نیو ٹی وی اور نئی بات : سپرئیر گروپ آف کالجز کے مالک کا فراڈ بے نقاب

فیصل آباد (رانا ندیم شہزاد) سپرئیر گروپ آف کالجز کے مالک عبدالرحمان کا نیو ٹی وی اور نئی بات کے حوالے سے کیا گیا فراڈ بے نقاب ہو گیا ہے ۔ نیوز ٹی وی کا فراڈ عدالتی حکم امتناعی کا سہارا لے کر سالہا سال تک جاری رکھا گیا۔ عدالت میں پیمرا نے فراڈ ثابت کیا اور حکم امتناعی خارج کروا کے نیوٹی وی کی بندش کا حکم نامہ جاری کر دیا ۔ ٹی وی چینل مالکان کی تنظیم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن بھی سپرئیر گروپ آف کالجز کے مالک کا فراڈ بے نقاب ہونے کے باوجود اس کے تحفظ کیلئے میدان میں آگئی ہے اور فراڈ کے باوجود لائسنس معطلی کا فیصلہ منسوخ کروانے کیلئے کوشاں ہے ۔ صرف ٹی وی چینل کی حد تک ہی نہیں سپرئیر گروپ کے مالکان نے نئی بات فیصل آباد کا ڈیکلریشن تو حاصل کیا گیا مگر فیصل آباد میں اس کی اشاعت ہی نہیںکی جاتی ۔ لاہور سے چند سو اخبارات بھجواکر فیصل آباد کی ہزاروں کی سرکولیشن کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا اور کروڑوں روپے کے سرکاری اشتہارات ڈکار لئے گئے۔ ضلعی انتظامیہ اور پی آئی ڈی حکام فراڈ سے آگاہ ہونے کے باوجود سپرئیر کالج کے مالکان کیخلاف کوئی ایکشن لینے سے گریزاں ہیں۔ نیوز لائن کے مطابق سپرئیر گروپ آف کالجز کے چیف ایگزیکٹو عبدالرحمان نے نیو ٹی وی اور نئی بات کے نام سے اپنا میڈیا ہاؤس بنایا تھا۔ نیو ٹی وی ”نیو نیوز” کے نام سے چینل شروع کرتے ہوئے فراڈ یہ کیا گیا کہ ایک انٹرٹینمنٹ چینل کا لائسنس خریدا گیا اور اسے نیو نیوز کے نام سے لانچ کردیا ۔ پیمرا نے اس فراڈ پر اعتراض کیا تو فراڈ بند کرنے کی بجائے عدالتی چارہ جوئی کرکے حکم امتناعی کی آڑ میں نیو نیوز چلایا جاتا رہا ۔ شہباز شریف پر مسلسل حکم امتناعی کی آڑ میں حکومت چلانے کا واویلا کرنے والے چند صحافتی عناصر بھی اس فراڈ کا حصہ بن گئے اور حکم امتناعی کی آڑ میں ایک انٹرٹینمنٹ چینل کو نیوز کے طور پر چلانے میں عبدالرحمان کا ساتھ دیتے رہے اور ابھی بھی مسلسل دے رہے ہیں۔ پیمرا نے بھی عدالتی کارروائی کا جواب عدالتی جنگ سے ہی دیا اور عدالت میں فراڈ ثابت کرکے نیو ٹی وی کا لائسنس معطل کرنے کی اجازت حاصل کر لی اور فوری اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے چینل کا لائسنس معطل اور نشریات روک دیں ۔ نیو ٹی وی کے مالکان کا فراڈ عدالت میں بے نقاب ہونے کے باوجود پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) بھی اس فراد کا تحفظ کرنے کیلئے میدان میں اتر آئی ہے۔ قانونی حوالے سے نیو ٹی وی کے مالکان کی کمزور ترین پوزیشن دیکھنے اور فراڈ ثابت ہونے کے باوجود پیمرا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ لائسنس معطلی کا فیصلہ منسوخ کروانے کا ”حکم ” نما مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سپرئیر گروپ کے مالکان کا فراڈ صرف نیو ٹی وی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اخباراتی فراڈ میں بھی شامل ہو گئے۔ نئی بات کے نام سے ایک اخبار شروع کیا گیا۔اخبار کو درجن بھر شہروں سے شروع کرنے کا خبط تو سر میں سما گیا مگر پھر ہمت جواب دے گئی۔ فیصل آباد سے ڈیکلریشن تو لے لیا گیا مگر ایک دن بھی اس کی اشاعت فیصل آباد سے نہیں کی۔ لاہور سے چند سو اخبار شائع کرکے فیصل آباد بھیج دئیے جاتے ہیں۔ اور ہزاروں کا سرکولیشن سرٹیفکیٹ حاصل کررکھا ہے۔ کروڑوں روپے کے سرکاری اشتہارات روزنامہ نئی بات فیصل آباد کے نام سے حاصل کرچکے ہیں مگر ابھی تک فیصل آباد سے اشاعت شروع نہیں کی۔ قانون کی رو سے اخبار منظور شدہ ڈیکلریشن کے مطابق متعلقہ شہر اور منظور شدہ پرنٹنگ پریس سے شائع کرنا ضروری ہے مگر یہاں قانون کی مانتا کون ہے۔ پی آئی ڈی’ ڈی جی پی آر اور ضلعی انتظامیہ صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود اس کے خلاف کوئی ایکشن لینے کو تیار نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق اخبار کے حالات لاہور سمیت تمام شہروں میں دگرگوں ہی ہیں۔ تمام شہروں میں سرکولیشن سرٹیفکیٹ درست نہیں ہیں جبکہ کئی شہروں میں تو شائع ہی نہیں ہوتا اور ڈمی شائع کرکے کروڑوں کے اشتہارات حاصل کئے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر ندیم جاوید’ جنرل سیکرٹری ذیشان خان اور دیگر عہدیداران کا کہنا ہے کہ فراڈ اور قانون کی خلاف ورزیوں میں ملوث میڈیا ہاؤسز کے مالکان کیخلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ نیو ٹی وی کیخلاف پیمرا کا ایکشن درست ہے تو پیمرا کو اس پر ثابت قدم رہنا چاہئے ۔ نئی بات فیصل آباد سمیت دیگر شہروں کے معاملات اگردرست نہیں ہیں تومتعلقہ شہر کے ڈپٹی کمشنرز کو ان کے خلاف ایکشن لینا چاہئے اور اخبار کی اشاعت کے معاملات قانون کے مطابق درست کروانے چاہئیں۔ اس حوالے سے پی آئی ڈی اور ڈی جی پی آر کے حکام بھی اپنا کردار ادا کریں۔

Related posts