صحافت کا جنازہ اور مگر مچھ کا رکھوالا پُونگ . تحریر: نواز طاہر

گلوبل پِنڈ – محمد نوازطاہر

لاہور پریس کلب کا فرش کلب کے خاکروبوں نے کچھ اچھی طورح دھویا ہوا تھا جہاں مجھے اپنے وقت کے میڈیا ٹائیکونز جنگ اور نوائے وقت گروپ کے دو مالکان ( میر شکیل الرحمان اور عارف نظامی )کے گرائے ہوئے آنسو واضح طور پر چمکتے دکھائی دے رہے تھے ۔ عارف نظامی نوائے وقت گروپ کے بانی حمید نظامی مرحوم کے صاحبزادے ہیں جنھیں خود ان کے چچا نے ہی اپنے ادارے کی سیڑھیاں اتاردیا تھا اور وہ سیدھے پریس کلب آئے تھے ، ان کی آنکھوںسے آنسو رواں تھے ،، وہاں بیٹھے لوگ بھی افسردہ تھے کہ مجید نظامی نے اپنے سگے بھائی کے بیٹے کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ، عارف نظامی نوائے وقت گروپ کے مالک ہونے کے باوجود کارکن صحافیوں میں اس حوالے سے بھی احترام رکھتے تھے کہ انہوں باقاعدہ رپورٹنگ کی تھی ، پریس کلب میں ساتھیوں نے ان کی ڈھارس بندھائی اور ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ، کچھ لوگ ان کی محبت میں نوائے وقت گروپ سے از خود ہی ملازمت چھوڑ کر آگئے اور جب عارف نظامی نے اپنا اخبار ( پاکستان ٹوڈے ) شروع کیا تو کچھ ہی عرصے کے بعد ان کے اندر کا ایک سیٹھ جاگ اٹھا ، کئی کارکن یک جنبشِ قلم بے روزگار کردیئے ، اور وہ بھول گئے کہ جنھیں بے روزگار کیا گیا ہے وہ تو ان کے لئے رضاکارانہ طور پر نوکریاں چھوڑ کر آئے تھے ، ان کارکنوں کا کے بعد میں کیا ’حشر ‘ ہوا ،یہ عارف نظامی کے لئے سوچنا ضروری نہیں تھا، وہ سوچتے رہے کہ کسی بھی وقت نوائے وقت گروپ وراثت کی صورت میں ان کے پلڑے میں آجائے گا لیکن ایسا نہ ہوا ، مجید نظامی کے انتقال کے بعد لے پالک رمیزہ (نظامی) نے سارے گروپ کا ہی حشر نشر کردیا ۔ اس ادارے میں باقی تمام اداروں کے مقابلے میں ریکارڈ تنخواہیں واجب الادا ہیں اور مقدمات عدالتوں میں ہیں ، مجید نظامی تو سکندرِ اعظم کی طرح قبر میں خالی ہاتھ گئے جیسے ساری زندگی خالی گود رہے تھے ۔ میں پریس کلب میں عارف نظامی کے آنسو دیکھ رہا تھا اور شرمندگی محسوس کررہا تھا کہ ہم لوگوں نے کس کے آنسو بہتے دیکھ کر یکجہتی میں آنسو بہائے تھے ؟ دوسرے آنسو جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمان کے چمک رہے تھے ، میر شکیل الرحمان پر نوازشریف کی حکومت کے دوران جب سیف الرحمان نے شکنجہکسا تو میر شکیل الرحمان پریس کلب میں مدد کے لئے آپہنچے ، کارکنوںکے ساتھفرش پر بیٹھے آنسو بہاتے رہے ، کارکن متحد ہوگئے اور نوازشریف کی ریاستی طاقت کا بھر پور مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں نوازشریف کی حکومت نے ایسی پسپائی اختیار کی کہ اب شیروشکر ہیں جبکہ اُلُو سیدھا پ ہوتے ہی میر شکیل الرحمان نے اپنے اندر کا سیٹھ نکال کر سب کے سامنے رکھ دیا ، یہی نہیں انہوں نے کراچی پریس کلب میں بھی آنسو گرائے تھے اور مدد کی بھیک مانگی تھی اور یونین کے مطالبے ماننے کا وعدہ کیا تھا اور جب انہیں وعدہ یاددلایا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ میں اپنے وعدے سے مُکر گیا“ اور پھر اپنے رنگ ہی دکھائے ، کارکنوں کا معاشی قتلِ عام کیا تکبر کا کھل کر اظہار کیا۔

اب مجھے وہ وقت یاد آنے لگا جب جنرل پرویز مشرف پاکستان کے فوجی صدر کی وردی میں مکا لہراتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ”میں ڈرتاورتا کسی نہیں ‘ درست بات تھی پاک فوج کے سپہ سالا خود تھے ، ملک کے صدر بھی بنے بیٹھے ، چیف ایگزیکٹیو بھی ، عدالیہ پر بھی زور چلا چکے تھے ، ڈرنا کس سے تھا ؟ ۔ اُسی دور میں کراچی میں آگ و خون کی ہولی کھیلی گئی ، ساہیوال میں وکلاءکے جلوس کو آگ لگائی گئی ، تب ایم کیو ایم پرویز مشرف کی حامی تھی اور پیپلز پارٹی ، نوازشریف کی مسلم لیگ اور دوسر جماعتیں ایم کیو ایم کو تحریری طور پر دہشت گرد قراردے چکی تھیں ۔
مشرف جیسی پوزیشن میڈیا انڈسٹری میں جنگ اور جیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کی بھی ہے جو اپنے دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں تو پاکستانی کی کُل کائنات پر خود کو حاکم قراردیتے ہوئے بادشاہ گر کہلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”میںکسی سے ڈرتا نہیں “۔۔۔پرویز مشرف کے ساتھ مسلح فوج تھی ، میر شکیل الرحمان کے ساتھ بھی ”مسلح فوج ‘ جنہیںعام الفاظ میں میڈیا کارکن کہا جاتا ہے ۔ آج دونوں قانون اور تکبروغرور کی گرفت میں ہیں ۔


میر شکیل الرحمان کو نیب نے گرفتار کررکھا ہے اور وہ اپنی فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں ، یہ وہ فوج ہے جو بندوق کے بغیر لڑتی ہے لیکن ماضی کے برعکس اس بار یہ غیر مسلح فوج تقسیم ہے اور ”سپہ سالار “ سلاخوں میں اس فوجی امداد کے منتظرہیں ۔اس کی وجہ میر شکیل الرحمان کااپنا غرور تکبر ، وعدہ خلافیاں اور کارکن دشمنی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے کچھ ساتھی میر کے اداروں میں ملازمت کے باعث مجبوری میں اور کچھ’ ڈیوٹی ‘میں اور کچھج معصومیت میں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو صحافت کی آزادی پرحملہ سمجھتے اورر قرار بھی دے رہے ہیں ، ان کا موقف یہ ہے کہ میر شکیل کے بعد کچھ دوسرئے میڈیا مالکان بھی گرفت میں آئیں گے ، ادارے بند ہوجائیں گے اور ملک میں میڈیا ناپید اور قید ہوجائے گا ، کارکن بھوکوں مر جائیں گے ۔جن کی مجبوریاں ہیں ، ان کی مجبوریوں کا احساس کرنا چاہئے ، جن کی مجبوریاں نہیں ہیں ، انہیں اپنے خیالات پر نظر ثانی کرنا چاہئے بصورتِ دیگر ملک میں ”قانون ختم کرو“ کی تحریک چلانا چاہئے ، جب یہ تحریک چلے تو سب سے پہلے نیوز پیپرز ایمپلائیز کنڈشینزآف سروس ایکٹ ختم کروانا چاہیے(جیسے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات بند کروائے تھے ) میر شکیل الرحمان کارکنوں کے جس قانونی حق( ویج یوارڈ) کو تسلیم نہیں کرتے ، اس کے مطالبے سے دستبرداری کا اعلان کیا جائے ، ایک باقاعدہ مفافی نامہ بھی شائع کروایا جائے کہ کنٹریکٹ کی جو لعنت ختم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا وہ ہماری غلط سوچ تھی ۔ اداروں میںآﺅٹ سورس( دیگر کمپنیوں کے نام سے )ملازمت کو بھی درست اورجائز قراردیا جائے ۔ اس امر کو تسلیم کیا جائے کہ جس کے پاس جتنی طاقت اور اختیار ہو ، اس سے پوچھ کر اس کی اجازت سے خبر دینا اور اس کی مرضی کی الفاظ لکھنا ، بولنا اور تصویر دکھانا جائز ہے ۔ اسی طرح پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے) کا دستور مجریہ سن انیس سو پچاس بھی متروک قراردیا جائے جس میں صحافت( آزادی اظہارِ رائے) کی آزادی کے لئے جدوجہد کا عزم کیا گیا ہے۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ان تمام بزرگوں کی قبروں پر جاکر ان کا ’احتساب ‘کیا جائے کہ انہوں نے کارکنوں کے حقوق اور آزادی اظہارِ رائے کے لئے جدوجہد کیوں کی ؟ اور جیلیں ، کال کوٹھریاں کاٹیں اور کوڑوں کی سزائیں کیوں بھگتیں ؟


ایک سوال پھر بھی زندہ رہے گا کہ

ایکسپریس گروپ کے سلطان لاکھانی کی گرفتاری پر ایکسپریس بند کیوں نہیں ہوا ؟

اس وقت صحافت کی ازادی پر حملہ کیوں نہیں تھا ؟

جب بڑے پیمانے پر بول میڈیا گروپ کا اعلان ہوا تو جنگ جیو اور ایکسپریس سمیت کئی دیگر میڈیا گروپوں نے بول گروپ کے خلادف”جہاد‘ کیوں کی

بول گروپ کے مالک شعیب شیخ کی گرفتاری پر شادیانے کیوں بجائے گئے ؟

کس نے بجائے ؟

جبکہ کارکنوں نے بول بچاﺅ تحریک چلائی اور جیسے تیسے بول بچا لیا اور پھر اُسی بول سے کارکنوں کی چھانٹی کس بے دردی سے کی گئی ؟

ابھی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ ہے جبکہ واجبات کی ادائیگی بھی سابق کارکنوں کو پوری طرح سے نہیں کی گئی ۔۔۔ ایسا کیوں ہوا ؟

کارکنوں کی تنظیمیں یہ ادائیگیاں کیوں نہیں کرواسکیں ؟

صحافت خطرے میں نہیں پڑی ؟

کتنے کارکن ذہنی تناﺅ کا شکار ہوکر اس دنیا سے رُخصت ہوچکے ہیں ؟

اور جو صحافت رہ گئی ہے کیاوہ صحافت ہے یا میڈیا مالکان کی مرضی کا بزنس جیسا کہ میر شکیل الرحمان کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ صحافت (مشن) کیسی ؟ میرا کاروبار ہے


کیا کسی ایک مالک کی گرفتاری سے صحافت خطرے میں پڑتی ہے ؟

یا حقائق کے بجائے مرضی اور ہدایت یافتہ صحافت کو صحافت قراردیا جائے ؟

صحافت کو خطرہ کس سے ہے ؟ اشاعتی نشریاتی اداروں سے یا کسی اور سے ۔۔۔؟ اس سوال کے جواب کا انتظار ہے ۔

Related posts