پاکستان میں پائیدار ترقی کیلئے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا

فیصل آباد ( نیوز لائن ) ڈسٹرکٹ ایکشن کمیٹی فیصل آباد برائے سماجی آہنگی نے اساتذہ کی سماجی ہم آہنگی و رواداری  کے پیرائے میں ٹریننگ کرنے اور طلبہ کی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور تجویز کیا ہے کہ پاکستان میں پائیدار ترقی اور امن کیلئے تمام گروپوں’ کمیونٹیز اور طبقات کو سماجی ہم آہنگی کا روئیہ اپنانا ہوگا۔ باہمی اختلافات کا ڈائیلاگ کے ذریعے حل نکالنا چاہئے جبکہ تشددکا راستہ اختیار کرنے کی سوچ کی سختی کے ساتھ روک تھام کرنا ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی سابق رکن پنجاب اسمبلی نورالنساء ملک نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سماجی انصاف’ معاشرتی و معاشی اصلاحات کی بات کی ہے۔ سال 2009میں ہماری پیش کی گئی تعلیمی پالیسی کے بھی یہ بنیادی نکات تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سماجی اصلاحات کا آغاز کیا تھا مگر انہیں زیادہ وقت نہیں مل سکا پھر بھی انہوں نے محنت کشوں کے حقوق سمیت بہت سے معاملات سدھارے۔ مسلم لیگ ن کی سابق رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر نجمہ افضل نے کہا کہ مسلم لیگ ن ہمیشہ تعلیمی پالیسیوں میں ٹیکنیکل ایجوکیشن پر فوکس رکھا۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی و ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ کیلئے اقدامات کئے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ڈائریکٹر ایڈوانس سٹڈیز اور چیئرمین اکنامکس ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر صوفیہ انور نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن یقینی بنانے کیلئے ہر سطح پر کام کرنے اور پالیسیوںمیں تسلسل لانے کی ضرورت ہے۔ پرائمری سطح پر بچے کے نظریات پختہ ہونا ہوتے ہیں وہاں زیادہ فوکس کرنا چاہئے اس کے علاوہ سکولوں سے باہر رہ جانے والے بچوں کو بھی سکول لانے اور ڈراپ آؤٹ روکنے پر بھی فوکس کرنا ہوگا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ”عوام ”نازیہ سردار نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن یقینی بنانے کیلئے تمام طبقات کو ملکر کام کرنا ہوگا۔چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف تاریخ و پاکستان سٹڈیز ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن کیلئے طبقات ‘ رنگ و نسل ‘ پیشوں اور مذاہب کی بنیاد پر نفرتوں کا خاتمہ کرنا لازمی ہے۔ نصاب سے نفرت انگیز موادختم ‘ اساتذہ کی ٹریننگ اور رٹہ سسٹم کا خاتمہ کرنے کے ساتھ طلبہ کی اخلاقہ تربیت اور تعلیمی پالیسیوں کی ڈگر درست کرنا ہوگی تاکہ سب کیلئے یکساں اور بلا امتیاز تعلیم کو یقینی بنانے کی منزل حاصل کی جا سکے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اسسٹنٹ سیکرٹری اور ڈسٹرکٹ ایکشن کمیٹی فیصل آباد برائے سماجی آہنگی کے کنوینئر حامد یٰسین نے کہا کہ پاکستان میں سوشل ریفارمز پر ابھی تک کام ہی نہیں ہوا۔مجموعی طور پر پورے سماج کے روئیے تبدیل کرنے’ نفرتوں کو مٹا کر محبت ‘ امن ‘ بھائی چارے ‘ تحمل’ برداشت’ رواداری کے روئیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ میڈیا سماج کا عکاس ہوتا ہے جب تک ہمارا معاشرہ نفرت کا سبق پڑھاتا رہے گا میڈیا سے بھی نفرت کی آبیاری ہوتی رہے گی۔ پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری محمد صفدر نے کہا کہ سکول اساتذہ کو غیرتدریسی معاملات میں ہی اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ا استاد کو کلاس میں ڈلیور کرنے کا موقع ہی نہیں مل پا رہا۔ پنجاب میں ایک سال کے دوران چار سیکرٹری تعلیم تبدیل کردئیے گئے۔ ایسے میں سکول ایجوکیشن میں کیسے بہتری ہو سکے گی۔ لیبر آفیسر قمر عباس وڑائچ نے کہا کہ ہمارا ٹیچر کتاب سے دور ہوتا جارہا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ ہر سطح پر نفرتوں کی آبیاری ہو رہی ہے یہی وجہ ہے کہ طلبہ ٹیچر کو تشدد کا نشانہ بنا اور قتل کررہے ہیں۔ استاد کا احترام مفقود ہو چکا ہے اور انتہا پسندی کے روئیے فروغ پارہے ہیں۔

معروف سوشل ورکر کورین وحید نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن وہ ہے جو آزادی کے ساتھ سوچنے اورمعاشرے کی اجتماعی بہتری کیلئے کام کرنے کیلئے کار آمد ہو۔ سینئر معلم جیمز لال نے کہا کہ کلاس روم میں اساتذہ کو صورتحال کا درست تجزیہ پیش کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔ مذہب اور سماجی رتبوں سمیت ہر طرح کی نفرتیں مٹانے کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ہم ایک قوم نہیں بن سکیں گے ۔پروگرام منیجر” عوام ” نسیم انتھنی نے کہا کہ نفرت کا سبق پڑھا کر ہم نے 70سالوںمیںاپنی معاشرے میں انتہا پسندی کے روئیوںکو فروغ پاتے اور اس سے معاشرے کے مجموعی نقصان دیکھ لیا ہے۔ ہمیں تحمل ‘ برداشت اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کے روئیوں کو فروغ دیناہوگا ۔ اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ پرائیویٹ سکول الائنس کے صدر میاں ندیم نے کہا کہ نجی سکول بچوں کی درست انداز میں تربیت کی طرف خصوصی فوکس کررہے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ بچوں کی تربیت بھی ہمارے پیش نظر ہے اور اس حوالے سے ہم عملی اقدامات بھی کررہے ہیں۔ایجوکیشن یونیورسٹی کے سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر آصف اقبال نے کہا کہ اساتذہ سے زیادہ پالیسی سازی کے مسائل ہیں۔ اساتذہ اپنا کردار بہتر بنانے کیلئے خود بھی کوشش کررہے ہیں۔ حکمرانوںکو تعلیمی پالیسیوںمیں تسلسل لانے پر آمادہ کرناہوگا۔ اس کیلئے معاشرے کو مجموعی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

Related posts