ضیاء آمریت کے دوران بھٹو کی پنکی فیصل آباد میں اور شمس الاسلام ناز


شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر ایک
مغربی دنیا کی دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کیلئے اپنی جان سے گزر جانے کا حوصلہ رکھنے والا ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار کو چوم کر دارفانی سے کوچ کرچکا تھا۔عوام کو طاقت کا سرچشمہ بنانے کا نعرہ مستانہ بلند کرنے والے بھٹو کے مشن کو جاری رکھنے کیلئے پنکی سرپر کفن باندھ کر میدان میں نکل آئی تھی۔ بھٹو شہید کے بعد پنکی نے ضیاء آمریت کیخلاف میدان عمل میں آکر جدجہد شروع کی تھی تو بہت سے بے وفا انکلزکے برعکس حق کا پرچم بلند کرنے کیلئے انجام سے بے پرواہ جیالوں کی فوج انہیں ورثے میں ملی۔ ضیائی آمریت ظلم پر ظلم ڈھا رہی تھی ۔ بے نظیر شہر شہر جا کر اپنے بابا کی آواز عوام تک پہنچا رہی تھی۔ ایم آر ڈی کے نام سے جمہوریت کا نغمہ بلند کرنے کی تحریک زوروں پر تھی کہ بھٹو کی پنکی۔ شہیدر محترمہ بے نظیر بھٹو فیصل آباد آئیں۔
سال تھا 1983 کا ۔مشن تھا عوام کے حقوق کی بحالیکا۔ آمریت سے مکمل نجات کا۔ شہید بھٹو کی لاڈلی پنکی سر پر کفن باندھے شہر شہر جا رہی تھیں۔ بی بی شہید حق کا پرچم تھامے لائل پور بھی آئیں۔ مزدوروں کا شہر اس وقت لائل پور سے بدل کر فیصل آباد ہونے کے درمیان کے مرحلے میں تھا۔ لیکن ابھی جیالوں کا رنگ ڈھنگ کہیں کہیں نظر آہی جاتا تھا۔ ضیاء آمریت کیخلاف جیل بھر تحریک میں اس شہر نے اپنا لوہا منوا لیا تھا۔ بہت دیر تک ضیائی مارشل لاء کے کارپردازوں کو ریلوے روڈ کی صادق مارکیٹ سے جیلیں بھرنے کیلئے جیالوں کی سپلائی کا مقام نہیں مل سکا تھا۔ اس کا چشم دید گواہ آج بھی زندہ موجود ہے۔ اس وقت کون کون سے نابغہ روزگار شخصیات نہ موجود تھیں مگر جب بی بی شہید کیلئے مارشل لائی فورسز سے سینہ تان کر سامنے کھڑا ہونے کا وقت آیا تو اپنے گھر کو قربانی کیلئے پیش کرنے کا حوصلہ کوئی بھی نہ کرسکا۔
احمد سعید اعوان بھی پیپلزپارٹی میں تھے۔ چوہدری عمردراز بھی موجود تھے۔ نثار اکبر’امتیاز گل اور شہادت خان بلوچ بھی اسی شہر کے باسی تھے۔ مہر عبدالرشید بھی تو یہیں کے تھے۔ تمام عمر پیپلزپارٹی کا نام الاپنے والے نئیر حسن ڈار اور محمود الحسن ڈار بھی تو یہیں موجود تھے۔ ریاض شاہد’ بدرالدین چوہدری’ نواب شیر وسیر’ رانا فاروق سعید خان ‘ غیاث الدین جانبازبھی اس شہر کے ہی باسی تھے۔ اور سب سے بڑھ کر فضل حسین راہی بھی تو لائل پور کے جیالوں کی آواز بن کر گرج رہا تھا۔ ہاں تازہ تازہ چوہدری شیر علی پیپلزپارٹی کو خیرباد کہہ کر حکومتی سیاسی لشکرکا ھصہ بنے تھے۔ اس وقت تو نوجوان رانا ثناء اللہ خاں بھی پی پی پی کا ہی جیالا تھا۔ایسے ہی وقت میں بی بی شہید نے لائل پور آنے کا اعلان کردیا۔ پلان بن چکا تھا کہ بی بی کب آئیں گے۔ کہاں کہاں جائیں گی۔ کس کس سے ملیں گی۔ آتے ہی سب سے پہلے بی بی کی پریس کانفرنس کا اعلان کیا گیا تھا۔ پریس کانفرنس کیلئے بی بی سی ‘ سی این این سمیت بڑے بڑے اداروں کے نمائندے لاہور اور پنڈی سے آرہے تھے۔ پلان یہ تھا کہ بی بی آتے ہی سب سے پہلے پریس کانفرنس کریں گی اور ضیائی آمریت کیخلاف اپنے لائحہ عمل اور ایم آر ڈی کی جدوجہد کیکے بنیادی نکات کا اعلان کریں گے۔ پریس کانفرنس سابق ایم این اے مہر عبدالرشید کے گھر کی جانی تھی۔ مگر شہید بی بی لائل پور پہنچیں تو انہیں پہلی خبر یہی ملی کہ کچھ ہی دیر پہلے مہر رشید کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پے لے جایا گیا ہے۔ مارشل لائی فورسز بی بی کی پریس کانفرنس رکوانے کیلئے میدان میں ہیں۔ سب کو شٹ اپ کال دی جاچکی تھی اور حکم تھا کہ بی بی کی پریس کانفرنس اور میڈیا نمائندوں سے ملاقات نہیں ہونے دی جائے گی۔
بی بی شہید پریس کانفرنس ضرور کرنا چاہتی تھیں۔ یہ بھی پیغام دینا تھا کہ وہ مارشل لائی قوتوں کا ہر طرح سے مقابلہ کریں گی۔ متبادل پلان بھی رکھتی ہیں اور سازشیں ناکام بنانا بھی جانتی ہیں۔ جیالے بھاگم بھاگ دو کمروں کے پریس کلب پہنچے مگر یہاں بھی تو شٹ اپ کال مل چکی تھی۔ صاف جواب جیالوں کا منتظر تھا۔ لائل پور کے لیڈروں کا ہجوم بی بی کے گرد جمع تھامگر کوئی بھی اپنے گھر کو وقت کے آمر کیخلاف استعمال کرنے کی پیش کش کرنے کی جرأت نہیں کرپارہا تھا۔ آخر یہ ہمت کی بھی تو ایک صحافی نے ۔ انگریزی اخبار کے اس نوآموز نمائندے نے اپنے گھر کو پریس کانفرنس کا مقام بنانے کی پیش کش کی جسے بی بی شہید نے ایک نامی گرامی مقامی رہنما کے مشورے سے قبول کر لیا۔ فیصل آباد کے بڑے بڑے جغادری لیڈرز کی موجودگی میں پنکی نے اس صحافی کے گھر میں پریس کانفرنس کی اور تمام میڈیا کی موجودگی میں اس صحافی کی اس جرأت کو خراج تحسین پیش کیا۔ تمام عمر یہ صحافی اپنے گھر سی 130کے حوالے سے نازاں رہا کہ وہاں بی بی شہید آئی تھیں اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خاتمے کا باعث بھی” سی 130” ہی بنا ۔
بی بی شہید کے خراج تحسین کے الفاظ کو وہ تمام عمر اپنا سرمایہ قرار دیتا رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ ضیائی مارشل لاء کے کارپردازوں نے اس کا کیسے کیسے ناں ناطقہ بند کیا۔ مگر کبھی اف تک نہ کی۔ بی بی کے خراج تحسین کو تمام عمر سرمایہ سمجھنے والے نے اس پریس کانفرنس کی یاد دلوا کر کبھی بی بی سے اپنی خدمت کا معاوضہ لیا اور نہ مراعات کا متمنی رہا۔ مشکل کی اس گھڑی میں مارشل لاء کی پرواہ کئے بغیر بی بی شہید کا مسئلہ حل کرنے والا یہ صحافی اس وقت بھی صحافیوں کے حقوق اور ملک میں اظہار کی آزادیوں کی جنگ لڑنے والی واحد صحافتی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا نائب صدر اور عظیم صحافی رہنما منہاج محمد خان برنا اور نثار عثمانی کا ساتھی شمس الاسلام ناز تھا۔بعد میں یہی شمس الاسلام ناز پی ایف یو جے کا سیکرٹری جنرل بھی بنا اور صحافیوں و اخباری کارکنوں کیلئے وہ تاریخی کام کیا جسے ہم صحافیوں اور ہمارے نام نہاد لیڈرز نے خود ہی برباد کردیا۔
تحریر حامد یٰسین ۔ سابق اسسٹنٹ سیکرٹری ۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس

Related posts