فیصل آباد لٹریری فیسٹیول میں فیصل آباد اور فیصل آباد کا ادب ندارد


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد لٹریری فیسٹیول میں فیصل آباد اورفیصل آباد کی ادبی تاریخ نظر پائی گئی اور نہ فیصل آباد کے ادیبوں و شاعروں کو ہی جگہ مل سکی۔ فیصل آباد آرٹس کونسل کی نااہل انتظامیہ نے بھی پرائیویٹ تقریب کو ’’فیصل آباد لٹریری فیسٹیول‘‘ کا نام دینے پر کوئی اعتراض کیا اور نہ ضلعی انتظامیہ ادب کی آڑ میں کمرشل مفادات لئے سجائی جانیوالی تقریب کو سمجھنے میں کامیاب ہوئی ۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد آرٹس کونسل میں ضلعی انتظامیہ کی اشیرباد سے ہونیوالی ایک پرائیویٹ تقریب کو ’’فیصل آباد لٹریری فیسٹیول‘‘ کا نام استعمال کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ اس تقریب کا فیصل آباد اور فیصل آباد کی کسی ادبی تنظیم سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہی فیصل آباد آرٹس کونسل نے یہ فیسٹیول منعقد کیا۔ فیسٹیول لاہور کی ایک این جی او نے کمرشل تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے منعقد کروایا۔’’فیصل آباد لٹریری فیسٹیول ‘‘کا نام استعمال کرنیوالی اس این جی او نے لاہور اور فیصل آباد کے متعدد ’’بزنس ٹائیکون‘‘ سے فیسٹیول کے نام پر بھاری ’’چندے‘‘ لئے اور فیصل آبادآرٹس کونسل کی ملی بھگت سے تقریب منعقد کرکے رفو چکر ہوگئی۔ فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے این جی او بغیر سوچے سمجھے اور تقریب کی نوعیت و شرکاء کا جائزہ لئے بغیر ’’فیصل آباد لٹریری فیسٹیول‘‘ کے نام سے ’’کمرشل ادبی شو‘‘ کرنے کی اجازت دیدی۔ اس کمرشل ادبی شو میں بظاہر بھی فیصل آباد کا کوئی تعلق نہ نظر آیا‘ فیسٹیول میں رونق لگانے کیلئے بھاری نذرانے دے کر بنگلہ دیش اور کراچی سے مہمان بلا لئے گئے ۔ چند سو گز کے دائرے میں موجود کسی فیصل آباد کی ادبی شخصیت کو بلایا گیا اور فیصل آباد کے ادب کو ہی اس قابل سمجھا گیا کہ اس بارے چند الفاظ کہے جا سکیں۔’’ فیصل آباد لٹریری فیسٹیول ‘‘ کا افتتاح کرنے کیلئے بھی فیصل آبادکی کوئی شخصیت ملی اور نہ کسی ادبی شخصیت کو ہی اس قابل سمجھا گیا کہ وہ فیسٹیول کا افتتاح کرے۔ مقامی بیوروکرسی کی ایک اہم شخصیت سے افتتاح کروایا گیا جس کا فیصل آباد سے بنیادی تعلق تھا نہ ادب سے‘فیسٹیول کیلئے فیصل آباد کے کئی ایک بزنس ٹائیکون سے بھاری نذرانے لئے گئے۔ فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کے نام سے ہونیوالی ایک این جی او کی اس تقریب کا سنتے ہی فیصل آباد کے ادیبوں ‘ شاعروں اور رائٹرز نے خوب شور مچایامگر نقار خانے میں ان کی آواز کچھ نہ کر سکی اور یہ این جی او فیسٹیول کے نام پر بھاری فنڈز اکٹھے کرکے ’’یہ جا وہ جا‘‘ ہوگئی۔فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کیلئے بھاری فنڈنگ کرنیوالے بزنس ٹائیکون سے فیصل آباد کی ادبی شخصیات ہمیشہ ہی نالاں نظر آتی ہیں کہ وہ فیصل آباد کی ادبی تنظیموں سے دور اور ادبی تقاریب کیلئے فنڈز دینے سے کتراتے ہیں مگر ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی اہلیہ کی این جی او کو فیصل آباد کے نام سے ایسی تقریب سجانے کیلئے بھاری نذرانہ دیدیا جس میں فیصل آباد نظر آیا نہ فیصل آباد کا ادب اور ادیب ہی موجودتھا۔ پورے لٹریری فیسٹیول میں فیصل آباد کے حوالے سے ایک بھی نشست نہیں تھی۔ حال ہی میں دنیا سے رخصت ہونیوالے فیصل آباد سے تعلق رکھنے پنجابی کے معروف شاعر و ادیب احسن افضل رندھاوا کیلئے بھی فیصل آباد لٹریری فیسٹیول میں ایک لفظ نہ بولا جا سکا ۔ لٹریری فیسٹیول کے حوالے سے ایک اہم ترین نکتہ یہ بھی تھا کہ اس میں کمرشل ازم کی بھرمار تھی۔ فیسٹیول کو ادبی رنگ دینے کی بجائے اسے کمرشل انداز میں چلایا گیا۔ فیصل آباد کے ادیبوں نے سیکرٹری انفارمیشن پنجاب‘ ایڈیشنل سیکرٹری کلچر پنجاب‘ ڈی جی پنجاب کونسل آف دی آرٹس اور کمشنر فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائیویٹ این جی او کے غیرقانونی طور پر فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کا نام استعمال کرنے کا نوٹس لیا جائے اور اس کے خلاف ایکشن لیا جائے جبکہ پنجاب کونسل آف د ی آرٹس کی منظوری کے بغیر فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کے نام سے ’’کمرشل و نجی تقریب ‘‘کا انعقاد کروانے دینے پر ریذیڈنٹ ڈائریکٹر فیصل آباد آرٹس کونسل صوفیہ بیدار کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اور آئندہ سے نجی این جی اوز کے اس طرح کے متنازعہ ناموں کیساتھ پنجاب بھر میں تقاریب کا انعقاد کرنے پر پابندی لگائی جائے۔

Related posts

Leave a Comment