جنگ و جیو گروپ کے مالکان میر شکیل اور میر جاوید کا فراڈ بے نقاب

فیصل آباد (ندیم شہزاد)سابق وزیر اعظم نواز شریف سے خلاف قانون چار درجن سے زائد پلاٹ حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار جنگ و جیو کے چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمان اور ان کے بھائی روزنامہ جنگ و روزنامہ دی نیوز کے پبلشر میر جاوید رحمن کے مزید فراڈ بے نقاب ہوئے ہیں۔ دونوں بھائیوں نے فیصل آباد سے روزنامہ جنگ اور روزنامہ دی نیوز کا ڈیکلریشن لے رکھا ہے اور اس کی اشاعت کئے بغیر ہی کروڑوں روپے کے اشتہارات لے چکے ہیں۔ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کا فیصل آباد سے ڈیکلریشن لے کر بغیر عملے کے خفیہ طریقے سے شائع کئے جانے والے قومی و مقامی اخبارات کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ ۔ نیوز لائن کے مطابق فیصل آباد کے شہریوں نے شائد ہی کبھی” روزنامہ جنگ فیصل آباد” دیکھا ہو۔ فیصل آباد میں بھی ”روزنامہ جنگ لاہور ” ہی فروخت کیا جاتا ہے۔اور انگریزی میں شائع ہونے والے ”دی نیوز فیصل آباد ” کی شکل تو شائد روزنامہ جنگ میں رہنے والوں نے بھی کبھی نہیں دیکھی۔

عوامی حلقے تو بہت دور کی بات فیصل آباد کے صحافتی حلقوں ‘ پریس کلب اور جرنلسٹس یونین کے عہدیداران اور اخبارات کے معاملات کنٹرول کرنے والے سرکاری اداروں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈی جی پی آر کے فیصل آباد کے ذمہ داران نے بھی کبھی ”روزنامہ جنگ فیصل آباد”اور ”روزنامہ دی نیوز فیصل آباد”کی شکل نہیں دیکھی۔ اس کو میر برادران کا فراڈ قرار دینے کیلئے اس سے زیادہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ فیصل آباد کے اخبار فروشوں نے بھی کبھی ”روزنامہ جنگ فیصل آباد” اور ”روزنامہ دی نیوز فیصل آباد” کی شکل نہیں دیکھی۔ پی آئی ڈی فیصل آباد کے حکام اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کے پاس روزنامہ جنگ فیصل آباد اور روزنامہ دی نیوز فیصل آباد کبھی نہیں آیا ۔پی آئی ڈی فیصل آباد کے حکام کی طرف سے جاری کردہ فیصل آباد ریجن کے اخبارات کی لسٹوں میں بھی کہیں دونوں اخبارات کا ذکر نہیں ملتا۔ لیکن ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کی پریس برانچ کی تصدیق شدہ لسٹ میں روزنامہ جنگ اور روزنامہ دی نیوز کا نام شامل ہے ۔ ڈپٹی کمشنر آفس تصدیق کرتا ہے کہ سال 2013میں دونوں اخبارات کے فیصل آباد ڈیکلریشن لئے گئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر آفس نے حال ہی میں فیصل آباد سے شائع ہونے والے اخبارات کی جو لسٹ جاری کی ہے اس میں روزنامہ جنگ کا نام بھی شامل ہے جبکہ پی آئی ڈی اسلام آباد کے ذرائع اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ فیصل آباد کے ان دونوں اخبارات کو سرکاری اشتہارات بھی دئیے گئے ہیں جبکہ پرائیویٹ اشتہارات بھی ان دونوں اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ فیصل آباد کے صحافتی حلقوں نے بغیر کسی عملے کے روزنامہ دی نیوز فیصل آباد کے سات سال سے شائع ہونے اور تمام عملے کو فارغ کئے جانے اور روزنامہ جنگ فیصل آباد کی فیصل آباد میں ایک کاپی بھی فروخت کئے بغیر لاکھوں کی سرکولیشن کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لینے اور ان کیلئے کروڑوں روپے کے اشتہارات لئے جانے کو میر شکیل اور میر جاوید کا بڑا صحافتی فراڈ قرار دیا ہے۔

اس حوالے سے صورتحال سامنے آنے پر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر ندیم جاوید’ جنرل سیکرٹری ذیشان خان’ فنانس سیکرٹری مرزا جاوید اقبال’ سینئر نائب صدر آصف غفار’ نائب صدر عرفان جاوید ‘ جوائنٹ سیکرٹریز رانا زاہد اور ثناء رؤف کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی ناپسندیدہ صورتحال ہے کہ فیصل آباد سے کوئی اخبار شائع ہو رہا ہو اور فیصل آباد میں اس کے اتنے کارکن بھی نہ ہوں جتنے کہ اس اخبار کے کل صفحے شائع ہوتے ہیں۔ روزنامہ دی نیوز کی فیصل آباد سے اشاعت کا تو دور دور تک کوئی ذکر نہیں ملتا۔ روزنامہ جنگ نے کچھ عرصہ کیلئے یہاں اپنا آفس بنایا مگر وہاں سے بھی روزنامہ جنگ لاہور ہوتا رہا۔ اس آفس کے بھی کسی ورکر کو بھی یہ علم نہیں کہ روزنامہ جنگ فیصل آباد کبھی شائع ہوا ہو۔ اخبار فروشوں تک نے کبھی روزنامہ جنگ فیصل آباد اور روزنامہ دی نیوز فیصل آباد کی شکل نہیں دیکھی۔ پی آئی ڈی فیصل آباد کو آج تک دونوں اخبار نہیں ملے۔ اتنے خفیہ انداز میں فیصل آباد سے اخبارات شائع کرنا اور خفیہ انداز میں ہی ان کیلئے اشتہارات لئے جانا فیصل آباد کے صحافتی کارکنوں کے ساتھ ظلم ہے۔ اس ظلم کا میر شکیل ‘ میر جاوید اور ان کا ساتھ دینے والے دیگر تمام ظالموں کو دینا ہوگا۔ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد محمد علی سے مطالبہ کیا کہ اخبارات کی اشاعت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ فیصل آباد سے ڈیکلریشن لینے والے تمام اخبارات کی اشاعت یقینی بنانے کیلئے قانون کو متحرک کریں۔ فیصل آباد سے ڈیکلریشن لینے والے تمام اخبارات کے فیصل آباد آفس کی انسپکشن باقاعدگی سے کی جائے اور وہاں اخبار کی تیاری کے تمام مراحل مکمل کئے جانے کو یقینی بنایا جائے۔ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے ذمہ داران نے قومی احتساب بیورو سے بھی مطالبہ کیا کہ فیصل آباد سے ڈیکلریشن لینے والے تمام قومی و مقامی اخبارات کے خلاف انکوائری کی جائے اور فراڈ و دھوکہ دہی کے ساتھ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے اخباری مالکان کیخلاف نیب تحقیقات کی جائیں۔

Related posts