فیصل آباد میں خلائی مخلوق کے ذریعے ”ہوائی اخباروں” کی چھپوائی

فیصل آباد (رانا ندیم شہزاد) پاکستان کے تیسرے بڑے شہر میں اخبارات کی تیاری اور چھپوائی کی ذمہ داری بھی اخباری مالکان نے خلائی مخلوق کو سونپ رکھی ہے۔ خلائی مخلوق کے ذریعے تیار ہونے والے اخبارات چھاپے بھی ”ہوا” میں ہی جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان کے ادارے ”پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ” اور پنجاب گورنمنٹ کے ادارے ”ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز ” کے ذمہ داران کی ملی بھگت سے ”ہوائی اخبارات” سالانہ اربوں روپے کا سرکاری بزنس بھی لے رہے ہیں ۔ اخباری مالکان کی نمائندہ تنظیم اے پی این ایس ‘ اخباری مالکان کے مفادات کیلئے کمربستہ سی پی این ای اورفیصل آباد کے اخباری مالکان پر مشتمل تنظیم فیصل آباد ایڈیٹرز کونسل خلائی مخلوق کے ذریعے ” ہوائی اخبار” چھاپنے اور اربوں روپے کی لوٹ مار کو تحفظ دینے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہیں ۔اخبارات کو ڈیکلریشن جاری کرکے کھل کھیلنے کا موقع دینے والے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد خلائی مخلوق کے ذریعے ”ہوائی اخبار” چھاپ کر اربوں روپے کی لوٹ مار پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ فیصل آباد کے اخباری کارکنوں کی نمائندہ تنظیم فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار اور اخلاقی ‘ صحافتی و قانونی خلاف ورزیوں کے معاملات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

نیوز لائن کے مطابق فیصل آباد سے سینکڑوں کی تعداد میں ایسے اخبارات چھاپے جانے کی مصدقہ رپورٹ سامنے آئی ہے جن میں کوئی ورکر کام نہیں کرتا۔ یہ اخبارات کب اور کس وقت کس پرنٹنگ پریس سے چھپ جاتے ہیں اس بارے بھی شہر میں کوئی نہیں جانتا۔ فیصل آباد میں ان خبارات کے صفحات کی تعداد کے برابر بھی نیوز سٹاف نہیں ہے ۔ لمبے لمبے کالم چھپ تو رہے ہیں مگر ان میں سے ایک بھی فیصل آباد کے کسی اخبار کا ملازم نہیں ہے۔ ایڈیٹوریل چھاپے جا رہے ہیں مگر ایڈیٹوریل اور شذرے لکھنے والا ایک بھی نہیں۔ اخبارات میں خبریں چھپ رہی ہیں مگر رپورٹر اور نیوز ڈیسک کے نام پر ایک بھی ملازم نہیں ہے۔ صرف اردو ہی نہیں انگریزی زبان کے اخبارات کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔ مقامی اخبارات کا کیا ہی رونا صورتحال اپنے تائیں ”قومی ” اخبار کہلوانے اور ملکی سطح کے معاملات چٹکی بجاتے حل کرنے کے مباحثے کرنے والے ”جیّد” صحافیوں کے روپ میں چھپے بیٹھے اخباری مالکان کی بھی ایسی ہی ہے۔

فیصل آباد سے چوری چھپے اخبار نکالنے والوں میں روزنامہ جنگ کے مالکان میرجاوید اور میر شکیل کے ساتھ ساتھ اے پی این ایس اور سی پی این ای کے موجودہ و سابق عہدیداران بھی شامل ہیں۔ پاکستان ایڈیٹر کونسل کے نام سے ملک بھر کے اخباری مالکان کا گروپ بناکر اے پی این ایس اور سی ی این ای کو بلیک میل کرنے والے بھی اسی چوری چھپے اخبار چھاپنے کے دھندے میں ملوث ہیں۔ فیصل آباد میں شرافت کی صحافت کا راگ الاپنے والے بھی خلائی مخلوق کے ذریعے ”ہوائی اخبار” چھاپنے والی ”کوئلے کی کان” میں منہ کالا کروائے بیٹھے ہیں۔ آزادی صحافت کے نام پر اپنی تمام لوٹ مار کو تحفظ دلوانے کے خواہاں اخباری مالکان اخبارات کی ”ہوائی” اشاعت کے ذریعے سالانہ اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات لے رہے ہیں لیکن اخبارات کی اشاعت میں لازمی جزو سمجھے جانے والے میڈیا ورکرز کو دینے کیلئے ان کے پاس دمڑی بھی نہیں ہوتی۔ اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والوں نے فیصل آباد میں اپنے اخبارات کے صفحات کی تعداد کے برابر بھی ورکرز نہیں رکھے ہوئے۔

نیوز لائن کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق فیصل آباد سے دو درجن سے زائد قومی اور ساڑھے تین سو سے زائد مقامی اخبارات چھپتے ہیں جبکہ لاہور ‘ اسلام آباد’ کراچی اور ملتان سے آنے والے اخبارات اس کے علاوہ ہیں۔ حکومت پاکستان کے ادارے ”پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ” (پی آئی ڈی) کے اعدادوشمار کے مطابق فیصل آباد سے چھپنے والے ڈیڑھ سو سے زائد روزناموں کی ایک دن کی اشاعت تیس لاکھ سے زائد ہے جبکہ 104ہفت روزہ ‘ سات پندرہ روزہ’ 78ماہناموں ‘ 9سہ ماہی ‘ چار شش ماہی اور ایک سالانہ جریدے کی 20لاکھ کی اشاعت اس کے علاوہ ہے۔ جبکہ قرائین بتارہے ہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں تو فیصل آباد میں ردی بھی نہیں ہوتی۔ جبکہ لاہور ‘ اسلام آباد اور ملتان سے آنیوالے ڈیلی اخبارات اس کے علاوہ ہیں۔ لاہور’ ملتان’ اسلام آباد اور کراچی سے آنیوالے میگزین اور جرائد کی تعداد بھی ان میں شامل نہیں ہے۔ روزانہ کے تیس لاکھ اخبارات کب ‘ کہاں ‘ کس کو’ کون تقسیم کرجاتا ہے اس بارے اخباری مالکان کی نمائندہ تنظیم اے پی این ایس ‘اخباری مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنے والی سی پی این ای اور فیصل آباد کے اخباری مالکان کی تنظیم فیصل آباد ایڈیٹرز کونسل کوئی جواب دینے کو تیار ہے نہ اخبارات کی اشاعت پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے والا محکمہ (پی آئی ڈی) ‘ صوبائی حکومت کا اخبارات کے معاملات کا نگران محکمہ ڈی جی پی آر اور اخبارات کے دھڑا دھڑ ڈیکلریشن جاری کرنے والا ڈپٹی کمشنر آفس کوئی جواب دینے کو تیار ہے۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر ندیم جاوید’ جنرل سیکرٹری ذیشان خان’ فنانس سیکرٹری مرزا جاوید اقبال اور دیگر عہدیداروں کا کہنا تھا کہ وہ اس صورتحال کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے مگر بعض عاقبت نااندیش لوگوں نے اسے بدنام کررکھا ہے۔ فیصل آباد سے بغیر کسی ورکر کے خفیہ ”ہوائی اخبار” چھاپنے والے کے گھناؤنے دھندے کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اورحکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر کے تمام اخبارات کا فرنزک آڈٹ کروایا جائے۔ فیصل آباد کے اخبارات کے آڈٹ کیلئے ہم تمام مواد حکومت کو دینے کیلئے تیار ہیں۔ لوٹ مار کرنے والے اخباری مالکان کیخلاف نیب کی تحقیقات کروائی جائیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد فیصل آباد سے بوگس اشاعت کرنے والے اخبارات کی سکروٹنی کروائیں۔ ایسے تمام اخبارات کی اشاعت مکمل بند کی جائے جن کے پاس ایک بھی ورکر نہیں ہے۔ خفیہ ذرائع سے ”ہوائی اخبار” چھاپنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ حکومت نے اخبارات کی ”ہوائی اشاعت” بند نہ کروائی تو اس کیخلاف فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس احتجاج کے تمام آپشن استعمال کرے گی ۔جبکہ خلائی مخلوق کے ذریعے ”ہوائی اخبار ” چھاپنے والے اخباری مالکان کیخلاف فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس قانونی جنگ بھی لڑے گی۔

Related posts