فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کا اخباری مالکان کیخلاف قانونی مہم چلانے کا فیصلہ

فیصل آباد (ندیم شہزاد) فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے فیصلہ کیا ہے کہ فیصل آباد جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کے قیام ‘سرکاری سطح پر صحافیوں کی لائف انشورنس و ہیلتھ انشورنس کروائے جانے ‘ جرنلسٹس ویلفیئر فنڈ بنوانے کیلئے اور ورکرزکی چھانٹیوں سمیت میڈیا مالکان کے تمام غیرقانونی اقدامات کے خلاف عملی جدوجہد کی جائے جبکہ قانون پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہنے والے سرکاری اداروں اور حکومتی ذمہ داران کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ورکرز کی چھانٹیاں کرنے اور ورکرز کے بغیر ”خلائی مخلوق” کے ذریعے چھپنے والے اخبارات کے سرکاری اشتہارات مکمل بند کئے جائیں اور تمام اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے مالکان کا دس سال کا فرنزک آڈٹ کروایا جائے۔یہ فیصلے اور مطالبات ایف یو جے کی مجلس عاملہ کے گزشتہ روز ہونیوالے اجلاس میں کئے گئے۔ مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت ایف یو جے کے صدر ندیم جاوید نے کی۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے طے کیا گیا کہ فیصل آباد میں جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کا قیام یقینی بنانے کیلئے ترجیحی اقدامات کئے جائیں اس کیلئے بلاتفریق تمام سٹیک ہولڈرز اور حکومتی ذمہ داران کے ساتھ رابطے کئے جائیں ۔اجلاس میں طے کیا گیا کہ فیصل آباد کے صحافیوںکی لائف انشورنس وہیلتھ انشورنس کروانے کیلئے حکومتی ذمہ داران کے ساتھ رابطہ کیا جائے جبکہ جرنلسٹس ویلفیئر فنڈ کے قیام کیلئے بھی ترجیحی اقدامات عمل میں لائے جائیں۔مجلس عاملہ نے اتفاق رائے سے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ورکرز کی چھانٹیاں رکوانے کیلئے قانونی جدوجہد کی جائے۔ میڈیا مالکان کے غیرقانونی اقدامات کیخلاف قانون کو متحرک کروایا جائے۔ میڈیا مالکان کی غیرقانونی سرگرمیوں کو سامنے لایا جائے۔ اس کیلئے حکومتی اداروں کو متحرک کروایا جائے جبکہ میڈیا مالکان کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے۔ اجلاس میں اخبارات کی پرنٹنگ’ سرکولیشن اور ٹیکس کے معاملات میں گھپلوں کے حوالے سے بھی غور کیا گیا جبکہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کی آڑ میں جاری میڈیا مالکان کے دیگر غیرقانونی دھندوں اور سرگرمیوں پر بھی بحث کی گئی۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ورکرز دشمن رویہ اپنانے والے تمام میڈیا مالکان کے خلاف ہر طرح سے قانون کو متحرک کیا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اخبارات و ٹی وی چینلز کے مالکان کی غیرقانونی سرگرمیوں میںانکا ساتھ دینے والے سرکاری اداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کا ساتھ دینے والی کالی بھیڑوں کو کے نقاب بھی اتارے جائیں۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ دوسرے شمس الاسلام ناز میڈیا ایکسی لینسی ایوارڈ کے انعقاد کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں میڈیا بحران کی مجموعی صورتحال ‘ بحران کے ذمہ داران اور اس کے حل پر بھی غور کیا گیا۔

Related posts