شامی کا دیانتداری کا بھاشن اور روزنامہ پاکستان فیصل آباد کا اخباراتی فراڈ

فیصل آباد (رانا ندیم شہزاد) تجزیہ کار بن کر ٹی وی سکرینوں پر براجمان ہو کر قوم کو سچائی’ ایمانداری اور دیانتداری کا بھاشن دینے اور قومی وسائل کی لوٹ مار روکنے کیلئے دھواں دار تقریریں جھاڑنے والے سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی بھی اخباراتی بددیانتی کے مرتکب نکلے۔ اپنے بیٹے کی ملکیت میں نکالے گئے اخبار ”پاکستان ” کی فیصل آباد میں اشاعت کئے بغیر ہی جعل سازی سے بھاری سرکولیشن رجسٹریشن کروا لی اور اخبار کیلئے کروڑوں روپے کے اشتہارات حاصل کررہے ہیں۔ حکومت پنجاب کی آفیشل دستاویزات کے مطابق سینئر صحافی اوراپنے بیٹے عمر مجیب شامی کی ملکیت میں چھپنے والے اخبار روزنامہ ”پاکستان ”کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی نے 2016میں فیصل آباد سے اپنے اخبار ”پاکستان” کا ڈیکلریشن لیا۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق انہیں 31اکتوبر 2016کو سیریل نمبر 3954 کے تحت ڈیکلریشن جاری کیا گیا۔ اور چند دنوں میں ہی انہوں نے فیصل آباد سے اخبار کی مبینہ اشاعت بھی شروع کردی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے اس وقت کے وزارت اطلاعات کے ذمہ داران کے ساتھ مل کر اخبار کا بھاری سرکولیشن سرٹیفکیٹ (اے بی سی سرٹیفکیٹ) بھی حاصل کرلیا۔ مسلم لیگ ن کی وفاقی اور صوبائی حکومت روزنامہ پاکستان فیصل آباد کو سرکاری اشتہارات بھی جاری کرتی رہیں۔

ذرائع کے مطابق فیصل آباد کی اخبار مارکیٹ میں ایک دن بھی روزنامہ پاکستان فیصل آباد فروخت نہیں ہوا۔ فیصل آباد کے صحافتی و غیر صحافتی حلقوں میں سے شائد ہی کبھی کسی نے روزنامہ پاکستان فیصل آباددیکھا ہو۔ فیصل آباد میں روزنامہ پاکستان لاہور کے علاوہ روزنامہ پاکستان اسلام آباد فروخت ہوتا رہا ہے۔ روزنامہ پاکستان فیصل آباد کی اشاعت بھی کبھی نہیں دیکھی گئی۔ فیصل آباد میں روزنامہ پاکستان فیصل آباد کا ایک بھی صحافتی و غیرصحافتی ورکر نہیں ہے ۔خفیہ طریقے سے ”خلائی مخلوق” کے ذریعے ہوائی اخبار چھاپ کر کروڑوں روپے کے سرکاری و غیرسرکاری اشتہارات لینے کے باوجود مجیب الرحمان شامی ٹی وی پر آکر سچائی و دیانتداری کا بھاشن دیتے نہیں تھکتے۔ اس حوالے سے تمام تر معلومات حاصل ہونے کے باوجود ڈپٹی کمشنر فیصل آباد روزنامہ پاکستان فیصل آباد کی اشاعت کے حوالے سے جعل سازی کرنے والے پبلشر عمر مجیب شامی اور پرنٹر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہے جبکہ ایک کاپی کی اشاعت کے بغیر ہزاروں کا سرکولیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اے بی سی سیکشن کے ذمہ داران اور مانیٹرنگ کرنے والے پی آئی ڈی فیصل آباد کے حکام کے خلاف شکایات کے باوجود قانون متحرک نہیں ہو پایا۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر ندیم جاوید اور جنرل سیکرٹری ذیشان خان کا کہنا تھا کہ اخباراتی جعل سازی کرنے والا کوئی بھی ہو وہ میڈیا کا ناسور ہے۔ روزنامہ جنگ کے مالکان ایسا کریں یا روزنامہ پاکستان یا کسی دوسرے اخبار کے مالکان ایسے جرم کے مرتکب ہوئے ہوں ان کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہئے۔ حکومت ایسے تمام ناسوروں کے سرکاری اشتہارات کے بل روکے اور ان کیخلاف نیب سے تحقیقات کروائی جائیں۔ اس حوالے سے ”روزنامہ پاکستان فیصل آباد” کا مؤقف لینے کی کوشش کی گئی مگر فیصل آباد میں ان کا خفیہ آفس نہ مل سکا۔ سرکاری ریکارڈ میں بھی ان کے فیصل آباد کے اخبار کا مقام اشاعت لاہور ماڈل ٹاؤن ہی ظاہر پایا گیا۔

Related posts