کرونا سے اموات کی شرح: سب سے زیادہ خیبر اور پنجاب میں رہی

فیصل آباد (احمد یٰسین) پاکستان میں کرونا پھیلنے کے بعد پہلے چار ماہ کے دوران چاروں صوبوں ، گلگت اور وفاقی دارلحکومت میں سے موزی مرض سے اموات کی شرح سب سے زیادہ خیبر پختونخواہ میں رہی دوسرے نمبر پنجاب اور تیسرے نمبر پر گلگت رہا ۔ آبادی کے تناسب سے شہریوں کے متاثر ہونے کی شرح سب سے زیادہ اسلام آباد میں رہی جبکہ دوسرے نمبر پر سندھ رہا۔ ایکٹو کیسز کے حوالے سے بھی سب سے زیادہ خطرناک صورتحال اسلام آباد میں ہے اور دوسرے نمبر پر خٰبر پختونخواہ ہے۔ نیوز لائن کے مطابق پاکستان میں کرونا سے متاثرہ شہریوں کی شرح یورپی ممالک کی نسبت بہتر ہے تاہم جنوبی ایشیائی ممالک میں اس کی صورتحال بہتر نہیں گردانی جارہی۔ ٹیسٹنگ کی تعداد بھی زیادہ نہ ہونے کی وجہ اصل حقائق سامنے نہیں آسکے۔ آبادی ی شرح کے تناسب سے سب سے زیادہ ٹیسٹنگ سندھ میں کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سندھ میں سب سے زیادہ مریض بھی سامنے آئے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 18مارچ سے 18جولائی تک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق آبادی کے تناسب کے لحاظ سے سب سے زیادہ مریضوں کی شرح اسلام آباد میں رہی۔ دس لاکھ کی آبادی والے وفاقی دارالحکومت میں ساڑھے چودہ ہزار افراد کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں ۔ اسلام آبادکی آبادی کا ایک اعشاریہ 43فیصد حصہ کرونا سے متاثر ہوچکا ہے۔ سندھ کی آبادی کا صفر اعشاریہ 23فیصد حصہ کرونا سے متاثر ہوا ۔ چار کروڑ 78لاکھ آبادی والے صوبہ میں ایک لاکھ گیارہ ہزار 238مریض سامنے آچکے ہیں۔گلگت بلتستان کی آبادی کا صفر اعشاریہ چودہ فیصد حصہ کرونا سے متاثر ہوا۔ 12 لاکھ 49ہزار کی آبادی میں 1796 افراد کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ ایک کروڑ 23لاکھ آبادی والے بلوچستان میں گیار ہ ہزار 405افراد کورنا کا شکار ہوئے جو آبادی کا صفر اعشاریہ صفر نو فیصد ہے۔ خیبر پختونخواہ میں بھی صفر اشاریہ صفر نو فیصد آبادی متاثر ہوئی۔ کے پی کے کی تین کروڑ پچپن لاکھ آبادی میں سے 31 ہزار 669 افراد کرونا سے متاثر ہوئے۔ پنجاب کی گیارہ کروڑ آبادی میں سے 89ہزار 465 افراد کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں جو آبادی کا صفر اعشاریہ صفر آٹھ فیصد ہے۔

متاثرہ افراد میں سے زندگی ہار جانے والوں کی شرح سب سے زیادہ خیبر پختونخواہ میں رہی۔ خیبر پختونخواہ کے 31ہزار 669 متاثرین میں سے تین اعشاریہ 57 کی شرح سے 1130مریض زندگی کی بازی ہار گئے۔پنجاب کے 89 ہزار 465متاثرین میں سے دو اعشاریہ 31فیصد کی شرح سے 2067 مریض زندگی کی بازی ہار گئے۔ گلگت بلتستان کے 1769 مریضوں میں سے دو اعشاریہ 17 فیصد کی شرح سے 39 مریض زندگی ہار گئے۔ سندھ میں ایک لاکھ گیارہ ہزار 238 مریضوں میں سے ایک اعشاریہ 75فیصد کی شرح سے 1952 مریض زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ بلوچستان کے گیارہ ہزار 405مریضوں میں سے ایک اعشاریہ 15کی شرح سے 131مریض زندگی کی بازی ہار گئے۔ اسلام آباد میں جاں بحق ہونے والوں کی شرح ایک اعشاریہ آٹھ فیصد رہی یہاں 14 ہزار 504 مریضوں میں سے 157 زندگی کی بازی ہار گئے۔ اانصاف کا پرچم بلند کرنے کا دعویٰ لے کر اقتدار میں آنیوالی جماعت کے زیر کنٹرول صوبوں میں کرونا متاثرین کے زندگی ہار جانے کی شرح کا بلند ترین رہنا گڈ گورننس پر سوالیہ نشان ہے۔ شرح اموات میں دوسرے نمبر پر آنیوالے صوبہ پنجاب کے حوالے سے دس سال تک یہاں اقتدار میں رہنے والی مسلم لیگ نواز اور خاص طور پر میاں شہباز شریف بھی ذمہ دار ہیں تاہم شرح اموات میں پہلی پوزیشن پر رہنے والے صوبہ خیبر پختونخواہ کی ذمہ داری تو وہاں سات سال سے برسراقتدار تحریک انصاف پر ہی عائد ہوتی ہے۔

Related posts