جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کو عالمی معیار کا بنانا چاہتا ہوں: ڈاکٹر شاہد کمال

فیصل آباد (احمد یٰسین : ندیم جاوید) جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال نے کہا کہ یونیورسٹیاں تعلیم و تحقیق کے مراکز ہوتی ہیںجبکہ ریسرچ بھی ایسی ہونی چاہئے جو مجموعی طور پر عوام الناس کو درپیش ملکی و عالمی سطح کے ایشوز حل کرنے میں مدد کرے ۔ ہم جی سی یونیورسٹی میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینے کیلئے ترجیحی اقدامات کررہے ہیں۔ کوشش کررہے ہیں کہ قومی و بین الاقوامی معاملات میں بہتری لانے والے موضوعات کو فوکس کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں پی ایچ ڈی پر فوکس کیا گیا ہے اس کی صورتحال بہترین کرنے کے بعد ایم فل کی سطح پر بھی تحقیق کے معیار کو عالمی سطح پر لانے کیلئے اقدمات کئے جائیں گے۔جبکہ فیکلٹی کو زیادہ سے زیادہ ریسرچ پراجیکٹ پر کام کرنے کی طرف راغب کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ نیوز لائن سے گفتگو کرتے ہوئے رئیس جامعہ نے کہا کہ جی سی یونیورسٹی میں ریسرچ کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے ہمارا ڈائریکٹوریٹ آف ایڈوانس سٹڈیز ترجیحی اقدامات اٹھا رہا ہے توقع ہے کہ بہت جلد یونیورسٹی کا تحقیقی معیار ہم عالمی تقاضوں کے مطابق کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یونیورسٹی میں طالب علم ہماری پہلی ترجیح ہے ہماری کوشش ہے کہ طلبہ کو کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے جبکہ تدریس اور تدریسی مواد کا معیار بھی بہتر بنایا جا سکے۔ الحاق شدہ کالجز کے معیار تعلیم اور امتحانی سسٹم کو درست کرنے کیلئے بھی کوشش کر رہے ہیں۔ سسٹم کی خامیوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اور اسے حل کرنے کیلئے بتدریج اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ اس کے نتائج بھی جلد سب کے سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں روٹیشن پالیسی لا ئی گئی ہے تاکہ ہر کوئی پرفارم کرنے کی کوشش کرے جبکہ بھی پوزیشن پر آنے والے کو پرفارم کرنے کیلئے تین سال کا مناسب وقت بھی ملے گا۔ اس کے باوجود کوئی پرفارم نہ کرسکے گا تو اس سے اس کی وجوہات پوچھنا پھر یونیورسٹی کا حق ہے۔ روٹیشن بھی اندھا دھند نہیں کی جائے گی تمام حالات و واقعات اور پرفارمنس کو مدنظر رکھ کر روٹیشن کی جائے گی۔ ڈاکٹر شاہد کمال کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کا تمام سٹاف میرے ساتھی ہیں۔ میں سب کو ساتھ لے کر چل رہا ہوں۔ اپنے تمام ساتھیوں کی میں دل سے قدر کرتا ہوں اور انہیں پورا احترام دیتا ہوں۔ خاص طور پر خواتین فیکلٹی و نان فیکلٹی سٹاف کو مناسب احترام دینا میں اپنے لئے لازم سمجھتا ہوں مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں سب کی غلط بیانیوں کا ساتھ دینے لگوں۔ کوئی بھی مسئلہ میرے سامنے آتا ہے تو اس کی مکمل چھان بین کرکے معاملے کو آگے لے کر جاتا ہوں۔ میرٹ کی خلاف ورزی خود کی نہ کسی کو کرنے دوں گا۔ یونیورسٹی کے اس سال ہونیوالے ایڈمشن سب کے سامنے ہیں ہم نے کوشش کی ہے کہ میرٹ کی کسی جگہ بھی خلاف ورزی نہ ہو۔ کسی کی حق شکنی نہ ہو اور نہ ہی کوئی اپنے حق سے محروم رہے۔ ایڈمشن میں میرٹ یقینی بنانے کے ساتھ غلطیوں اور انتظامی کوتاہیوں کو کم سے کم کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے ۔

وی سی نے کہا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد اس شہر کی ہے ۔ یہ اس شہر کے باسیوں کی ذمہ داری ہے کہ یونیورسٹی کو آگے کے کر جانے کیلئے ہماری مدد کریں۔ یونیورسٹی کی بہتری کیلئے میڈیا ہمارا ساتھ دے۔ یونیورسٹی کو عالمی معیار کا ادارہ بنانا ہمارا مشن ہے اس کیلئے فیصل آباد کے معززین ‘ عوام ‘ میڈیا ‘ سول سوسائٹی ہمارے ہاتھ مضبوط کرے ہم انہیں بہت اچھے نتائج دیں گے۔جی سی یوایف کو عالمی درجہ بندی میں لانے کا خواہاں ہوں اس کیلئے اپنی ذمہ داریاں ہم پوری کریں گے جبکہ اس شہر کے باسیوں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ یونیورسٹی میں عالمی معیار کی ریسرچ ‘ میرٹ کے فروغ اور نظام کی بہتری کیلئے ہمارا ساتھ دیںگے ہم اس کے بہترین نتائج یونیورسٹی کی عالمی درجہ میں بہتری کی صورت میں دیں گے۔

Related posts