مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر حاجی محمد اکرام انصاری کا خصوصی انٹرویو

چھے مرتبہ قومی اسمبلی کا الیکشن جیتنے اورانتہائی برے حالات میں بھی اپنے پارٹی قائد میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہنے والے سابق وزیر مملکت حاجی محمد اکرم انصاری حال ہی میں مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر بنائے گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نے انہیں یہ ذمہ داری ایسے وقت میں سونپی جب فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔الیکشن 2018میں مسلم لیگ ن کو پارٹی کے اندرونی اختلافات اوردیگر کئی وجوہات کی بناءپر یقینی نشستوں پر بھی کامیابی نہ مل سکی۔ شہر میں مسلم لیگ ن کی پہچان سمجھے جانے والے چوہدری شیر علی پیرانہ سالی کے باعث عملی سیاست سے دورہیں۔ دس سال تک صوبائی وزیر قانون رہنے والے رانا ثناءاللہ خاں جیل میں ہیں۔ کئی رہنما ناراض ہو کر سیاسی سرگرمیوں سے دور ہیں۔

حاجی محمد اکرم انصاری 34سال سے پارلیمانی اورعملی سیاست میں ہیں۔ پہلے دن سے میاں نواز شریف کے ہم رکاب ہیں۔ آئی جے آئی میں تھے تو تب بھی میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔1996سے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر ہیں۔ مشرف آمریت کے دوران بھی میاں نواز شریف اورمسلم لیگ ن سے وفا نبھائی۔ نئے انتخابی قوانین میں عائد شرائط کی وجہ سے 2002کا الیکشن نہ لڑ سکے مگرپارٹی امیدوارکے شانہ بشانہ الیکشن میں حصہ لے کر پارٹی سے وفاداری نبھائی۔ 1985کے غیرجماعتی الیکشن سے پہلی بار سیاسی عمل کا حصہ بنے۔ اپنے سینئر ساتھی حنیف انصاری کی انتخابی سرگرمیوں کا حصہ رہے لیکن حنیف انصار ی کو زیادہ مہلت نہ مل سکی اوررکن اسمبلی بننے کے چند دن بعد ہی وہ وفات پاگئے۔ اکرم انصاری 25جون 1985 کو ہونیوالے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ بعد ازاں 1988 ‘ 1990 ‘ 1993 ‘ 1997 کے الیکشن بھی بھاری اکثریت سے جیت گئے۔ 2002میں الیکشن میں حصہ نہ لے سکے مگر2008اور 2013کا الیکشن دوبارہ اکثریت سے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ انہیں پہلی بار2018کے الیکشن میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ وہ الیکشن کو نامعلوم افرادکی طرف سے مینج کرنے اورچند دیگر معاملات کو قرار دیتے ہیں۔

چھے مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہنے والے مسلم لیگ نے ڈویژنل صدر سابق وزیر مملکت حاجی محمد اکرم انصاری کے ساتھ ”نیوز لائن“ نے ایک نشست رکھی۔ اس میں ہونیوالی گفتگو نذرقارئین ہے۔

انٹرویو: احمد یٰسین ۔ رفعت بانو

میاں نواز شریف کے باہر جانے سے مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ عوام حالات کا ادراک رکھتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے بھاگنا ہوتا تو 2018میں اپنی یقینی گرفتاری دیکھتے ہوئے بھی اپنی اہلیہ کو شدید بیماری کی حالت میں چھوڑکر واپس نہ آتے۔ صرف خود ہی نہیں اپنی بیٹی کو بھی ساتھ لائے اور بیٹی کی گرفتاری کا خدشہ بھی انہیں وطن واپسی سے نہ روک سکا۔ نواز شریف جیل جانے کیلئے ہی 2018میں وطن واپس آئے تھے۔ حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کے عزائم اس وقت عیاں تھے۔ نواز شریف کو گرفتاری کا خوف ہوتا تو وہ واپس ہی نہ آتے۔ ایسے خطرناک حالات میں واپس آکر انہوں نے ثابت کردیا کہ 2000میں انہیں زبردستی جلاوطن کیا گیاتھا۔ وہ کئی ماہ تک جیل میں رہے۔ حکومتی جبر کا مقابلہ کرتے رہے۔ مریم نواز بھی ان کے شانہ بشانہ حکومتی جبر کا مقابلہ کرتی رہیں۔ حالات ایسے ہو گئے تھے کہ حکومت تو خود چاہتی تھی کہ میاں نواز شریف باہر چلے جائیں۔نواز شریف کی موجودگی میں حکومت کیلئے حالات سازگار نہیں تھے۔

مشرف دور میں شریف فیملی کی اچانک جلاوطنی اور مکمل خاموشی سے مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک متاثر ہوا تھا۔ اس وقت عوام کو اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوا۔ کچھ شکوک و شبہات بھی جنم لے رہے تھے جس کا نقصان ہمیں بلدیاتی الیکشن 2000اور عام انتخابات 2002میں ووٹ بنک میں کمی کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ کلوز فائیٹ والے بہت سے حلقوں میں ہمیں ناکامی ہوئی۔ لیکن اس وقت بھی فیصل آباد میں مسلم لیگ ن مضبوط پوزیشن میں رہی ۔ شہر کی قومی اسمبلی کی چاروں نشستوں سمیت ضلع بھر میں ہم پانچ نشستیں جیتے۔ چارنشستیں وہ لوگ جیتے جو اکتوبر 199 تک مسلم لیگ ن کا حصہ تھے۔ مگراب وہ حالات نہیں ہیں۔ اس وقت خدشات تھے کہ شائد شریف فیملی اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔ ملکی سیاست میں انکا کردار ختم ہوگیا ہے۔ لیکن حالات نے ثابت کیا کہ میاں نواز شریف واپس آئے۔ پوری شریف فیملی واپس آئی۔ میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم اورمیاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے۔

اب بھی میاں نواز شریف نے باہر نہیں رہنا۔ ان کے صحت کے مسائل حل ہو جائیں۔ وہ ضرور واپس آئیں گے۔ دوبارہ ملکی سیاست میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کریں گے۔ مریم نواز ابھی بھی پاکستان میں ہیں۔ حالات سب کے سامنے ہیں کہ حکومت مریم نواز کو اپنے بیمار والد کی تیمار داری کیلئے بھی نہیں جانے دے رہی۔ ضمانت پر رہائی کے بعد بھی غیرقانونی طریقوں سے مریم نواز کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ مریم نواز کی ضمانت پر رہائی کے بعد حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں رہ گیا کہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈالے رکھے۔ مریم نواز کا نام ا ی سی ایل سے نکالنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ وہ بھاگ جائیں گی۔ وہ بھی اپنے والد کی طرح بیرون ملک مستقل رہنے کی حامی نہیں ہیں۔ وہ بھی واپس آئیں گی اورملکی سیاست میں اپنا کردارادا کریں گی۔

یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ مستقبل کا منظرنامہ کیا ہوگا۔ میاں نواز شریف کا جانشین کون ہوگا۔ ملکی سیاست کیا رخ اختیارکرے گی۔ ووٹ بنک میاں نواز شریف کا ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف ہیں۔ میاں شہباز شریف سمیت پوری مسلم لیگ اپنے قائد کے ساتھ کھڑی ہے۔ حمزہ شہباز‘رانا ثناءاللہ‘ شاہد خاقان عباسی‘ سعد رفیق‘ خواجہ آصف ‘ احسن اقبال‘ کیپٹن صفدر سمیت حکومت نے مسلم لیگ ن کے درجنوں قائدین کے خلاف مقدمات بنا کر دیکھ لیا ہے۔ کوئی جھکا ہے نہ حکومتی جبر کے سامنے تسلیم ہوا ہے۔ مسلم لیگ ن مضبوط ہے اورتمام قائدین میاں نواز شریف کے ہم رکاب ہیں۔

الیکشن 2018کو مینج کیا گیا تھا۔ اس وقت مسلم لیگ ن مسلسل دباو¿ کا شکارتھی۔ کیس پر کیس بنائے جارہے تھے۔ میاں نواز شریف کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا جارہا تھا۔ انتخابی مہم بھی ٹھیک سے نہیں چلائی جا سکی۔ پوری ریاستی مشینری مسلم لیگ ن کے خلاف تھی۔ پی ٹی آئی کو کھلے عام ریاستی حمائت فراہم کی جارہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کو اتنی اکثریت نہیں مل سکی کہ حکومت بنا سکے۔ پنجاب کے وہ علاقے جہاں الیکن مینج کرنا ممکن ہوا صرف وہاں سے پی ٹی آئی کو جتوایا گیا۔ کے پی کے ‘ بلوچستان اورکراچی میں بھی پی ٹی آئی کیلئے جو جو کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کا سنگل اکثریت بھی نہ حاصل کرسکنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہیں۔ حکومت دو ووٹوں کے سہارے کھڑے ہے۔ ایک چھوٹی پارلیمانی جماعت بھی حکومت کو چھوڑکر اپوزیشن کے ساتھ آکھڑی ہوئی تو پی ٹی آئی حکومت کی رخصتی یقینی ہو جائے گی۔

تحریک انصاف کی حکومت پانچ سال پورے نہیں کرسکتی۔ ملک میں فوجی آمریت آنے کے بھی امکانات نہیں ہیں۔ الیکشن ہوں گے اور بہت جلد ہوں گے۔ سال 2020الیکشن کا سال نظر آرہا ہے۔ لگ رہا ہے کہ نئے سال کے جولائی، اگست میں الیکشن ہوں گے۔ حکومت کو صرف بجٹ پیش کرنے کا موقع مل سکے گی۔ بجٹ کے فوری بعد ہی عمران سرکار کا چل چلاو¿ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عمران خان حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے خود ہی استعفیٰ دیدے۔ وہ مستعفی نہ بھی ہوئے تو ان ہاو¿س تبدیلی سمیت کئی آپشن ہو سکتے ہیں انہیں گھر بھجوانے کے۔ پی ٹی آئی کو لے کر آنے والے خود بھی انہیں گھر بھجوا سکتے ہیں۔ طریقہ کار کوئی بھی ہو پی ٹی آئی حکومت کی رخصتی کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ عمران سرکار کا چل چلاو¿ ہے۔

پی ٹی آئی سے حکومت چل ہی نہیں پارہی۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان ناکام ترین وزیر اعظم ہیں۔ یہ حکومت چلا بھی نہیں سکتے۔ صرف باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ کام کرنا پڑتا ہے۔ حکومت حاصل کرنے کے بعد مسلسل ناکامیوں نے ان کی نااہلی ثابت کردی ہے۔ 2013سے 2018کے دوران کی انکی اپنی ہی تقریریں دوبارہ چلا دی جائیں تو پی ٹی آئی کی مرکزی و صوبائی حکومتیں‘ تمام وزراء‘ وزیر اعلیٰ اوروزیر اعظم کرپٹ اورنااہل قرارپائیں گے۔ پی ٹی آئی حکومت کو اب کرپشن کا رونا رونے‘ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماو¿ں کیخلاف باتیں بنانے کی بجائے عملی طور پر عوام کو ریلیف دے کر اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوگی۔ دو سال میں بھی حکومت اپنے پاو¿ں پر کھڑی نہیں ہو سکی تو اس کا واضح مطلب ہے کہ پی ٹی آئی میں حکومت چلانے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ الفاظ کے گورکھ دھندے سے حکومتیں نہیں چلتیں۔ الزامات لگانا آسان ہے۔ عمل کام کرنا انتہائی مشکل۔ وقت نے ثابت کردیا ہے کہ یہ نااہل لوگ ہیں ۔ کام نہیں کرسکتے۔

پی ٹی آئی حکومت کو عوام کے غم و غصے کا اندازہ ہے ۔ یہ بلدیاتی الیکشن نہیں کروائیں گے۔ بجٹ کے بعد تو انہیں مہلت ہی نہیں ملنی۔ ان کی رخصت کا وقت آجانا ہے۔ بجٹ سے پہلے انہوں نے ایسا کوئی ایڈونچر کیا تو انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔ ملک بھر میں انہیں بلدیاتی اداروں میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بلدیاتی الیکشن ہوا تو ہم فیصل آباد میں بھی جیتیں گے اوردیگرتمام شہروں میں جیت کے جھنڈے گاڑیں گے۔ پی ٹی آئی کو کہیں جائے امان نہیں ملنے والی۔

Related posts