کام کرنے کا ”انعام“: ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات فیصل آباد عہدے سے فارغ

فیصل آباد (نیوز لائن) ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں صنعتکاروں کیخلاف کارروائی کا انعام دیتے ہوئے پنجاب حکومت نے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات فیصل آباد محمد طاہر کو انکے عہدے سے ہٹا دیا ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے صنعتی اداروں کو ریلیف دینے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ قواعد کے مطابق کام کرنے کے انعام میں ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات کو عہدے سے ہٹائے جانے پر محکمہ ماحولیات کے عملے میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے اور محکمہ ماحول کا تمام عملہ آئندہ سے صنعتکاروں کے ساتھ ”ڈیل“ کی پالیسی اپنانے کا سوچ رہا ہے۔ نیوز لائن کے مطابق ماحولیاتی آلودگی پر 21انڈسٹریل یونٹ سیل کرنے والے ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ تحفظ ماحول محمدطاہر کوفیصل آبادسے تبدیل کردیاگیا۔اپنے عہدے کاچارج چھوڑتے وقت محمدطاہر کاکہناتھاکہ سموگ کے پیش نظرحالیہ کریک ڈاون کے دوران عمل میں لائے جانے والے ایکشن کے حوالہ سے پراعتمادہوں میراضمیر بھی مطمین ہے۔حکام کی طرف سے سیل شدہ انڈسٹریل یونٹس ڈی سیل کئے جانے کے احکامات پر عمل درآمدکے وقت بھی قواعد کوملحوظ خاطررکھتے ہوئے متعلقہ صنعتکاروں سے آئندہ آلودگی نہ پھیلانے کے حلف نامے اورصنعتی تنظیم کی گارنٹی لی گئی۔صنعتی اداروں کیخلاف کریک ڈاون پرڈپٹی ڈائریکٹرکو ہٹائے جانے پرمحکمہ تحفظ ماحول فیصل آباد کے فیلڈسٹاف میں مایوسی پھیل گئی۔اینٹی سموگ مہم خطرے میں پڑنے کاخدشہ پید اہوگیا۔پریشان حال عملے کی بڑی تعدادنے فضائی آلودگی کاسبب بننے والی ٹیکسٹائل فیکٹریوں کی نشاندھی کی بجائے حکام کوسب اچھاکی رپورٹس ارسال کرنے پراتفاق کرلیا۔انسپکٹرعہدہ کے بعض ملازمین کاکہناہے کہ نوکریاں بچانے کے لئے انہیں اہل فیصل آبادکوغیرمعیاری ایندھن استعمال عمل میں لانے اورفضائی آلودگی کی روک تھام کے لئے احتیاطی تدابیر اختیارنہ کرنے والے صنعتکاروں کے رحم وکرم پرچھوڑناہوگا۔ عملے کاکہناتھاکہ صنعتکاروں کے خلاف کاروائی پرہمارے سینئرافسرکی قربانی ہوچکی ہے دیگرمزید نقصا ن کے حق میں نہیں۔یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ زگ زیگ ٹیکنالوجی اپنانے والے فیصل آبادکے ساڑھے چارسو مالکان کوبھٹہ جات کی بندش کے حوالہ سے نوٹس جاری کئے جاچکے ہیں۔مورال ڈاون ہونے کے پیش نظرمحکمہ تحفظ ماحول کاعملہ اس ضمن میں بھی شائد موثرایکشن نہ لے سکے گا۔

Related posts