پنجاب پولیس ولی ہوگئی: نیتوں کا حال جان کر ملزم پکڑنے لگی

فیصل آباد (عاطف چوہدری) پولیس کے بارے میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ کام کم کرتی ہے اور عوام کو تنگ زیادہ کرتی ہے۔ڈکیتی ‘ راہزنی کے ملزم پکڑنا تو پولیس کیلئے انتہائی مشکل کام سمجھا جا رہا ہے اور بڑھتی ہوئی وارداتوں نے پولیس کے حوالے سے عوامی سطح پر امیج کو بہت ہی خراب کردیا ہے۔ مگر اب فیصل آباد پولیس ایسا کارنامہ بھی سرانجام دے رہی ہے کہ اگروہ سچ ہو تو بلاشبہ فیصل آباد پولیس کو ’’ولی‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے اور اگر وہ سچ نہ ہو تو فیصل آباد پولیس کے جھوٹے اور قوانین سے کھلواڑ کرنے والے کو علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔فیصل آباد پولیس نیتوں کا حال بھی جاننے لگی ہے۔ پولیس ڈکیتی ‘ راہزنی کی نیت باندھنے والوں کو بھی حراست میں لے لیتی ہے۔ یہ انکشاف اور اعتراف خود فیصل آباد پولیس کر رہی ہے کہ وہ ڈکیتی ‘ راہزنی کی وارداتوں کی نیت کرنے والوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف واردات کی نیت کرنے کا ہی مقدمہ ٹھونک دیتی اور جیل کی ہوا کھانے کیلئے بھجوا دیتی ہے۔فیصل آباد پولیس نے ایک ہفتے میں تین درجن سے زائد ایسے ’’ڈاکو‘‘ پکڑے جنہوں نے ڈاکہ ایک بھی نہیں ڈالا مگر چونکہ انہوں نے ’’ڈاکہ‘‘ ڈالنے کی نیت کی تھی اس لئے پولیس نے انہیں ’’ڈاکو‘‘ قرار دے کر پکڑ لیا۔ ڈاکہ تو ڈالا نہیں تھا کہ ڈکیتی کا مقدمہ ہو سکتا لہٰذا ڈکیتی کی نیت کرنے کا مقدمہ ہی بنتا تھا سو اسی پر اکتفا کیا گیا۔ڈکیتی کی نیت کرنے والے کئی لوگ اپنے گھروں یا سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے بھی دھر لئے گئے مگر مقدمہ کی سچویشن کو تقویت دینے کیلئے قبرستان اور سنسان مقامات پر چھپ کر باقاعدہ پلاننگ کرتا ہوا ظاہر کرکے گرفتاری ڈالی گئی۔ ماہرین کے مطابق فیصل آباد پولیس کی یہ عالیشان کارروائی اس کے ’’عالی دماغ ‘‘ اور ’’ولی‘‘ کی نشانی ہے کہ وہ نیتوں کا حال بھی جاننے لگی ہے۔ مذہبی سکالرز کا کہنا ہے کہ اسلام کی تعلیمات سے اس کا کوئی تعلق نہیں اگر پولیس نیتوں کا حال بھی جاننے لگی ہے تو اسے ’’ولی‘‘ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اسلامی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ نیتوں کا حال صرف خدا جانتا ہے۔ مذہبی سکالرز کا کہنا ایک طرف مگر حقیقت کو جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا آخر فیصل آباد پولیس خود دعویدار ہے کہ وہ نیتوں کا حال جانتی ہے۔

Related posts