کبوتروں کی بند آنکھیں،بلی کے پنجے اور دانت گردن پر

برِ صغیر میں، بنیادی حقوق ، جمہوریت ، ٹریڈ یونین اور آزادی اظہارِ رائے کی جدوجہد کی تاریخ میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس( پی یو جے) اور قیام پاکستان کے بعدکی تاریخ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس( پی ایف یو جے) کے ذکر کے بغیر نامکمل اور پھیکا ہوگی ۔ پی یو جے عمر میں پاکستان سے پانچ سال بڑی جبکہ پی ایف یو جے دو سال چھوٹی ہے ، اس تنظیم میں کچھ اراکین ایسے بھی ہیں جو اگرچہ متحرک کارکن نہیں لیکن رکن رہیں ہیں اور ان دنوںمیڈیا ہاﺅسز کے مالک ہیں، وہ تنظیم کے مطالبات اگرچہ تسلیم نہیں کرتے لیکن تنظیم کی فعالیت کے دن یاد آنے پرٹھنڈی آہ ضرور بھرتے ہیں ۔پاکستان میں جس طرح جمہوریت پنپنا غالباً ’فتنے‘ کو ہوا دینا خیال کیا گیا ، ایسے ہی حالات کا سامنا پی ایف یو جے کو بھی رہا۔ عسکری طاقت کے دورِ حکومت میں چمنِ ِ جمہوریت کوغیر جماعتی الیکشن کے زہر سے تباہ کیا اور سیاسی کلچر میں آلودگی پھیلانے جیسے’ عظیم کارنامے‘ جیسا حسنِ سلوک پی ایف یو جے سے بھی کیا گیا ۔
جیسے جیسے جمہوریت ’ترقی و بہتری کے بجائے تنزلی کا شکار ہے بین ہی صحافت اور پی ایف یو جے بھی انحطاط کا شکار ہوئی ہے۔اس انحطاط کا ہی نتیجہ ہے کہ میڈیا انڈسٹری کارکنوں سے خالی کرنے کیلئے میڈیا مالکان کند چھری ہاتھ اور پاﺅںسے چلارہے ہیں لیکن مزاحمت دکھائی نہیں دیتی ، جو مزاحمت سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے ، اس میں مصنوعی پِن جانے کیوں غالب دکھائی دیتا ہے۔کارکنوں کو ’ماموں‘ بنانے والے لیڈر سرمایہ دار ، لٹیرے اور کریمنل ریکارڈ رکھنے والے سیاستدانوں سے بھی زیادہ ذہین ہیں اورر کارکن پڑھے لکھے ہونے کے جائز دعوﺅں کے باوجوداپنے حقوق، انہیں تحفظ دینے والے قوانین سے نابلد، محض نعروں پر نعرے لگاتے’ ماموں ‘بنتے دکھائی دیتے ہیں۔
تنظیموں میںعہدے حاصل کرنے اور ’مخصوص خدمات‘ انجام دینے کیلئے نئے نئے نام سے گروپ ۔ دھڑے دھڑا دھڑ قائم ہورہے ہیں ، ایک دھڑا کچھ ماہ پلے یا انہی دنوں میں بننا تھا جسے روکنے کیلئے فقیرانا غوغا بڑی حدتک( تادمِ تحریر) کچھ کچھ کامیاب ہوا ہے ۔ اس کا ماسٹر مائنڈ بھی وہی ہے جوببانگِ دہل اعلان کرچکا ہے کہ صحافت اس کا کاروبار ہے اور وہ اپنا کاروبار کرنا جانتا ہے ۔ اسے بہت سے ٹیکٹس آتے ہیں جنہیں وہ کمال ہوشیاری سے استعمال کرتا ہے ، اسے شعبدہ بازی بھی خوب آتی ہے اور دوسروں کے پیچھے لگانے کا رحجان بھی اس کی خاس صلاحیتوں میں شامل ہے جبکہ اس کی راہ کے کانٹے مرحلہ وار چنے جاچکے ہیں اور اب اس کا کوئی حریف مقابل نہیں ، میری دانست میںمیڈیا انڈسٹری میں معاشی بحران کا ماسٹرمائنڈ بھی وہی ہے ، جو چاہتا کہ پہلے بہت پنپنے والے مقابل اداروں کو’ ہنرمندوں‘ سے خالی کروایا جائے اور جب ان میں پ۰روفیشنل وینٹی لیٹر کے بجائے آکسیجن سلنڈر استعمال ہونا شروع ہوتو وہ یک دم نئی روح پھونک کر باقی سبب کو لاشیں بنا دے ۔
برسات میں پھوٹنے والی خود رو جڑی بوٹیوں کی طرح جب ویٹس ایپ گروپ بھی خود کو پی ایف یو جے لکھنے لگے، حقیقی نمائندہ تنظیم کی سرگرمیاں عملیطور پر معطل ہوں اورجاڑے کا شکار دینے لگیں تو تو مجھے بھی” پی ایف یو جے سوشل میڈیا “ بنانے کی’ اُشکل‘ آئی لیکن تنظیمی ڈسپلن نے دماغ مزید خراب نہیں ہونے دیا۔
حالات کا جائزہ لیکر سوشل میڈیا ( فیس بک) پر ایک پوسٹ لگائی کہ مستقبل میں پی ایف یو جے کا نام اے پی این ایس ہوگا ، اس پر طرح
طرح کے تبصرے کیے گئے لیکن ایک تبصرے نے دماغ ماﺅف کردیا ،ایک ایسے تبصرے نے جو پی ایف یو جے کے ایک سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل، جو مسلم لیگ ن کے ’رضاکار ‘ ہیں اور انہیں اپنے گھر میں صحافیوں کے اعزاز میں دیے جانے والے ظہرانے میں دیکھ کر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبازشریف نے ان سے استفسار کیا تھا کہ آپ بھی صحافی بن گئے ہیں ؟، ان صاحب کا تبصرہ پڑھ کر میں نے ان سے گذارش کی کہ آپ اسے یوں پڑھ لیں کہ اے پی این ایس مستقبل میں پی ایف یو جے ہوگی ۔میں کم از کم ایسے ہی دیکھ رہا ہوں۔۔۔ الفاظ کی بگڑتی ترتیب کایہ عکس مجھے اُس آئینے میں نظر آیا جسے ٹی وی سکرین کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ 
یہ قرارداد ِ پاکستان منظور کیے جانے سے منسوب یومِ جمہوریہ پاکستان کی تقریب ( پریڈ)تھی۔ٹی وی سکرین پر ایک مقتدر ادارے کے کامیاب میڈیا ہاﺅس کی عکاسی کی جارہی تھی ، مجھے اس سے یہ پیغام مل گیا ہے کہ نجی ٹی وی چینل کچھ سرکاری تقریبات کی جو نشریات خود براہِ راست دکھانے کے قابل نہیں ہوتے تھے ، وہ اس کی ”فیڈ‘ پاکستان ٹیلی ویژن سے لے لیا کرتے تھے ، ضروری سمجھا تو پی ٹی وی کیلئے ’شکریہ‘ لکھنے کا تکلف کرلیا ، ضروری نہیں سمجھا تو کوئی پروا بھی نہیں ۔۔ اس بار یومِ جمہوریہ پاکستان یعنی قراردادِ پاکستان کے ’یومِ تاسیس ‘ پر سرکاری تقریب کی کوریج کے دوران دفاع پر مامور مقتدر ریاستی ادارے کی ایک برانچ(آئی ایس پی آر) کا نام لکھا ہوا تھا۔ پیشہ ورانہ براڈ کاسٹنگ مہارت واضح تھی ۔ اس تقریب میں ایک کمال اور تھا ، وہ صدرِ مملکت کی تقریر تھی جسے پڑھتے ہوئے ان کی زبان چغلی کھا رہی تھی کہ یہ ان کی تقریر نہیں تھی ، جو اردو پڑھتے ہوئے بھی اٹک رہے تھے اور جب ان کے کسی جملے پر تالیوں کی آواز گونجتی تو وہ کچھ توقف کیے بغیر بے نیازی سے بات جاری رکھتے دکھائی دئے حالانکہ جو مقرر بات کررہا ہو ، اس کی بات پر پنڈال میں تالیاں بجنے لگیں تو اس کی زبان خود بخود ہی رک جاتی لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ یوں لگتا تھا کہ ماسٹر کا ڈر ہے اور سبق فر فر سنانا ہے ۔ پاکستان شہری کی حیثیت سے غور کیا جائے تو پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں یہ بہتری عسکری رعب داب والی تقریر تھی ، یعنی اگر یہ تقریر صدرِ مملکت کی سول تقریب کے بجائے پاک فوج کے سپہ سالار کو عسکری تقریب میں پڑھنے کیلئے دی جاتی تو بڑی فِٹ ، جاندار ولولے اور جوش والی تھی۔سول تقریب میں جو کچھ باتیں کہی جاسکتی تھیں ، جمہوری انداز میں جو باتیں کہی جاسکتی تھیں ، وہ صدرِ مملکت کی تقریر اور بادی لینگوئج میں موجود نہیں تھیں ۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے ۔
آئی ایس پی آر کے ایک منجھے ہوئے پیشہ ورانہ انداز سے سامنے آنے والے بڑاڈ کاسٹنگ کے تجربے اور ریہرسل نے ریاست کے دیگر اداروں ریڈیو پاکستان ، اے پی پی اور پی ٹی وی کی حیثیت ثانوی ثابت کردی ہے ، شائد یہی وجہ ہے کہ حکومت ِ پاکستان ریڈیو پاکستان کی نشریات مقبوضہ جموں و کشمیر ، بھارت اور افغانستان میں سنے جانے کو بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے الفاظ میں ’دراندازی ‘سمجھتی ہے۔ وہ نریندرا مودی جنہوں نے پلوامہ واقعے اور پاکستان میں دراندازی پر اپنے ملک کے اندر ہونے والی تنقیدپر کہا تھاکہ بھارتی کانگرس اور حزبَ اختلاف کی دوسری جماعتیں پاکستان کی پارلیمنٹ اور ریڈیو پاکستان کی زبان بول رہی ہیں ۔ ریڈیو پاکستان کی نشریات محدود کرنے کا اس کے ماسوا کوئی دوسرا رخ واضح نہیں ہوتا کہ ان نشریات سے بھارت کے عوام کے بجائے صرف پاکستان مخالفت میں بھارتی وزیراعظم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔ یہ نشریات بند کرنے کا فیصلہ یومِ پاکستان کی تقریب سے پہلے ایک اجلاس میں کیا جانا تھا جو وقتی طور پر

موخر ہوا؟موخر کیا گیا ، یاکتنے روز کیلئے موخر کیا گیا ؟یہ محکمہ اطلاعات کے حکام ہی جانتے ہیں یا وزیراطلاعات کچھ بتاسکتے ہیں جو نجی میڈیا مالکان سے لی جانے والی بریفنگ کی بنیاد پر ریڈیو پاکستان کی تمام نشریات ایف ایم ریڈیو پر چلانے پر تُلے ہوئے ہیں جو ریڈیائی لہروں کا سفر سرے جانتے ہی نہیں ہیں ۔ 
آئی ایس پی آر کے براڈ کاسٹنگ تجربے سے ہماری ایک امید اور نعرہ دم توڑجائے گا کہ حکومت نجی میڈیا مالکان کی بلیک میلنگ سے بچنے کیلئے نیشنل پریس ٹرسٹ ( این پی ٹی ) اور اس کے اخبارات بحال کرے ۔ اب آئی ایس پی آر سے یہ کام بخوبی لیا جا سکتا ہے ۔ نجی میڈیا مالکان اس کی فیڈ حسبِ ضرورت بھی لیں گے اور کارِ ثواب کے ساتھ ساتھ حسبِ حکم بھی لیں گے ۔ اس طرح اگر حکومت بتدریج سرکاری اشتہارات پر کٹ لگاتی ہے جو کہ اسے فوری طور پر لگانا چاہئے اور سرکاری اشتہار نجی ریڈیو ، ٹیلیویژن چینلز اور اخبارات پر ممنوع قراردیکر قومی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ کم کرنا چاہئے کیونکہ یہ اشتہارات بنیادی طور پر میڈیا مالکان کے کیلئے ایک رشوت ہے یہ رشوت بند ہونا چاہئے ،اگر رشوت کے بجائے مالی معاونت قراردی جائے تو اس میں کارکنوں کا حصہ کتنا ہے ۔ اس کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہئے کہ مغربی پاکستان کے پاکستان بننے سے لیکر اب تک میڈیا مالکان کو کتنے اشتہارات دیے گئے ، ان میں سے میڈیا کارکنوں کو کیا ملا ؟ اس سے پہلے جب اخبارات شائع ہوتے تھے تو اس میں کتنے کارکن کام کرتے تھے ؟ کیا ان کارکنوں کو اجرت سرکاری اشتہارات سے ہی ادا کی جاتی تھی ؟ ایسا کوئی کٹ لگنے سے میڈیا مالکان کی چیخیں نکلیں گی جبکہ اسی دوران حکومت نجی میڈیا کو اپنی لاٹھی سے ہانکنے کی پوزیشن پر آبھی سکتی ہے ۔
بہر حال مجھے وہم ہوچلا ہے کہ میڈیا کارکنوں کا معاشی قتلِ عام کرنے والے ( کچھ میڈیا مالکان اس ظلم کا حصہ نہیں بھی ہیں ) میڈیا مالکان خود سڑکوں پر آئیں گے ، جیسے ان دنوں میڈیا کارکن احتجاج کررہے ہیں ، تب ان میڈیا مالکان کے پاس جلوس نکالنے کیلئے افرادی قوت نہیں ہوگی ، کیونکہ یہ افرادی قوت تو میڈیا مالکان چولہوں کی ٹھنڈی راکھ میں دفن کرچکے ہیں ، یہ کارکن حکومتوں اور آمروں سے ٹکرانے والی فورس ہے جسے ریاستی ادارے ماضی میں پوری تسخیر نہیں کرسکے تھے اور بخوبی جانتے ہیں کہ جب بھی کارکن صحافیوں کو دباسنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے مزاحمت کی ، دبانے میں پوری کامیابی نہ ملی ، پھر جب کسی میڈیا ہاﺅس کو دبانے کی کوشش کی گئی تو تاریخ گواہ ہے کہ کارکن ہی ڈھال بنے کیونکہ ماضی میں صحافیوں کی کمٹمنٹ اپنے پیشے سے کیا تھی اور اب کیا ہے ؟ جبکہ صحافت ماضی میں تو صرف کچھ خاص قسم کے صیاستدانوں ، اداروں کو ”وارا ‘ نہیں کھاتی تھی ، اب میڈیا مالکان کو بھی ”وارا‘ نہیں کھاتی بلکہ میڈیا مالکان نے خود ہی صحافت اور صحافیوں کا گھلا گھونٹ ڈالا ہے ۔ تو اگلا شکار میڈیا مالکان ہی ہونگے ، یہ ان کی خام خیالی ہے کہ بلی ان کبوتروں کوشکرے سمجھ کر چھوڑ دے گی بلکہ جب چاہے گی گردن سے دبوچ لے گی تو اے پی این ایس سڑکوں پر نعرہ زن ہوگی تب وہ میڈیا مالکان ایک بار پھر ٹھنڈی آہ بھریں گے جو کبھی پی ایف یو جے کا حصہ رہے تھے اور مالک بننے کے بعد اسی تنظیم کے خلاف سازشیں کرنے میں ملوث رہے یا یونین کے عہدیداروں اپنے اداروں میں مراعات پانے والوں کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کرتے رہے مگر اب ان کی مدد کرنے والا کوئی دور تک نہیں ہوگا ، لیکن اگر کوئی ایساکرے گا بھی وہ اپنی موت خود مارا جائے گا۔
دور کی بات نہیں کہ جب لاہور میں کارکنوں کی چھانٹیوں کے خلاف بننے والے مشترکہ ایکشن کمیٹی نے حمید نظامی مرحوم کے ادارے نوائے وقت گروپ کے باہر احتجاج کیا کیا تو حمید نظامی مرحوم کے ایک لالچی بھائی مجید نظامی کی لے پالک کی خوشنودی حاصل کرنے والے کارکن اُس احتجاج کا حصہ نہ بنے اور اس احتجاج کا” بدلہ “ لینے میں ناکامی پر اس لے پالک نے سب کی وفاداری پر ٹھوکر ماردی اور ان کے ساتھ ساتھ مزید کارکن بے روزگار کردیے ،صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ دنیا بھر کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد ازخود ہی ساٹھ سال سے پچاس سال کردی ، یہ ہے تو تلخ لیکن حقیقت ہے ۔۔ کچھ ساتھیوں کو ناگوار بھی گذرے گی لیکن یہ بات انہیں کارکنوں کا ساتھ نہ دینے اور انتظامیہ کا ساتھے دیتے وقت سوچنا چاہئے تھی ، کہا جاتا ہے کہ اس ادارے کا سرمایہ بھی بیرون ملک منتقل ہو چکا ہے ، ایسا ہی ہونا چاہئے تھا اُس شخص کی دولت کے ساتھ جس نے اپنے خون سے غداری کی اور کارکنوں کے مارے ہوئے حق سے اکٹھی کی جانے والی دولت ایک قسم کی راہگیر پر ’لٹا‘دی۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ نوائے وقت ورکرز یونین قانونی جنگ لڑرہی ہے ۔ موجودہ صورتحال کا سامنا کرنے والے ہمارے کارکن ساتھیوں کو یہ بات کچھ ماہ پہلے سمجھنا چاہئے تھی جسے وہ نہیں سمجھ سکے ، یہی بات اُن کارکنوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جو سمجھتے ہیں کہ شائد ان کی باری نہیں آئے گی ۔ 
یہ بات ایک لمحے کے لئے نظر انداز کرنے والی نہیں بلکہ ہر لمحے یاد رکھنے والی ہے میڈیا بحران کا ماسٹر مائنڈ تمام اشاعتی و نشریاتی اداروں کو ڈیڈکرنے کے بعد اچانک انگڑائی لے گا اور سب کو مات دےدے گا ،جس سے کوئی دوسرا ادارہ سنبھل نہیں سکے گا اور اس سے پہلے اے پی این ایس اور پی بی اے کو سڑکوں پر بھی لائے گا ، رلائے گا ، ۔۔تب ہمیں اپنی پی ایف یو جے کی طرح پی بی اے اور اے پی این ایس کے سفید پگڑی سڑکوں پر کالی ہوتی دکھائی دے گا ۔ میڈیا پر سرکار کے حکم پر ہی سب کچھ چلے گا ورنہ ادارے بند کرنے کی ہلکی سے دھمکی ہوا میں مرغا بننے کی پریکٹس کروانے کیلئے کافی ہوگی ۔ اس کےلئے آئی ایس پی آر زندہ بار ، ایف بی آر زندہ باد ۔۔ ڈنڈا سرکار زندہ باد ۔۔۔کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ، بھلے بھوتوں کے رنگ ، کپڑے ، چہرے جیسے بھی ہوں ۔۔۔
یہ بات ایک عام میڈیا کارکن جانتا ہے تو میڈیا مالکان کیوں کسی خاص’ لہر‘ او’ر سحر‘ میں ہیں ؟ یہ بات پی ایف یو جے کی قیادت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے اور کارکنوں کو بھی خاص طور پر ان کو جو تنظیمی امور سے انجان بنے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی جو دوسروں کو انجان بنانے کی ناکام کوشش میں ہیں ۔۔۔ کسی کو بلی کے پنجے اور دانت اپنی گردن پر محسوس نہیں ہورہے ۔۔ حیرت ہے ۔۔۔

Related posts