ڈاکٹر شاہد کمال یونیورسٹی کوایڈہاک ازم سے نکالنے کیلئے کوشاں

اس خبر کو بھی پڑھیں۔۔۔ باتیں کرنے‘ نعرے لگانے کی بجائے عملی کام کریں گے: ڈاکٹر شاہد کمال

فیصل آباد ( نیوز لائن ) پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال نے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کو ایڈہاک ازم سے نکال کر مستقل بنیادوں پر ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں۔سالہا سال سے اساتذہ کی ترقی و تعیناتیوں کے زیرالتوا کیسز ترجیحی بنیادوں پر حل کئے ۔صرف ساڑھے چار ماہ کے مختصر دورانئے کے دوران یونیورسٹی میں تین سلیکشن بورڈ کامیابی سے کروا لئے ۔ تین سالہ روٹیشن پالیسی متعارف کروا کر جمود روکنے بارے یونیورسٹی ایکٹ کی اہم ترین شق پراٹھارہ سال بعد عمل شروع کردیا۔ الحاق شدہ سرکاری و پرائیویٹ کالجز کے نصاب اور امتحانی معاملات بہتر بنانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیدیں۔ ایڈمشن اور خریداریوں کے معاملات میں شفافیت لانے کیلئے بھی خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں۔۔۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کو عالمی معیار کا بنانا چاہتا ہوں: ڈاکٹر شاہد کمال

نیوز لائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے نئے تعینات ہونیوالے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد کمال نے جامعہ کو ایڈہاک ازم سے نکال کر مستقل بنیادوں پر ترقی کے راستے پر ڈالنے پر فوکس کررکھا ہے ۔ ڈاکٹر شاہد کمال نے جولائی کے آخری ہفتے میں بطور وائس چانسلر جی سی یوایف میں چارج سنبھالتے ہی جامعہ سے ایڈہاک ازم ختم کرنے اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ساتھ ہی یونیورسٹی ایکٹ میں ڈیپارٹمنٹس کے چیئرمینوں کی مدت تعیناتی کے حوالے سے موجود اہم ترین شق پر عمل بھی شروع کردیا۔ روٹیشن پالیسی کے نام سے ڈیپارٹمنٹس کے چیئرمینوں اور اہم عہدوں پر تعینات افراد کی تبدیلیوں کے حوالے سے یونیورسٹی ایکٹ میں شامل تین سالہ مدت کی شق پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنے کی بجائے سنڈیکیٹ کے اجلاس سے روٹیشن کی پالیسی منظور کروائی اور سالہا سال سے اپنے ڈیپارٹمنٹس میں تعینات چیئرمینوں کی تبدیلیوں کیلئے اقدامات شروع کروا دئیے۔ متعدد ڈیپارٹمنٹس کے چیئرمین اور یونیورسٹی کے مختلف عہدیدار تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ مزید کی تبدیلی متوقع ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں۔۔۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں تبدیلی آگئی :لسٹیں تیار‘ عمل درآمد شروع

ڈاکٹر شاہد کمال کا اہم کارنامہ یونیورسٹی میں سینئر فیکلٹی ممبران کی بھرتی کا سالہا سال سے زیر التواء مسئلہ حل کرنا ہے۔ انہوں نے تین سلیکشن بورڈ کروائے اور ان کے فیصلوں کو سنڈیکیٹ سے منظور کروا کر یونیورسٹی میں سینئر فیکلٹی کی مستقل بنیادوں پر تعیناتی کی۔ ان کے آنے سے پہلے یونیورسٹی میں 18پروفیسراور 36ایسوسی ایٹ پروفیسر تھے۔ان کے آنے کے بعد ہونیوالے سلیکشن بورڈزکے فیصلوں اور سنڈیکیٹ میں منظوری کے بعد یونیورسٹی میں 24پروفیسر اور 62ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ نئے رکھے گئے اسسٹنٹ پروفیسرزان کے علاوہ ہیں۔ الحاق شدہ کالجز کے امتحانی اور نصابی معاملات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات بھی ان کے وژن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں۔ ۔۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں پانچ نئے پروفیسرز کی سلیکشن

اس خبر کو بھی پڑھیں۔ ۔۔ ڈاکٹر عاصم محمود جی سی یونیورسٹی کی الحاق کمیٹی کے چیئرمین منتخب

اس خبر کو بھی پڑھیں۔ ۔۔ جی سی یونیورسٹی: وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد کمال نے چارج سنبھال لیا

Related posts