لاک ڈاؤن کی چھٹیوں کے دوران جی سی ویمن یونیورسٹی میں بڑی تبدیلی

فیصل آباد (احمد یٰسین) لاک ڈاؤن کی چھٹیوں کے دوران ہی جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں بڑی تبدیلی آگئی۔ یونیورسٹی کی دوسری سب سے بڑی پوسٹ پر تعینات سنیئر فیکلٹی ممبر کو ہٹا دیا گیا ان کی جگہ کالج کیڈر کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کو رجسٹرار کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہی کوئی ذمہ داری نہ ہونے کے باوجود سوشل سائنسز اور ایڈمنسٹریشن سائنسز کی کوآرڈی نیٹریوں سمیت تہری ذمہ دارایاں نبھانے والی فرزانہ ہاشمی کو بھی ”چھٹی” پر بھیج دیا گیا۔ نیوز لائن کے مطابق جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ رفیق نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی کے دوسرے سب سے بڑے عہدے ”رجسٹرار” کی ذمہ داریاں نبھانے والی ڈاکٹر ظل ہما نازلی کو اچانک ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے ان کی جگہ ڈیپارٹمنٹ آف انگلش کی ایسوسی ایٹ راحت افضا کو رجسٹرار کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ لاک ڈاؤن کی چھٹیوں کے دوران اچانک ہونیوالی اس تبدیلی نے یونیورسٹی کی تمام فیکلٹی کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ یونیورسٹی کے تمام ملازمین کی زبانوں پر ایک ہی سوال ہے کہ ایسا کیا ایمرجنسی ہوئی کہ لاک ڈاؤن کی چھٹیوں کے دوران ظل ہما نازلی کو فارغ کرکے ایمرجنسی میں راحت افضا کو ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدائت کی گئی ہے۔ دریں اثناء یونیورسٹی کی کوآرڈی نیٹر سوشل سائنسز ‘ کوآرڈی نیٹر بزنس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز’ چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس کی تہری ذمہ داریاں نبھانے والی فرزانہ ہاشمی کو بھی لاک ڈاؤن کے دوران ہی اچانک ”چھٹی” پر بھیج دیا گیا ہے ۔ ان کی عدم موجودگی میں ارم وقار ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس کی چیئرپرسن کی ذمہ داریاں نبھائیں گی جبکہ دونوں فیکلٹی کی کوآرڈی نیٹر شپ وی سی نے اپنے پاس رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی تعینات کی گئی رجسٹرار کا تعلق کالج کیڈر سے ہے اور وہ بھی سابقہ رجسٹرار ظل ہما نازلی اور فرزانہ ہاشمی کی طرح گورنمنٹ کالج برائے خواتین مدینہ ٹاؤن کو یونیورسٹی بنانے کے مخالفین میں شمار ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی بنانے کے مخالفین نے یونیورسٹی کے قیام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کررکھا ہے۔

واضح رہے کہ ظل ہما نازلی کو سابقہ وائس چانسلر نے بھی رجسٹرار شپ سے ہٹا دیا تھا مگر موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ رفیق نے تعینات ہوتے ہی ظل ہما نازلی کو دوبارہ ذمہ داریاں سونپ دیں۔سابقہ وائس چانسلر کی طرف سے عہدے سے ہٹائے جانے پر ظل ہما نازلی نے اپنی جگہ تعینات ہونے والے رجسٹرار پر جنسی ہراساں کرنے سمیت متعدد سنگین قسم کے الزامات عائد کئے تھے ۔ اس وقت ظل ہما نازلی اور ان کے گروپ نے وائس چانسلر کیخلاف باقاعدہ محاذ تشکیل دے لیا تھا اور یونیورسٹی میں عملی طور پر کام رکوانے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر بعض بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر سابقہ وائس چانسلر اور یونیورسٹی کو بدنام کرنے کیلئے من گھڑت’خودساختہ اور حقائق کے منافی سکینڈل بنائے گئے۔ جبکہ ظل ہما نازلی کے دوبارہ رجسٹرار تعینات ہونے پر اس گروپ نے تمام کارروائیاں روک دیں۔ یونیورسٹی میں دوبارہ پرامن ماحول تشکیل دیدیا۔ یونیورسٹی کی فیکلٹی ممبران اس گروپ کی طرف سے دوبارہ یونیورسٹی کیخلاف محاذ آرائی کئے جانے اور یونیورسٹی کے ماحول کو پراگندہ کرنے کے امکانات ظاہر کررہی ہیں۔

Related posts