تحریک انصاف کے ایم این اے راجہ ریاض کا انوکھا سیاسی ریکارڈ

فیصل آباد (احمد یٰسین) تحریک انصاف کے ایم این اے اور پنجاب کے سابق سینئر وزیر راجہ ریاض نے اپنے سیاسی کیرئیر میں انوکھا ریکارڈ قائم ہے جو شائد پاکستان کا کوئی بھی سیاسی رہنما نہ توڑ سکے۔ راجہ ریاض نے اپنے گھر والے حلقے میں ساتھ کھڑے ہونیوالے اپنی پارٹی کے رہنما کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔ خود ایم پی اے ہوں تو ایم این اے مخالف پارٹی کو ہوتا ہے اور خود ایم این ا جیتے ہیں تو ایم پی اے مخالف جیت جاتا ہے۔ سیاسی حلقے اسے بھی راجہ ریاض کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں۔ نیوز لائن کے مطابق تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض احمد کے سیاسی کیرئیر کا نتہائی انوکھا اور ممکنہ حد تک نہ ٹوٹنے والا سیاسی ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ راجہ ریاض 1993میںاپنے رہائشی حلقے پی پی 55فیصل آبادسے ایم پی اے بنے تھے مگر ان کے ساتھ ایم این اے ان کی پارٹی کا نہ جیت سکا ۔ یہاں سے مسلم لیگ ن کے حاجی اکرم انصاری جیتے تھے۔ 1997میںوہ خود الیکشن ہار گئے تھے ۔ الیکشن 2002میں یہ حلقہ بدل کر پی پی 65بن گیا ۔ یہاں سے وہ ایم پی اے تو بن گئے ۔مگر اپنے ونگ کو بری طرح ہروا بیٹھے۔ الیکشن 2008میں اس حلقے سے پیپلزپارٹی نے انتہائی مضبوط امیدوارایزدمحمود میدان میں اتارا مگر یہ بھی راجہ ریاض کی الیکشن چال کی نذر ہو کر ملک ہی چھوڑ گئے اس مرتبہ بھی راجہ ریاض خود کامیاب ہو گئے اور اپنے ساتھی امیدوار کو ہروا بیٹھے۔ الیکشن 2013میں قسمت کی دیوی راجہریاض اے ہی روٹھ گئی۔ الیکشن 2018میں وہ پیپلزپارٹی کو خیرباد کہہ کر پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ایم این اے کے امیدوار بن کر میدان میں اترے۔ وہ ایم این اے بن بھی گئے مگر پنے ساتھی ایم پی اے کے امیدوار حسن مسعود کی سیٹ ہروا دی۔ الیکشن سے قبل ہی راجہ ریاض کی بلے کے نشان کے ساتھ پی ٹی آئی کے سخت مخالف مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کے امیدوار حامد رشید کے ساتھ مشترکہ بینر اور پلے کارڈ سامنے آئے تھے۔الیکشن 2008میں بھی راجہ ریاض کا مسلم لیگ ن کے امیدوار صاحبزادہ فضل کرم کے ساتھ گٹھ جوڑ سامنے آیا تھا۔ اس وقت راجہ ریاض کے ساتھی ”اتے پیر، تھلے تیر ” کا نعرہ لگاتے تھے۔ الیکشن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ راجہ ریاض کے صوبائی اسمبلی کے حلقے میں ان کا اور ان کے اپنے ہی پارٹی کے امیدوار کا فرق آٹھ سے دس ہزار کا فرق رہا ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ راجہ ریاض اپنے پاکٹ آٹھ سے دس ہزار ووٹوں کو اپنے ونگ کے ساتھی امیدوار کے مخالف امیدوار کو ڈلواتے ہیں اور اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کی شکست کا باعث بنتے ہیں۔ سیاسی حلقے اسے بھی راجہ ریاض کی سیاسی چال قرار دیتے ہیں اور اپنے رہائشی حلقے میں اپنی اجارہ داری بنائے رکھنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

Related posts