ورکرز کی جنگ:افضل بٹ’ رانا عظیم’ پرویز شوکت کے امتحان کا وقت آگیا

فاقوں کی نذر کیجئے قلم کے سپاہیوں کو
اور پھر ان کے نام پر آزادی اظہار بیچئے

میرے بھائیوں جیسے دوست نے کیا ہی خوب بات کی ہے۔ پاکستان کا واحد شعبہ میڈیا ہے جہاں ملک کا کوئی قانون لاگو ہی نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کیلئے کام شروع کیا تو سب سے پہلے اے پی این ایس نے اس کی مخالفت کی۔ اپنے تائیں ایڈیٹرز کی تنظیم کہلانے والی سی پی این ای نے بھی جھٹ مالکان کی خوشنودی کیلئے بیان جھڑ دیا کہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قابل قبول نہیں ہے۔ پرنٹ میڈیا کیلئے قوانین موجود ہیں ان کے مطابق ہی کام چلنے دیا جائے۔ مالکان کی خوشنودی کیلئے بیان جھڑتے ہوئے سی پی این ای کے ذمہ داران نے یہ بھی نہ سوچا کہ دنیا اسے ایک آزاد تنظیم گردانتی ہے۔مگر سی پی این ای اس میں مکمل طور پر فیل ہوگئی۔ مالکان کا وقت آیا تو سی پی این ای نے بیان دیدیا مگر یہی تو وقت تھا جب ملک بھر سے میڈیا ورکرز فارغ کئے جارہے تھے لیکن سی پی این ای کی طرف سے مالکان کے حق میں ایک بھی بیان نہیں آیا۔ سی پی این ای پر زیادہ کیا بات کی جائے یہ تو ہے ہی مالکان کی تنظیم ۔ اس کے عہدیدار مالکان خود ہیں۔ یہاں تو پی ایف یو جے کے بھی کسی گروپ نے بھی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کوورکرز کے تناظر میں نہیں دیکھا۔ پی ایف یو جے کے تمام گروپس نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بغیر مجوزہ اتھارٹی کے معاملات اور قانون کا جائزہ لئے اس کی مخالفت میں بیانات جاری کرنا شروع کردئیے۔ اے پی این ایس سے پی ایف یو جے تک تمام بیانات ایک ہی گردان سے شروع ہوئے اور اسی پر ختم ہوگئے کہ” ہم نہیں مانتے”۔
نہ ماننا ہر کسی کا جمہوری حق ہے مگر قوانین اور اتھارٹیز کو نہ ماننے کیلئے کوئی معقول جواز تو ہونا چاہئے تا کہ اس پر دلیل کے ساتھ بات کی جاسکے۔ میں نہیں مانتا کی مسلسل گردان کے درمیان پورے ملک سے صرف ایک آواز دلیل کے ساتھ بلند ہوئی اور یہ آواز لاہور ‘ اسلام آباد’ کراچی جیسے بڑے میڈیا سٹیشنز سے نہیں بلکہ فیصل آباد سے آئی۔ واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا گیا کہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو اسی صورت تسلیم کیا جائیگا کہ میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی ضمانت دیگی۔ ورکرز کیخلاف مالکان کے ہاتھ مضبوط نہیں کرے گی۔ اخبارات اور تی وی چینلز میں کھلے عام لی جانیوالی بیگار کا خاتمہ اور میڈیا کے بیگار کیمپ بند کروائے گی۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے بیوروز کی فروخت بند کرنے میں معاون ہوگی۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز سے ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کرے گی۔اور اگر یہ سب نہیں کرسکتی تو کسی نئی اتھارٹی کی ضرورت نہیں ملک کو لوٹنے کی اجازت تو پہلے ہی ہے تو ایسے ہی میڈیا مالکان کو ملک لوٹنے ‘ لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے اور بیگار کیمپ چلانے کی کھلی اجازت دئیے رکھی جائے۔
امیر تیمور اور چنگیز خان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی سلطنت کی خوشحالی کی بنیاد انسانی کھوپڑیوں پررکھی تھی مگر اس کو کیا کہئے کہ میڈیا مالکان نے مجوزہ میڈیا ریگولیٹری کیخلاف تحریک کی بنیاد سینکڑو ں میڈیا ورکرز کے خون پر رکھی ہے۔ تحریک شروع کرنے سے قبل ہی میڈیا ورکرز کی بہت بڑی تعداد کو اخبارات اور ٹی وی چینلز سے فارغ کرکے پیغام دیا گیا کہ ورکرز گھروں سے نکل آئیں اور حکومت کیخلاف میڈیا مالکان کی جنگ لڑنے کیلئے تیار ہوجائیں جب اس پر بھی میڈیا ورکرز نے مالکان کی حکومت کیخلاف سازش سمجھتے ہوئے اندھا ایکشن کرنے سے انکار کردیا تو میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے خلاف مالکان کی جنگ لڑنے کیلئے ورکرز کی یونین پر قبضہ کرنے کی ”ماسٹر پلان سازش تیار کر لی گئی ۔ صرف تیار ہی نہیں ماسٹر پلان سازش پر ”پاکستان نیوز میڈیا ایسوسی ایشن ”کے نام سے عمل درآمد بھی شروع کردیا گیا۔
مان لیتے ہیں کہ مجوزہ ”پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی” کے قیام سے ایک بہت بڑا ظلم کیا جارہا ہے مگر ورکرز کو یہ تو بتایا جائے کہ کیا ظلم ڈھانے کی تیاری ہے۔ کیا میڈیا مالکان سے بھی زیادہ ظلم ورکرز پر یہ اتھارٹی ڈھائے گی۔اے پی این ایس کا یہ رونا بھی تسلیم کرلیتے ہیں کہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی غلط ہے اس کا قانون بھی غلط ہے بے نظیر بھٹو کے دور میں بنا ”آر پی پی او” بعد میں ہونیوالی تمام ترامیم کے ساتھ بھی مجوزہ نئے قانون سے بہتر اور آزادی صحافت کا چورن بیچنے کیلئے مناسب ہے تو صاحب اس قانون پر ہی عمل کروا لیتے ہیں۔ آر پی پی او کی موجودگی میں کیسے ڈمی اخبارات چھپ رہے ہیں۔ آر پی پی او نافذ ہے تو کیوں اخبارات کے دفاتر بیگار کیمپ بنے ہوئے ہیں۔ فیصل آباد میں چار سو سے زائد ڈیکلریشن ہیںمگر مارکیٹ میںصرف لاہور کے ہی اخبارات ہی آتے ہیں۔ ملک کا کوئی اخبار اپنی اصل اشاعت کے ساتھ اے بی سی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ چلئے دو گنا نمبرز کے ساتھ اے بی سی رجسٹریشن بھی قبول کرلیتے ہیں مگر یہاں تو سو گنا زائد اء بی سی رجسٹریشن کروائی گئی ہے۔ اے پی این ایس کا فیصل آباد سے جوائنٹ سیکرٹری پیغام اور ڈیلی بزنس رپورٹ بن رہے ہیں اور تسلسل کے ساتھ بن رہے ہیں۔ چلئے یہ اے پی این ایس کے عہدیدار انہیں دس گنا زائد اے بی سی کی اجازت دیدیں مگر صاحب کیا کریں انہوں نے تو سو گنا کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ فیصل آباد میں لاہور’ کراچی’ اسلام آباد کے کسی بڑے اخبار کا بیورو بغیر پیسے کے نہیں ملتا۔ فیصل آباد سمیت کسی شہر میں اپنے نمائندے کو تنخواہ نہیں دیتے۔ تنخواہ نہیں دیتے تو نمائندہ اپنی گزر اوقات ”بلیک میلنگ” یا بھیک و نذرانوں کے علاوہ کیسے کرسکتا ہے۔تنخواہیں نہیں دینی تو نمائندے رکھے ہی کیوں ہیں۔ نمائندے نہیں رکھے تو ان علاقوں سے نمائندوں کے نام سے خبریں کیسے شائع کی جارہی ہیں۔ فیصل آباد سے روزنامہ طاقت نام کا بھی ایک اخبار شائع ہوتا ہے۔ بیس سالوں میں ایک دن بھی روزنامہ طاقت فیصل آباد مارکیٹ میں نہیں آیا۔ مگر اس کے نام پر کروڑوں روپے کے اشتہارات جاری ہورہے ہیں۔روزنامہ طاقت فیصل آباد میں ہے ہی نہیں یہاں کوئی ورکر کام کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو ایک پائی تنخواہ دی جاتی ہے مگر پی آئی ڈی کے ریکارڈ میں دو درجن سے زائد کا سٹاف ظاہر کیا ہوا ہے اور سالانہ کروڑوں روپے کی تنخواہیں ان ورکرز کو دی جاتی ہیں۔
پاکستان نیوز میڈیا ایسوسی ایشن ۔نام تو بہت اچھا ہے مگر اس سب میں اصل حقیقت کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ میڈیا ورکرز کی بنیادی جنگ ہی مالکان کے ساتھ ہے۔ اخباری مالکان اور اخباری ورکر کا مسئلہ ایک نہیں ہوسکتا۔پاکستانی میڈیا کی اس سے زیادہ کیا بدقسمتی ہوسکتی ہے کہ میڈیا کی سب سے بڑی تنظیم بنانے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کی کنونیئر کمیٹی کا چیئرمین ضیاء شاہد کو بنایا گیا ہے۔ روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر اور پبلشر ضیاء شاہد کی قابلیت اور صحافتی لیاقت سے انکار ممکن ہی نہیں ہے۔ انہوں نے ایک طویل عرصہ ایک ورکر کے طور پر کام کیا مگر اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں کہ پاکستان میں تنخواہ نہ ملنے پر اور مالکان کے ظالمانہ روئیے کی وجہ سے دو ورکرز نے خود کشی کی ہے اور یہ دونوں ہی روزنامہ خبریں کے تھے۔ ورکر کا اصل مسئلہ روٹی ہے۔ مالکان تنخواہیں نہیں دیتے۔ جاب سکیورٹی نہیں ہے۔ ویج بورڈ کا نفاذ نہیں کرتے۔ اخباری دفاتر کو بیگار کیمپ بنایا ہوا ہے۔ اخباری دفاتر میں ٹھیکیداری نظام اور بیوروز کی فروخت کا دھندا چلایا جارہا ہے۔ بلیک میلنگ میں براہ راست اخباری مالکان ملوث ہیں۔ بغیر تنخواہ ورکرز سے کام لیا جائے گا تو بلیک میلنگ ‘ نذرانوں اور بھیک کے سوا دوسرا کیا آپشن ہے ورکر کے پاس ۔
پاکستان نیوز میڈیا ایسوسی ایشن کا ایجنڈا بالکل واضح ہے کہ یہ اخباری مالکان کا چورن بیچنے کیلئے بنائی جارہی ہے۔ اس میں ضیاء شاہد کا کوئی قصور نہیں ‘ رمیزا نظامی اور میر شکیل الرحمان کا بھی کوئی قصور نہیں۔ مجیب الرحمان شامی کی تو بات ہی نہ کی جائے ان کے تو بہت سے معاملات اب منظر عام پر ہیں۔ دوسرے تمام مالکان کی بقاء بھی ایسے ہی کسی ایجنڈے پرمنحصر ہے۔اس وقت اصل امتحان پی ایف یو جے کے صدور افضل بٹ’ رانا عظیم’ پرویز شوکت’ نواز رضا ‘ امتیاز فاران’ شکیل قرار’ ارشد انصاری رضاء الرحمان ‘ بخار شاہ کا ہے۔ انہیں اب ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اب تک مالکان کے حقوق کا تحفظ کرنے کی سیاست کررہے تھے یا ورکرز کی حقوق کی جنگ کیلئے میدان میں تھے۔ یہ امتحان اب زیادہ دیر نہیں لے گا۔ مالکان اپنی صفیں درست کرکے میدان میں آچکے ہیں۔ وقت کی آنکھیں ہر لمحے پر ہیں۔ مالکان کے ٹاؤٹ بن کر ورکر تنظیموں کی سیاست کرنے والے مالکان کی صفوں میں ہی گھسیں گے۔ تاریخ کا ہاتھ وقت کی نبض پر ہے۔نقاب بس اٹھنے کو ہی ہے۔ سب بے نقاب ہونے کو ہیں۔ اخباری کارکنوں کا معاشی خون کرکے اپنے محل بچانے کی جنگ کرنے والوں کا ساتھ کون دے گا یا ورکرز کے حقوق کی جنگ کس نے لڑنے ہی اس کا فیصلہ اخباری مالکان کی چھترچھایہ میں بننے والی تنظیم بننے کے ساتھ ساتھ ہی ہوتا جائے گا۔
پاکستان نیوز میڈیا ایسوسی ایشن اور اے پی این ایس کا اگر یہ مؤقف بھی تسلیم کرلیا جائے کہ مجوزہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام درست نہیں ہے ۔ اس کیلئے بنائے جانیوالے قوانین بھی درست نہیں ہیں۔ آر پی پی او بہترین قانون ہے اس کو ہی نافذ رکھا جائے ۔تو اس پر حکومت سے بات ہو سکتی ہے مگر اس مطالبے کو بھی ورکرز تنظیمیں اپنے ایجنڈے میں رکھیں گی کہ ملک بھر میں جہاں آر پی پی او کی خلاف ورزی ہو رہی ہوگی اس اخباری مالکان کا مواخذہ اے پی این ایس اور سی پی این ای ورکرز کے ساتھ مل کر کریں گی۔ آر پی پی اوپر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کروایا جائے گا۔ کسی ایسے اخبار کو اشاعت کی اجازت نہیں ہوگی جو آر پی پی او کی خلاف ورزی کرے گا۔ اخباری مالکان کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اس شعر کی عملی تفسیر بنا کر پیش کردیں۔

فاقوں کی نذر کیجئے قلم کے سپاہیوں کو
اور پھر ان کے نام پر آزادی اظہار بیچئے

تحریر : ندیم شہزاد

Related posts