فیصل آباد کے صنعتکارماحولیاتی آلودگی پر سیل فیکٹریاں کھلوانے میں ناکام

فیصل آباد(نیوز لائن) اعلیٰ سطحی مذاکرات کے باوجودصنعتکاروں کی طرف سے قابل عمل طریقہ کاراپنائے نہ جانے کے سبب ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے سیل کئے گئے 21میں سے کوئی ایک بھی انڈسٹریل یونٹ ڈی سیل نہ کیاجاسکا۔ ڈائریکٹرجنرل انوائرنمنٹ پنجاب سے مذاکرات کے ایک روزبعدکئی صنعتکارفیکٹریاں چالو کرانے کے لئے محکمہ تحفظ ماحول کے مقامی دفترجاپہنچے۔بوائلرڈی سیل کرنے کے مطالبہ پر مقامی عملہ کی طرف سے انہیں انوائرنمنٹ ہیڈکوارٹررجوع کرنے کامشورہ دیاگیا۔عملے کاکہناتھاکہ انڈسٹریل یونٹس کے نقائص دورکرانے کی یقین دہانی کرائے جانے پرمجازافسران مخصوص مدت کے لئے یونٹ ڈی سیل کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں انہیں لنڈامیٹریل کی بجائے معیاری ایندھن کااستعمال بھی یقینی بناناہوگا۔ منگل کودورہ فیصل آبادپرآئے ہوئے ڈائریکٹرجنرل انوائرنمنٹ پنجاب تنویراحمدوڑائچ نے صنعتکاروں سے ملاقات کے دوران مقامی عملہ کی طرف سے ٹیکسٹائل ملوں،ڈائنگ اورسائزنگ اداروں کے سیل کئے گئے بوائلرفوری بنیاد پرڈی سیل کرنے کامطالبہ کیاتھا۔طویل مذاکرات کے بعد ڈائریکٹرجنرل انوائرنمنٹ پنجاب کی طرف سے متاثرہ یونٹس کے مالکان کوتحریری درخواستیں محکمہ کے ہیڈکوارٹرمیں داخل کرنے کاپابند کیاگیاتھا۔ ذرائع کے مطابق انڈسٹریل یونٹس سیل کئے جانے پر پیداہونیوالی صورتحال کے پیش نظرمحکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے فیلڈانسپکٹرزاور لیب ماہرین پرمشتمل ٹیمیں فیصل آبادبجھوانے کافیصلہ کیاہے۔ یہ ٹیمیں ماحولیاتی آلودگی کے سبب سیل کئے گئے یونٹس کے ریکارڈاورصورتحال کابغورجائزہ لیں گی۔اس عمل میں محکمہ کے مقامی افسران کوبھی شامل کئے جانے کاامکان ہے۔ لاہورسے آنے والے ماہرین انسپیکشن کے بعد تفصیلی رپورٹس حکام کوپیش کریں گی۔

Related posts