جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں تبدیلی آگئی :لسٹیں تیار‘ عمل درآمد شروع

فیصل آباد (احمد یٰسین) جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد کمال کی متعارف کروائی گئی نئی روٹیشن پالیسی کی زد میں آنیوالے مجوزہ چیئرمینوں کی طویل لسٹ مرتب کی جانے لگی ہیں اور ان پر عمل درآمد کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ جبکہ روٹیشن کی زد میں آنے والے اپنے بچاو¿ کیلئے ہاتھ پاو¿ں مار رہے ہیں۔ یونیورسٹی ریکارڈ کے مطابق یونیورسٹی کے پچاس سے زائد شعبہ جات کے انچارج ‘ چیئرپرسن‘ ڈائریکٹر ‘ آفیسرز روٹیشن کیلئے بنائی گئی پالیسی کی زد میں آرہے ہیں۔ نیوز لائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں تبدیلی کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ تبدیلی کیلئے پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کا فرق بھی نہیں دیکھا جا رہا۔ سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے بعد کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں بھی تبدیلی کی ہوا پہنچ گئی ہے۔جبکہ متعدد دیگر عہدوں پر بھی تبدیلی کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی کے ڈائریکٹرپی اینڈ ڈی پروفیسر ڈاکٹر حق نواز کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پروفیسر ہدائت رسول کو ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر کلیم کھوسہ بھی تبدیلی کی زد میں آگئے ہیں۔ ان کے متبادل کے طور پر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر کا نام سامنے آیا ہے۔ تاہم ڈیپارٹمنٹ میں مزید 12ایسوسی ایٹ پروفیسر ز اور ایک سینئر پروفیسر کی موجودگی میں ان کیلئے کام آسان نہیں ہوگا۔

نیوز لائن کے مطابق مزید تبدیلیوں کیلئے لسٹیں بنائی جارہی ہیں اور تیزی کے ساتھ تبدیلی آنے کی شنید ہے۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن ڈاکٹر مظہر حیات کی مدت تعیناتی کو تین سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے ان کے متبادل کے طور پر ڈاکٹر مرتضیٰ کا نام لیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کی اضافی ذمہ داری بھی نبھانے والے ڈاکٹر شفقت حسین کو ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا چیئرپرسن تعینات ہوئے تین سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے تاہم ان کے متبادل ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نعیم محسن کی یونیورسٹی کیخلاف عدالتی چارہ جوئی اور پلیج رزم کے کیسز ان کے راہ کی بڑی رکاوٹ ہیں۔ ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر عاصم محمود کو چیئرپرسن لسانیات ڈیپارٹمنٹ تعینات ہوئے تین سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے مگر ان کے ڈیپارٹمنٹ میں کوئی دوسرا پروفیسر یا ایسوسی ایٹ پروفیسر نہ ہونے کہ وجہ سے وہاں تبدیلی کا امکان کم ہے۔عربی اور اسلامیات ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر غلام شمس الرحمان کی مدت تعیناتی بھی تین سال کے لگ بھگ ہے تاہم ان کے متبادل پرفیسر ڈاکٹر ہمایوں عباس کیخلاف پلیج رزم کیس اور بطور پروفیسر ان کی تعیناتی مشکوک ہونے کا کیس ان کے راہ کی بڑی رکاوٹ ہیں۔

ڈین علوم شرقیہ کا اضافی چارج رکھنے والے اردو ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر آصف اعوان کی مدت تعیناتی کو تین سال سے زائد عرصہ ہوچکاہے ۔ جبکہ ان کے ڈیپارٹمنٹ میں چھے ایسوسی ایٹ پروفیسرز موجود ہونے سے متبادل کی جنگ شدید تر ہے۔ سنیئر ترین ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر طارق ہاشمی کا نام فیورٹ کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ پروین اختر کلو اپنی بیماری کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں دے پارہیں۔ سعید احمد اور افضل حمید بھی متبادل کے طور پر موجود ہیں۔ رابعہ سرفراز کو ڈیپارٹمنٹ کا چیئرپرسن بنوانے کیلئے بھی ایک لابی کوششیں کررہی ہے۔ کامرس ڈیپارٹمنٹ میں سینئر فیکلٹی ممبر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ندیم سہیل کے موجود ہونے کے باوجود چیئرپرسن شپ انکے نام نہیں ہے اور تین سال سے زائد عرصہ سے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر خالد لطیف شعبہ کے انچارج ہیں۔اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر صوفیہ انور کے متبادل بھی ڈیپارٹمنٹ میں کوئی ایسوسی ایٹ یا پروفیسر موجود نہیں ہے۔ لائلپور بزنس سکول کے ڈائریکٹر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ابرار کی جگہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر صفدر حسین کا نام سامنے آرہا ہے۔ انچارج ڈین مینجمنٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر حضور محمد صابر کی مدت تعیناتی کو چھے سال ہونے کو ہیںوہ تین سالہ تعیناتی کے بعد روٹیشن پالیسی کے علاوہ بھی متعدد وجوہات کی بناءپر تبدیلی کی زد میں ہیں۔ ان کے ریسرچ آرٹیکل پلیج رزم کی زد میں آنے کی وجہ سے بھی ان کی پوزیشن انتہائی کمزور بتائی جارہی ہے۔

فارما کالوجی کے چیئرپرسن ڈاکٹر حسن محمود کی جگہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ کا نام لیا جا رہا ہے۔ فارمیسی کے انچارج ڈاکٹر توقیر حسین کے متبادل کے طور پر ڈاکٹر شاہد شاہ اور ڈاکٹر یاسر علی کے نام سامنے آئے ہیں۔ بائیو کیمسٹری کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بخاری کی مدت تعیناتی چھے سال سے زائد ہوچکی ہے ان کے متبادل کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمودکا نام لیا جا رہا ہے۔ کالج آف الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے انچارج میڈیکل سائنس اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امتیاز محمود طاہر کی مدت تعیناتی بھی تین سال سے زائد ہو چکی ہے ان کی جگہ تعیناتی کیلئے ڈاکٹر ناہید اختر اور ڈاکٹر کاشف رضاکے نام سامنے آرہے ہیں۔ کالج آف فزیکل تھراپی کا چارج ایک لیکچرر آصف سلیم کے پاس ہے ان کیلئے بھی تبدیلی کی ہوا چلنے کی شنید ہے۔ آرتھوٹک ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ریسرچ آفیسر ارمضان انجم کو بھی تبدیل کئے جانے کی شنید ہے۔

مائیکرو بیالوجی کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر ہدائت رسول کی مدت تعیناتی کو بھی تین سال ہوچکا ہے تاہم ان کے متبادل کے طور پر ڈیپارٹمنٹ میں کوئی پروفیسر یا ایسوسی ایٹ موجود نہیں ہے۔ فزیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تین سال سے زائد عرصہ سے تعینات انچارج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حسیب انور کیلئے بھی تبدیلی کی ہوا ہے ان کی جگہ سنبھالنے کیلئے ڈاکٹر غلام حسین ‘ ڈاکٹر شہزاد عرفان اور ڈاکٹر عابد حسین اپنی اپنی لابنگ کررہے ہیں۔ زولوجی ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن شپ طویل عرصہ سے پروفیسر ڈاکٹر طیبہ سلطانہ اور پروفیسر ڈاکٹر فرحت جبیں کے مابین میوزیکل چیئر ہی رہی ہے۔ کسی بھی متوقع تبدیلی کی صورت میں موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر طیبہ سلطانہ متبادل کے طور پر حال ہی میں پروفیسر بننے والی اپنی بہن ڈاکٹر سلمیٰ سلطانہ کا نام پیش کرسکتی ہیں۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شبانہ ناز اور ایسی ایٹ پروفیسر اسماءاشرف کے نام بھی متبادل کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ تبدیلی کی ہوا اپلائیڈ کیمسٹری کے چیئرپرسن ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر جمال کیلئے بھی چلنے کی اطلاعات ہیں۔ ان کے متبادل کے طور پر مضبوط ترین امیدوار ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود ضیاءہو سکتے ہیں۔

حسین کے متبادل کے طور پر ڈاکٹر شاہد شاہ اور ڈاکٹر یاسر علی کے نام سامنے آئے ہیں۔ بائیو کیمسٹری کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بخاری کی مدت تعیناتی چھے سال سے زائد ہوچکی ہے ان کے متبادل کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمودکا نام لیا جا رہا ہے۔ کالج آف الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے انچارج میڈیکل سائنس اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امتیاز محمود طاہر کی مدت تعیناتی بھی تین سال سے زائد ہو چکی ہے ان کی جگہ تعیناتی کیلئے ڈاکٹر ناہید اختر اور ڈاکٹر کاشف رضاکے نام سامنے آرہے ہیں۔ کالج آف فزیکل تھراپی کا چارج ایک لیکچرر آصف سلیم کے پاس ہے ان کیلئے بھی تبدیلی کی ہوا چلنے کی شنید ہے۔ آرتھوٹک ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ریسرچ آفیسر ارمضان انجم کو بھی تبدیل کئے جانے کی شنید ہے۔

مائیکرو بیالوجی کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر ہدائت رسول کی مدت تعیناتی کو بھی تین سال ہوچکا ہے تاہم ان کے متبادل کے طور پر ڈیپارٹمنٹ میں کوئی پروفیسر یا ایسوسی ایٹ موجود نہیں ہے۔ فزیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تین سال سے زائد عرصہ سے تعینات انچارج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حسیب انور کیلئے بھی تبدیلی کی ہوا ہے ان کی جگہ سنبھالنے کیلئے ڈاکٹر غلام حسین ‘ ڈاکٹر شہزاد عرفان اور ڈاکٹر عابد حسین اپنی اپنی لابنگ کررہے ہیں۔ زولوجی ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن شپ طویل عرصہ سے پروفیسر ڈاکٹر طیبہ سلطانہ اور پروفیسر ڈاکٹر فرحت جبیں کے مابین میوزیکل چیئر ہی رہی ہے۔ کسی بھی متوقع تبدیلی کی صورت میں موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر طیبہ سلطانہ متبادل کے طور پر حال ہی میں پروفیسر بننے والی اپنی بہن ڈاکٹر سلمیٰ سلطانہ کا نام پیش کرسکتی ہیں۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شبانہ ناز اور ایسی ایٹ پروفیسر اسماءاشرف کے نام بھی متبادل کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ تبدیلی کی ہوا اپلائیڈ کیمسٹری کے چیئرپرسن ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر جمال کیلئے بھی چلنے کی اطلاعات ہیں۔ ان کے متبادل کے طور پر مضبوط ترین امیدوار ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود ضیاءہو سکتے ہیں۔

تاہم ڈاکٹر فضل الرحمان اور ڈاکٹر جواد سیف بھی میدان میں موجود ہیں۔ کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن پرفیسر ڈاکٹر محمد رمضان طالب کی مدت تعیناتی بھی تین سال سے زائد ہو چکی ہے تاہم ان کے متبادل کے طور پر ڈیپارٹمنٹ میں کوئی پروفیسر یا ایسوسی ایٹ موجود نہیں ہے۔ جغرافیہ کے انچارج اسسٹنٹ پروفسیر ڈاکٹر کاشف محمود کا بھی تبدیلی کی زد میں آنے کا امکان ہے ڈاکٹر فضل حق ان کے متبادل ہو سکتے ہیں۔ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مریم رحمان کی مدت تعیناتی تو روٹیشن پالیسی کی زدمیں نہیں آتی لیکن یونیورسٹی نے ”سیف زون “والے چیئرمینوں کی لسٹ میں ان کا نام شامل نہیں کیا ۔ ریاضی کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز نعیم کی مدت تعیناتی تو روٹیشن کی زد میں آسکتی ہے مگر ان کے ڈیپارٹمنٹ میں کوئی پروفیسر یا ایسوسی ایٹ نہ ہونے کا انہیں فائدہ ہورہا ہے۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ڈاکٹر فیصل اور سافٹ وئیر انجینئرنگ کے انچارج محمد اویس کیلئے بھی تبدیلی کی ہوا چلنے کی اطلاعات ہیں۔

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق تبدیلی کی ہوا صرف فیکلٹی میں ہی نہیں آئے گی بلکہ متعدد انتظامی عہدوں پر بھی تبدیلی آسکتی ہے۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار غلام غوث کو تعینات ہوئے تین سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے۔ تین سالہ مدت تعیناتی مکمل ہونے کے بعد بھی رجسٹرار کا چارج ان کے پاس ہی ہے جبکہ مزید تین سالہ مدت کیلئے ان کا نام ڈاکٹر شاہد کمال کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے شارٹ لسٹ کرکے گورنر کوبھجوا رکھا ہے۔رجسٹرار کیلئے شیخ ایوب بھی لابنگ کررہے ہیں جبکہ ایک تیسرا نام بھی یونیورسٹی میں گردش کررہا ہے۔ یونیورسٹی کے تدریسی معاملات کے حوالے سے اہم عہدے ایڈیشنل یا ڈپٹی رجسٹرار اکیڈمک کے عہدے پر براجمان آصف لطیف کو بھی تین سال سے عرصہ ہوچکا ہے۔ ایڈیشنل رجسٹرار شیخ ایوب بھی اپنی موجودہ پوزیشن پر تین سال سے موجودہیں۔ یونیورسٹی کے خازن ڈیپارٹمنٹ کے تمام ذمہ داران بھی تین سال سے زائد عرصہ سے موجودہ پوزیشن پر ہی فائز ہیں۔

یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات آفس میں بھی طویل عرصہ سے ڈپٹی کنٹرولرز سمیت کسی ذمہ دار کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوئی۔ڈائریکٹر کیو ای سی ڈاکٹر بابک محمود کو بھی ذمہ داریاں سنبھالے تین سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ ڈائریکٹر امور طلبہ ڈاکٹر ندیم سہیل کی مدت تعیناتی کو بھی تین سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے۔ یونیورسٹی کے کمیونٹی کالج کے پرنسپل کی تعیناتی کو بھی تین سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے۔ یونیورسٹی کی الحاق کمیٹی کے چیئرمین کو سنڈیکیٹ سے تبدیل کروانے کے بعد الحاق کمیٹی کی سیکرٹری شپ سے آصف لطیف کو ہٹا کر اور ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر حق نواز کو ہٹا کر ڈاکٹر ہدائت رسول کولگا کر وائس چانسلر نے انتظامی عہدوں پر بھی تبدیلی کی ہوا چلائے جانے کی نوید سنائی ہے۔ امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں یونیورسٹی میں متعدد تبدیلیاں آئیں گی تاہم تبدیلی کی زد میں آنیوالے اونچی سفارشوں کے ذریعے جان بچانے کیلئے کوشاں ہیں۔

Related posts