم‘ کوالٹی ایجوکیشن‘ ریسرچ کلچر‘ طلبہ کے رجحانات اور دیگر حوالوں سے گفتگو ہوئی جو نذر قارئین ہے۔

انٹرویو: احمد یٰسین۔ نورالامین

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے بہت مختصر عرصے میں اپنا ایک خاص مقام بنایا ہے۔ بطور یونیورسٹی اس ادارے کی تاریخ صرف سترہ برس کی ہے مگر اس عرصے میں ہی جی سی یو ایف نے اپنا وہ مقام بنا لیا ہے جو کئی ادارے دہائیوں میں حاصل نہیں کر پائے۔جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی خوش قسمتی ہے کہ اسے بطور سربراہ اچھے سربراہ ملے۔ ڈاکٹر آصف اقبال نے اس ادارے کو کالج سے یونیورسٹی بنانے اور اس کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر زیدی‘ ڈاکٹر اور ڈاکٹر محمد علی شاہ نے بھی یونیورسٹی کے آگے لے جانے میں اپنی بھرپور کوشش کی۔ڈاکٹر شاہد محبوب اور ڈاکٹر ناصر امین اگرچہ مختصر عرصے کیلئے آئے مگر ان کے یونیورسٹی کی بہتری کیلئے اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اب جبکہ ایک سنیئر ٹیچر ڈاکٹر شاہد کمال بطور وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی کی سربراہی کررہے ہیں تو یونیورسٹی کے آگے لے جانے کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آچکی ہیں۔ ان کے گزشتہ چند ماہ کے اقدامات اس امر کا ثبوت ہیں کہ وہ یونیورسٹی کو ایک آگے بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ امید رکھی جانی چاہئے کہ وہ یونیورسٹی کومثالی ادارہ بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

سماجی روئیوں کے حوالے سے ہمارا معاشرہ دوہرے پن کا شکار ہے۔ لوگ اپنے لئے آسانی اور دوسروں کیلئے اصول چاہتے ہیں۔ طبقاتی تقسیم صرف ہمارے معاشرے میں ہی نہیں ہمارے ذہنوں میں در آئی ہے۔ طبقاتی تقسیم اور کلاس سسٹم کے خاتمے کیلئے کام کرنا سب کی ذمہ داری ہے اس کے بغیر معاشرے کو درست ڈگر پر نہیں لایا جا سکتا۔ تعلیمی اداروں اور اساتذہ پر بھی اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ نصاب کو بھی اس حوالے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ صرف اعلیٰ تعلیم کی سطح پر ہی نہیں بلکہ بنیادی تعلیم کی سطح پر بھی کلاس سسٹم اور طبقاتی معیارات کا خاتمہ ضروری ہے۔ ایک سسٹم اور ایک نصاب کے بغیر معاشرے سے طبقاتی تقسیم اور دوہرے پن کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔یونیورسٹیوں‘ کالجز اور دیگر تعلیمی مراکز کو طبقاتی تقسیم کا حصہ بننے سے گریز اور اساتذہ کو طبقاتی تقسیم کے خاتمے کیلئے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔

خواتین اور مردوں کے کردار اور ذمہ داریوں کے مخصوص تصورات نے بھی ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم اب کسی قدر بہتری آنی شروع ہوئی ہے۔ خواتین کی ملازمت کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرے کو درست سمت کی طرف لانے اور مردوعورت کے کردار بارے مخصوص مگر غلط نظریات کو کم کرنیکا باعث بن رہا ہے۔ صورتحال بہتری کی طرف تو گامزن ہے مگر اتنی اچھی نہیں ہے کہ اسے مثالی گردانا جا سکے۔ ابھی بھی خواتین کو ملازمت سے واپس آکر گھریلو ذمہ داریاں پوری کرنا پڑتی ہیں۔ مرد فارغ بیٹھ کر بھی گھریلو ذمہ داریوں میں خواتین کا ساتھ نبھانے سے گریزاں رہتا ہے۔ ابھی بھی بہت ضرورت ہے کہ مردوعورت کے کردار کے حوالے سے معاشرتی نظریات کی بہتر کرنے کیلئے کام کیا جائے۔ ایک وقت تھا کہ ہوم اکنامکس صرف لڑکیوں کیلئے مخصوص کردیا جاتا تھا۔ یہ صرف لڑکیوں کے سکول‘ کالج تک محدود تھا مگر اب لڑکوں کی بڑی تعداد بھی ہوم اکنامکس کی طرف آرہی ہے۔ جس کی بڑی مثال ہمارے شعبے میں لڑکوں کا بڑی تعداد میں ایڈمشن لینا اور ڈگری مکمل کرنا ہے۔

ہوم اکنامکس صرف امور خانہ داری کا نام نہیں ہے۔ یہ باقاعدہ ایک سائنس ہے تاہم امور خانہ داری اس کا ایک اہم حصہ ضرور ہے۔ ہوم اکنامکس اپلائیڈ سائنس ہے اور ایک وسیع فیلڈ ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ‘ فوڈ اینڈ غذائیت‘ آرٹ‘ انٹیرئیر ڈیزائننگ‘ فیشن اینڈ سٹائل جیست شعبہ جات مل کر ہوم اکنامکس بناتے ہیں۔ ان پانچ شعبہ جات کو ہم ڈیل کرتے ہیں۔ طلبہ کو ان پانچوں کے حوالے سے تربیت دیتے ہیں۔ جب ہم بچوں کو ہیومن ڈویلپمنٹ پڑھا رہے ہوتے ہیں تو انہیں اپنی شخصیت کو نکھارنے اور ذاتی تربیت کے ساتھ دوسروں‘ خاص طور پر فیملی ممبران‘ کی ڈویلپمنٹ اور بہتری کا ہنر سکھا رہے ہوتے ہیں۔ یہ انسانوں کی سائنس ہے۔ اس میں ہم انہیں انسان کی تربیت اور سماج میں اپنا کردار عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا علم دیتے ہیں۔ اس کی ضرورت صرف لڑکیوں کو نہیں ہے۔ شخصیت کو نکھارنے اور سماج کا کارآمد حصہ بننے کا ہنر سیکھنا تو ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔ فوڈ اینڈ غذائیت میں صرف کھانا پکانے کا نہیں بتایا جاتا۔ اس میں کھانے کی غذائیت اور مختلف صورتحال اور مختلف ٹائمنگ میں مختلف طرح کی غذائیت والی فوڈ لینے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ خواتین کیلئے یہ انتہائی اہمیت کا حامل کہ وہ اپنی فیملی کا اچھے طریقے سے خیال رکھ سکے لیکن مردوں کو بھی اپنی غذا اور اس کی غذائیت کے حوالے سے معلومات رکھنا ممنوع نہیں ہے۔ فیشن انڈسٹری تو لڑکوں سے بھری پڑی ہے۔ لڑکیاں بھی اس شعبے میں نام بنا رہی ہیں مگر فیشن انڈسٹری میں لڑکوں کی بہت بڑی تعداد اپنا آپ منوا چکی ہے۔ آرٹ اور انٹیرئیر ڈیزائننگ میں بھی خواتین اور مردوں کی تفریق نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے اپنے ملک میں آرٹ میں مردوں نے زیادہ نام کمایا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا غلط ہو گا کہ کہ ہوم اکنامکس لڑکیوں کا شعبہ ہے۔ اس میں لڑکوں کیلئے بھی اتنا ہی سکوپ ہے جتنا لڑکیوں کیلئے ہے۔معاشرتی خدوخال کو مد نظر رکھیں تو شائد لڑکیوں کی نسبت لڑکوں کیلئے اس میں زیادہ مواقع ہوں۔

پاکستانی دماغ کو دنیا مانتی ہے۔ پاکستانیوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں دی جاتی۔”رٹہ“ کلچر نے ہمارے تعلیمی نظام کی بنیادیں کھوکھلی کردی ہیں۔ طلبہ کو”رٹے“لگوانا کوئی تعلیم نہیں ہے۔ انہیں گفتگو کا فن‘ اپنی بات کہنے اور دوسرے کے خیالات کا احترام کرنے کا فن بھی سکھایا جانا چاہئے۔اپنی بات کہنا جتنا ضروری ہے اتنا ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کی بات سنی جائے اور اس کے خیالات کا احترام کیا جائے۔ دلیل اور حوالوں کے ساتھ علمی انداز میں بحث ہی مسائل کے حل کی طرف لے جاسکتی ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ طلبہ کی ذہن سازی ہوتی ہے۔ طلبہ کے ذہن میں مختلف معاملات کے حوالے سے سوال سامنے آتے ہیں۔ ڈائیلاگ (باہمی تبادلہ خیال) سے ایک دوسرے کے خیالات سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور معاملات کی ذہنی سطح پر کھچڑی پکنے کی بجائے بہتری کے چانسز بڑھتے ہیں۔ میں تو سمجھتی ہوں کہ ٹیچرز کو سوالات کا اوپن ماحول دینا چاہئے۔ طلبہ کو سوال کرنے کے جتنے زیادہ مواقع ملیں گے اتنا ہی ان میں اعتماد آئے گا اور اسی قدر وہ اپنی ذات کے خول سے باہر آکر معاشرے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اعلیٰ تعلیم کے مراکز میں بچوں کے مابین ڈائیلاگ کی زیادہ سے زیادہ مواقع ہونا چاہئیں مگر یہ ڈائیلاگ صرف علمی معاملات پر رہنا چاہئے۔ بچوں کو باضابطہ ڈئیلاگ کے فن (اپنی بات دلیل کے ساتھ کہنے‘ دوسرے کی بات تحمل سے سننے‘ دلیل کا جواب دلیل سے دینے‘دوسروں کی سوچ اور گفتگو کا احترام کرنے)سے بھی آگاہی دینا بھی اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔طلبہ کو ہنر سکھانے اور علم سے مالا کرنے کیلئے مجھے یہاں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ میں کوشش کررہی ہوں کہ طلبہ کو علم سے مالا مال کرسکوں۔ انہیں رٹہ سسٹم سے ہٹ کر تعلیم دوں۔ انہیں سوچنے اور کرنے پر مجبور کروں۔ ہم اپنے تائیں بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ طلبہ کو ”رٹہ“ کلچر سے نکال سکیں یقینی طور پر ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔

کوالٹی ایجوکیشن ایک ہمہ جہتی معاملہ ہے۔کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے طلبہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مگر ہمارا طالب علم حصول علم کی لگن چھوڑ کر ڈگری کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ شارٹ کٹ کے ذریعے منزل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ مگر یہ مجموعی طور پر کوالٹی ایجوکیشن کو متاثر کررہا ہے۔کوالٹی ایک دم نہیں آتی۔ کوالٹی ایجوکیشن بتدریج ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ کوالٹی اس کا نام ہی ہے کہ بہتری آتی جائے۔کوالٹی اس کا نام بھی ہے کہ کچھ منفرد اور یکتا کرکے دکھایا جائے۔ انفرادیت کے ساتھ تعلیمی معاملات میں بتدریج بہتری ہی کوالٹی ایجوکیشن ہے۔ لمز اور کومسٹس جیسے اداروں کا نام اسی وجہ سے ہے کہ وہاں بچوں کو ”رٹہ“ کلچر سے نکال کر کچھ منفرد کرنے کی طرف لایا جاتا ہے۔ ”رٹہ“ کلچر یکسانیت کو جنم دیتا ہے جو کہ کوالٹی کے الٹ ہے۔ کوالٹی کیلئے یکسانیت کی بجائے منفرد کرنے کی طرف جانا ہوگا۔ کوالٹی ایجوکیشن کیلئے اساتذہ‘ ادارے‘ انفراسٹرکچر اور سسٹم کے ساتھ ڈائریکشن‘ پلاننگ‘ نصاب اور طریقہ تدریس بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔نصاب میں بھی برداشت اور سماج کے ساتھ چلنے کے اسباق شامل کئے جانے چاہئیں۔ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ پرائمری‘ سیکنڈری اور ہائیر لیول پر بھی نصاب کو بہتر بنانے کی ضرروت ہے۔استاد اور شاگرد کا باہمی تعلق اور رشتہ بھی اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ استاد اور طالب علم میں بے تکلفی ہونی چاہئے مگر تھوڑا فاصلہ بھی ضروری ہے۔ اتنی زیادہ بے تکلفی نہ ہوکہ استاد اور طالب علم کا فرق ہی مٹ جائے۔ دونوں کے مابین ماں باپ اور اوالاد جیسا تعلق ہونا چاہئے۔ استاد کو طالب علم کیلئے رول ماڈل ہونا چاہئے۔

طلبہ کو پڑھنے کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ یہ تاثر کہ رٹے لگا کر اور نوٹس کی ون نائٹ سٹڈی پاس کروا دینے کیلئے کافی ہوتی ہے‘ ختم کرنا ہو گا۔ طلبہ بھی بتدریج سستی اور کاہلی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ طالب علم کتاب اور حصول علم کی لگن سے دور ہوتا جارہا ہے جو مجموعی طور پر تعلیمی انحطاط کا باعث بن رہا ہے۔ اس سلسلے کو روکنا ہوگا۔ طلبہ کو کتاب کے مطالعے اور عملی کام کرنے کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ طلبہ کو نوٹس دینے کی بجائے کتب کے مطالعہ اور عملی طور پر کچھ کردکھانے کی طرف لارہے ہیں۔ اس سے وقتی طور پر طلبہ کو مشکل پیش آرہی ہے مگر مجموعی طور پر تعلیم کا معیار بلند ہوگا اور طلبہ کو بھی مستقبل میں اس کا بہت فائدہ ہوگا۔ بک ریڈنگ کے بغیر طلبہ کوالٹی ایجوکیشن ممکن ہی نہیں ہے۔ ٹیچرز ٹریننگ بھی اپنی جگہ ایک اہم معاملہ ہے۔ ہمارے یہاں پرائمری اور سیکنڈری سطح پر تو کسی نہ کسی حد تک ٹیچر ٹریننگ ہے مگر اعلیٰ تعلیم کی سطح پر ٹیچرز ٹریننگ کا تصور ہی نہیں ہے حالانکہ یونیورسٹیوں میں بھی اساتذہ کی ٹریننگ کروانے کا اہتمام ہونا چاہئے۔ٹیچرز کی ورکشاپس ہونی چاہئے۔ یونیورسٹیاں تحقیق کے سنٹر ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری یونیورسٹیوں میں ماضی میں اس معاملے کو نظر انداز رکھا گیا ہے۔ تاہم اب کسی حد تک بہتری آرہی ہے۔

Related posts