تحقیق کو نئے کاروبار کیلئے استعمال میں لایا جائے‘ ڈاکٹر اقبال ظفر


فیصل آباد(نیوزلائن) زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے آفس آف ریسرچ ‘ انوویشن و کمرشلائزیشن (اورک) اور آئی پی او پاکستان کے اشتراک سے آئی پی رائٹس پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ نیو سینٹ ہال میں منعقدہ سیمینار کے افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اقبال ظفر تھے جبکہ کلیدی مقرر آئی پی او پاکستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظہور احمد تھے۔ شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال ظفر نے کہا کہ سائنس دانوں کو اپنی ٹیکنالوجی پر مبنی ریسرچ پیپرزکی اشاعت کے ساتھ ساتھ اس سے متعلقہ پیٹنٹ کے حصول کیلئے بھی کوشش کرنی چاہئے تاکہ انہیں طویل عرصہ تک اس کا معقول معاوضہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی ہمیشہ کسی نہ کسی مسئلہ کے حل کی کوشش میں سامنے آتی ہے جسے وسیع پیمانے پر استعمال میں لانے کیلئے بروقت حقوق دانش کا حصول انتہائی اہم اور ضروری امر ہے تاکہ کسی کی محنت کے نتیجہ میں سامنے آنیوالی ٹیکنالوجی کو کوئی دوسرااپنے کاروباری مقاصد کیلئے استعمال میں نہ لا سکے۔ انہوں نے سائنس دانوں پر زور دیا کہ صنعتی‘ کاروباری اور انفرادی سطح پر درپیش بہت سے مسائل کے پائیدار حل کیلئے ضروری ہے کہ تحقیقی نتائج کے نتیجہ میں سامنے آنے والے آئیڈیاکونئے کاروبار کے آغاز اور بڑھوتری کیلئے استعمال میں لایا جائے ۔ ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر ظہیر احمد ظہیر نے کہاکہ ان کے آفس نے یونیورسٹی ماہرین کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کے 7پیٹنٹس حاصل کر لئے ہیںاور پاکستان میں پیٹنٹ حاصل کرنے پر سائنس دان کو 50ہزار روپے انعام دیئے جائیں گے جبکہ انٹرنیشنل پیٹنٹ پر انعامی رقم 1لاکھ روپے فراہم کی جا رہی ہے۔ سیمینار کے کلیدی مقرر اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی پی او پاکستان مسٹر ظہور احمد نے بتایا کہ ملک میں بہت ادارے اپنی مصنوعات ‘ ڈیزائن اور پیکنگ کو پہلے سے معروف ناموں سے ملتے جلتے نام‘ڈیزائن و پیکنگ کے قریب ترلیجا کر سادہ شہریوں کو لو ٹ رہے ہیں جن کے سدباب کیلئے ضروری ہے کہ شکایت کنندہ فرم‘ ادارے یا شخصیت کومناسب فورم پر اپنا کیس لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی پر متعلقہ تھانہ سے رابطہ کیا جائے جبکہ ٹریڈ مارک‘ انڈسٹریل ڈیزائن اور پیٹنٹ کی خلاف ورزی پر عدالتی کارروائی میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی ہر ٹیکنالوجی زندگی میں آسانیوں کیلئے کی جانیوالی کوشش کے نتیجہ میں سامنے آتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ تمام مراحل میں عرق ریزی کرنے والے محنتی شخص کو اس کی شبانہ روز محنت کا معاوضہ دینے کیلئے ریاستی ادارے اس کی مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹنٹ سے مراد کسی بھی ٹیکنالوجی کے فنشکنل تحفظ کی یقین دہانی پیٹنٹ کے زمرے میں آتی ہے لہٰذا اس طرح کے پراسیس سے متعلقہ ریسرچ پیپرز کی اشاعت کے ساتھ ہی قومی و بین الاقوامی سطح پر اس کے پیٹنٹ کے حصول کیلئے فوری اپلائی کیا جانا چاہئے۔ اورک میں اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر خرم ضیاءنے بتایا کہ نوجوانوں میں نئے کاروباری آئیڈیاز سامنے لانے اور انہیں کمرشلائز کرنے کیلئے رواں ماہ کے پہلے عشرہ میں ڈائس ایونٹ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں تین درجن سے زائد جامعات کے نوجوان حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی انڈسٹری کے ساتھ اپنے روابط کو نئی توانائی سے آگے بڑھا رہی ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ ڈائس میں سامنے آنے والی ٹیکنالوجی اور آئیڈیازکو بڑے پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے گا

Related posts

Leave a Comment