استاد کو تحقیقی مہارتوں اور جدید علوم سے مسلح ہونا ہوگا: ڈاکٹر محبوب حسین

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا ذکر ہو اور پنجاب یونیورسٹی کا نام نہ آئے ایسا ممکن ہی نہیں۔ ایک سو اڑتیس سال قبل بننے والی پنجاب یونیورسٹی نے قیام پاکستان سے قبل اور بعد ازاں علم کے طالبوں کی پیاس بھجانے میں جو کردار ادا کیا وہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ حصول پاکستان کی جدوجہد میں بھی اس ادارے کے طلبہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ۔جامعہ پنجاب کے ایک سو اڑتیس سال ہی نہیں اس سے قبل کی تاریخ کو محفوظ رکھنے اور اس سے طلبہ کو روشناس کرنے کا کام اسی یونیورسٹی کا شعبہ تاریخ و پاکستان سٹیڈیز انتہائی تندہی سے سرانجام دے رہا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ و پاکستان سٹڈیز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین کا نام علمی و تحقیقی حلقوں میں انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محبوب حسین کی حال ہی میں کتابی شکل میں منظر عام پر آنی والی تحقیقی کاوش ”پارلیمنٹ آف پاکستان” ملک کی پارلیمانی تاریخ کے حوالے سے ایک گراں مایہ سرمایہ گردانی جارہی ہے۔ انکا ایک تعارف اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کی سیاست بھی ہے۔ ڈاکٹر محبوب اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ہیں اور یونیورسٹی اساتذہ کے مسائل حل کرنے کیلئے انکی کاوشیں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین کی فیصل آباد آمد پر ”نیوز لائن” نے ان کے ساتھ ایک نشست رکھی۔ اس میں ہونیوالی گفتگو نذر قارئین ہے۔

انٹرویو: احمد یٰسین ۔ نورالامین

سیاست کوئی بری چیز نہیں ہے مگر سیاسی جماعتوں کے ونگ تعلیمی اداروں میں بنانا درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیاسی جماعتوں کو اپنا کام اپنے دائرہ کار میں رہ کر کرنا چاہئے ۔ تنظیم سازی حدود میں رہ کر ہی کی جائے تو مناسب قرار پائے گی ۔اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن ایک مکمل طور پر غیرسیاسی پلیٹ فارم ہے ۔ ہماری ایسوسی ایشن اپنی کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کیلئے ہے۔ ہم ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے اساتذہ کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ تنظیم کو کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار بنا کر استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کے مخصوص مقاصد کو پورا کرنے کیلئے تنظیم کا پلیٹ فارم پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح طلبہ سیاست بھی غلط نہیں ۔مگر سیاسی جماعتوں کے سٹوڈنٹ ونگ بنا کر یونیورسٹیوں اور کالجوں کو سیاسی لیڈرز اور جماعتوں کے مقاصد کیلئے استعمال کرنا مناسب نہیں۔ طلبہ سیاست کا اپنا ایک مقام ہے مگر جب طلبہ لیڈرز سیاسی پشت پناہی کے چکر میں اس مقام سے گرتے ہیں تو خود انکے لئے ‘ اداروں کیلئے اور طلبہ سیاست کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

قیام پاکستان میں طلبہ کا کردار کسی طور فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ طلبہ سیاست کے ہی مرہون منت تھا۔ ایوب خان کے مارشلائی دور میں شخصی آزادیوں کی بحالی کیلئے طلبہ کی جدوجہد ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ ہمارے نامی گرامی سیاسی رہنما طلبہ سیاست سے آگے آئے۔ تنظیم سازی طلبہ کا حق ہے۔ آئین ان کو یہ حق دیتا ہے ۔ ملک میں سیاسی ماحول کیلئے سٹوڈنٹ یونین ہونی بھی چاہئے تاکہ طلبہ اور معاشرے کی سیاسی انداز میں تربیت ہو سکے اس ملک کو بہترین سیاسی کھیپ ملے گی مگر بات پھر وہی ہے کہ سٹوڈنٹ یونین کی آڑ میں سیاسی جماعتوں کے ونگ بنانے کی اجازت نہ دی جا سکتی ہے اور نہ ہونی چاہئے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہماری سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو آکسفورڈ یونین سے وابستہ رہی ہیں۔ اس یونین کی تقاریب میں شمولیت کرنا بھی سیاستدان اعزاز سمجھتے ہیں۔ عالمی اور سماجی ایشوز پر وہاں ہونے والے مزاکرے نتیجہ خیز ہوتے ہیںاور مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔وہاں یونین کے ہر سال الیکشن ہوتے ہیں۔ یونین وہاں ایک سوسائٹی کی طرح کام کرتی ہے۔اس طرح کی سٹوڈنٹ یونین ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر سٹوڈنٹ یونین کے نام پر سیاسی جماعتوں کے طلبہ ونگ بنانا کالجز و یونیورسٹیوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔

پاکستان کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ تعلیم پر خصوصی فوکس کیا جائے۔ علم کے ساتھ جڑے بغیر قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔ جنگ بدر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ رسول کریم نے قیدیوں کو رہائی کیلئے مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کی شرط عائد کردی تھی۔ یہ ایک واضح سبق ہے ہمارے لئے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی تعلیمی پالیسی بناتے ہوئے سٹیک ہولڈرز سے رائے لی ہی نہیں گئی۔تمام پالیسیاں مقتدر حلقوں کی جانب سے نافذ کرنے کی کوشش کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی ناکام ہوئیں او ر ادھوری ہی کامیاب ہوئیں۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرکے ایک جامع پالیسی بنائی جائے اور اس کو مسلسل نفاذ پذیر رکھاجائے۔ اس صورت ہی میں ہم شرح خواندگی میں اضافے کی منزل حاصل کرسکتے ہیں۔

کوالٹی ایجوکیشن ایک ہمہ جہت معاملہ ہے۔ علم’ تکنیک’ مہارت’ ٹیکنالوجی اور تحقیق کے علاوہ انفراسٹرکچر بھی کوالٹی ایجوکیشن کا عمل یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے۔نصاب کی بہتری بھی ضروری ہے اس سے صرف نذر نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی ٹریننگ’کلاس روم کا ماحول’ جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال’ طلبہ کو مناسب رہنمائی کی فراہمی اور ریسرچ کلچر کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ایسا کرکے ہی کوالٹی ایجوکیشن ممکن ہو سکے گی۔

واضح رہے کہ کوالٹی ہمیشہ ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ ہسٹری ہمیں سبق ویتی ہے کہ ٹیکنالوجی پر عبور کے بغیر ترقی ممکن نہیں ۔ آریا ہندوستان میں آئے تو اپنے وقت کی ٹیکنالوجی لوہے کی تلوار لے کر آئے اور کامیاب ہوئے۔ محمد بن قاسم اپنے ساتھ اپنے وقت کی ٹیکنالوجی منجنیق لے کر آیا تھا تو اسے کامیابی ملی وگرنہ قلعہ بند شہریوں کو فتح کرنا اس کیلئے شائد ممکن نہ ہوتا۔ مغل اپنے ساتھ توپ خانہ لائے اور فاتح ہوئے۔ قرآن پاک کی 750 آیات تسخیر کائنات اور حصول علم کے حوالے سے ہیں۔ قرآن ہمیں بار بار حصول علم اور غورو خوض (تحقیق) کی ہدائت کررہا ہے مگر ہم ان دونوں سے ہی دور ہوتے جارہے ہیں۔

استاد کی عزت علم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ استاد کتاب اور ریسرچ سے دور رہے گا تو طلبہ کی درست رہنمائی نہیں کرسکے گا۔ یہ صدی علم و تحقیق کی ہے۔ ٹیچر کوخوداپنے آپ کو نئے علوم ‘ کتاب اور ریسرچ سے مسلح کرنا ہوگا۔ ایسا نہ کیا تو اساتذہ کا معاشرے میں رہاسہا مقام بھی جاتا رہے گا۔

ریسرچ کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ ریسرچ بہت ضروری ہے مگر ایسی ریسرچ فضول ہے جس کا معاشرے کو کوئی فائدہ نہ پہنچے۔سماج کے تقاضوں’ قدروں اور ضروریات کو مد نظر رکھ کر ریسرچ کئے جانے میں ہی بقاء ہے۔ پی ایچ ڈی’ ایم فل کے ساتھ ریسرچ پراجیکٹس کے ”ٹاپک ” چنتے ہوئے بھی سماجی تقاضوں اور ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

تاریخ کی لیبارٹری مستقبل ہوتا ہے۔ آج کے ہیروز کل کے زیرو بن سکتے ہیں جبکہ آج کے ولن کل ک ہیرو کا روپ دھار سکتے ہیں۔ تاریخ کی سٹڈیز میں ہم عصر ہیرو نہیں ہوتے۔ وقت گزرنے پر کرداروں کی خوبیاں اور خامیاں سامنے آتے ہیں۔ وقت کسی کو ہیرو یا ولن ثابت کرتا ہے اور وقت کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔بھگت سنگھ’ دلا بھٹی ‘ منگل پانڈے’ رائے احمد کھرل آج ہیرو ہیںمگر اپنے زمانے میں وہ مجرم گردانے جاتے تھے، اس وقت کی حکومتیں انہیں مجرم سمجھتی تھیں اور انہوں نے ان کے سزائیں دیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی مثال تو ابھی زیادہ پرانی بھی نہیں ہے۔ بھٹو کو عدالت نے سزا سنائی۔ پھانسی دی گئی مگر وقت اور تاریخ نے انہیں مجرم ماننے سے انکار کردیا۔

ریسرچ کرائم کی بڑھتی ہوئی شرح ہمارے مجموعی قومی مزاج کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ ریسرچ ہی نہیں دیگر کئی معاملات میں بھی ہم بہت پیچھے ہیں۔ اخلاقی اقدار کا زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا۔ ریسرچ کے میدان میں بھی ہم ایسے ہی رویوں کا شکار ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ریسرچ کو بہتر بنانے کیلئے جرنلز کی کیٹگری مقرر کیں اور بہتر کیٹگری میں مضامین چھپوانے کی حوصلہ افزائی کی مگر ساتھ ہی یہ ایک کاروبار بن گیا۔ مگر نقصانات اور فوائد دونوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ ایک ترقی پذیر ملک میں ریسرچ کی کوالٹی برقرار رکھنے کیلئے اس طرح کی شرائط لازمی ہیں۔ وگرنہ یہاں تو ایسا بھی ہوتا رہا کہ سٹوڈنٹ میگزین میں مضامین چھپوا کر بطور ریسرچ پیپراستعمال کئے جاتے رہے۔

پلیج رزم بھی ایک بڑا ایشو ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ہسٹری میں پلیج رزم کوئی سوفٹ وئیر نہیں پکڑ سکتا۔ پلیج رزم کے حوالے سے بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تو صرف الفاظ کی پلیج رزم سامنے آ رہی ہے۔ خیالات اور آئیڈیاز کی پلیج رزم پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ حالات ثابت کررہے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اخلاقی انحطاط کا شکار ہیں۔ پلیج رزم کنٹرول کرنے کیلئے اور ریسرچ کو سماج کیلئے فائدہ مند بنانے سپروائزر (استاد) کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ریسرچ کے حوالے سے اساتذہ کی ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کو ریسرچ تکنیک اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹریننگ ورکشاپس ہونا چاہئیں۔

Related posts