پی ٹی آئی حکومت زرعی ترقی کیلئے کوشاں ہے‘ چیئرمین کشمیر کمیٹی

فیصل آباد (نیوز لائن) چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت زراعت کی ترقی اور کاشتکار کی معاشی حالت میں بہتری کیلئے پرعزم ہے اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں قومی کمیٹی برائے زرعی ترقی میں وہ کپاس کی امدادی قیمت کے تعین سمیت ریسرچ و ڈویلپمنٹ بجٹ میں اضافہ کیلئے کسانوں کی بھرپور وکالت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سنڈیکیٹ روم میں کپاس کی پائیدار پیداوار اور اس میں کمی کی وجوہات پر منعقدہ سٹیک ہولڈرز میٹنگ سے مہمان خصوصی کے طو رپر اپنے خطاب میں سید فخر امام نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان کو دنیا بھر کی مستردزرعی مصنوعات کا قبرستان بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج ہماری فصلوں پر حملہ آور 70فیصد سے زائد کیڑے اور وائرس سالانہ اربوں ڈالر نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1970 سے 1990 تک کپاس کے چار سائنس دانوں نے پیداوار کو چار گنا تک بڑھانے کی بنیاد ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین 1996 اور بھارت نے 2002 سے کپاس کے بیج میں بہتری لاکر پیداوار کو بالترتیب 37ملین اور 35ملین گانٹھوں تک بڑھالیا جبکہ پاکستان میں فیصلہ سازی کی تاخیر کے باعث ایسا نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی 50جامعات دنیا کی 1000بہترین جامعات میں شامل ہیں جبکہ پاکستان کی بمشکل پانچ جامعات کی فہرست کا حصہ بن پائی ہیں لہذا آج زرعی یونیوسٹی سمیت ہماری پروفیشنل جامعات میں مستقبل کے 20سال کی بروقت منصوبہ سازی کرتے ہوئے پیش رفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 1960 کے اوائل میں کاش ہم زرعی تعلیم و تحقیق کو علیحدہ نہ کرتے تو آج ہم چین اور بھارت سے چنداں پیچھے نہ رہتے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے گزشتہ پچیس برسوں میں زراعت کو کما حقہ اہمیت نہیں دی اور اگر 10ملین گانٹھوں کے ساتھ ہم کپاس کی ویلیو ایڈیشن پر توجہ دیتے تو 40ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کر رہے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور بھارت میں کاشتکار کو زرعی اجناس کی مارکیٹ قیمت یقینی بنائی جاتی ہے لیکن پاکستان میں کسانوں کواستحصالی قوتوں نے یرغمال بنارکھا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جس خلوص اور محنت کے ساتھ موجود ہ حکومت مافیازکا زور توڑنے کیلئے کوشاں ہے اسے سراہا جانا چاہئے۔ سید فخر امام نے کہا کہ چین معاشی طور پر بہت مضبوط ملک ہے جس نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران 70کروڑ لوگوں کو غربت سے باہر نکالا اور آج 2500ارب ڈالر امریکہ کی سینٹرل بینک میں جمع کروا رکھے ہیں کیونکہ اس کے پاس خرچ کرنے کی جگہ نہیں۔

Related posts