زرعی یونیورسٹی: اقتدار کی رسہ کشی نے مادر علمی کومیدان جنگ بنا دیا

فیصل آباد(احمد یٰسین) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سب سے بڑے منصب پر قبضے کیلئے رسہ کشی نے ملک کے اہم ترین تعلیمی ادارے کو جنگ کا میدان بنا دیا۔ اقتدار کیلئے بڑوں کی جنگ کی وجہ سے جامعہ زرعیہ کے انتظامی و تدریسی امور بری طرح متاثر ہورہے ہیں جبکہ انتظامی عملہ اور فیکلٹی بھی گروپوں میں تقسیم ہے۔ نیوز لائن کے مطابق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے اقتدار پر قبضے کی جنگ سے ادارے کے انتظامی و تدریسی امور بری طرح متاثر ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور فیکلٹی واضح طور پر تین دھڑوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے میں سرگرم ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف درخواست بازی اور عدالتی چارہ جوئی نے معاملات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر محمد اشرف کی وائس چانسلر تعیناتی کے باوجود سابق وی سی ڈاکٹر اقرار اور ان کا گروپ انہیں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ڈاکٹر اشرف کی تعیناتی کیخلاف ڈاکٹر اقرار نے عدالتی چارہ جوئی کررکھی ہے اور آزاد کشمیر کی ایک یونیورسٹی میں تعیناتی کے باوجود وہ عدالتی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے۔ عدالتی کارروائی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے انتظامی افسران اور فیکلٹی کو روئیے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ سابق وی سی ڈاکٹر اقرار کے دس سالہ دور اقتدار میں رکھے جانیوالے یونیورسٹی کے ملازمین کی بہت بڑی تعداد کی بھرتیاں غیرقانونی ثابت ہونے کے پیچھے بھی اقتدار کی یہی رسہ کشی بتائی جارتی ہے جبکہ یونیورسٹی میں ہونیوالے ترقیاتی کام رکنے کی وجہ بھی اقتدار کی یہی جنگ ہے۔ یونیورسٹی کا کوئی ایک بھی ڈیپارٹمنٹ بھی ایسا نہیں ہے جہاں سٹاف اور فیکلٹی گروپنگ سے بچی ہو اور معاملات درست انداز میں چل پا رہے ہوں۔

Related posts