فیصل آباد جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی:لمحوں کی خطا‘ صدیوں نے سزا پائی

شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر پانچ

مشرف کا اقتدار سوا نیزے پر تھا۔ پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت تھی۔ دور دور تک ان کا کوئی مقابل نظر نہیں آرہا تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب میں صحافیوں کو اپنی چھت فراہم کرنے کا ماسٹر پلان بنایا اور لاہور’ رالپنڈی ‘ ملتان’ فیصل آباد میں جرنلسٹ ہاؤسنگ کالونی کے قیام کا فیصلہ کیا۔ پنجاب جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایکٹ 2004منظور کروا کر کام شروع کردیا۔ اسی ایکٹ کے تحت پنجاب جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تین سال میں یہ فاؤنڈیشن اس قابل ہو گئی کہ جرنلسٹ ہاؤسنگ کالونی بنا سکے اور اس نے کیا بھی ایسے ہی۔ آمریت اور آمروں کے سائے میں بننے والی حکومتوں کیخلاف نظریہ رکھنے کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کا یہ اقدام ایسا تھا کہ جسے ملک بھر کی صحافتی کمیونٹی سراہتی تھی ۔ متعدد قباحتیں اور منفی اثرات کے باوجود یہ منصوبہ صحافیوں کیلئے ایک مجموعی منصوبہ ہے اور اس سے لفافہ صحافت کی نسبت مثبت صحافت کو فروغ دینے کی اچھی کاوش ہے۔ یہ وہ خیالات اور موضوع بحث ہوتے تھے۔ جو 2004 سے 2007 کے دوران فیصل آباد پریس کلب میں بیٹھے میرے’ شمس الاسلام ناز’ شاہد علی’ غلام محی الدین ‘مرزا جاوید ‘ ندیم جاوید’ طاہر رشید’ جاوید صدیقی’ محمد شفیق’ اجمل ملک ‘ محمد یوسف اور متعدد دیگر ساتھیوں کے درمیان ہوتے تھے۔

پنجاب میں پہلی جرنلسٹ ہاؤسنگ کالونی 2007میں لاہور میں بنی جس کا لاہور پریس کلب جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی رکھا گیا۔ دوسری جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کیلئے پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد کا چناؤ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے فیصل آباد میں جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کیلئے احکامات بھی جاری کردئیے تھے ۔ اس سال پریس کلب کے الیکشن میں شمس الاسلام ناز صدر اور شاہد علی سینئر نائب صدر بنے تھے۔ اجمل ملک سیکرٹری تھے۔ اس خاکسار کو بھی سینءرز نے اپنے ساتھ کابینہ میں شامل کرلیا تھا جس کی وجہ سے معاملات کو قریب سے دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔ فیصل آباد میں جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کیلئے خط و کتابت شروع ہو چکی تھی ۔ ای ڈی او ریونیو فیصل آباد کو بھی جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کیلئے اراضی دیکھنے کی چٹھی آگئی تھی۔ پریس کلب میں بیٹھے ہم خوشی کا شادیانے بجا تے تھے ۔ اور اس خوشی میں مٹھائی تقسیم اور ایک پارٹی بھی کھائی جاچکی تھی۔ کہ اچانک ایک دن لاہور سے ایک صحافی دوست جو چوہدری پرویز الٰہی کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے نے اطلاع دی کہ فیصل آباد پریس کلب اور فیصل آباد جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کے خلاف فیصل آباد سے ہی کسی نے ایک درخواست وزیراعلیٰ کو دی ہے۔ یہ ہم سب کیلئے کسی ایٹم بم سے کم نہ تھا۔ فوری طور پر درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے دوستوں کو منانے اور صلح صفائی سے کالونی لینے کی کوشیں شروع کی گئیں۔ ان کاوشوں میں ہمار تمام ساتھی ہی پیش پیش تھے۔ شمس الاسلام ناز، یوسف، شاہد علی، اعجاز انصاری، اجمل ملک، جاوید صدیقی، طاہر رشید سمیت سب ہی دوستوں کو منانے ، صلح صفائی کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانے کی خاطر سب ہی اپنا اپنا کردار ادا کررہے تھے۔

اس وقت تک روزنامہ ایکسپریس فیصل آباد کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ظفر ڈوگر شمس الاسلام ناز کے اچھے دوستوں میں سے تھے جبکہ لاہور میں بھی ان کے رابطے بہت اچھے تھے۔ فیصل آباد میں بھی مقامی صحافتی سیاست سے دور رہنے کی وجہ سے دونوں گروپوں کیلئے ایک قابل قبول شخصیت تھے۔ شمس الاسلام ناز، محمد یوسف ، ظفر ڈوگر اور لاہور پریس کلب کے صدر محسن گورایہ کی مشترکہ کوششوں سے اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر کالونی لے لی جائے۔

فیصل آباد کے ساتھیوں کے باہمی معاملات قریب قریب طے ہو ہی رہے تھے مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ۔اسی دوران چوہدری پرویز الٰہی نے فیصل آباد کی بجائے راولپنڈی میں کالونی کا اعلان کردیا اور فیصل آباد کا معاملہ تاخیر میں چلا گیا۔ لاہور پریس کلب کے صدر محسن گورایہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتہائی قریب سمجھے جانیوالے نیوز فوٹو گرافر محمداقبال کے ذریعے دوبارہ کوششیں شروع کی گئیں تو چوہدری پرویز الٰہی نے سابقہ بدمزگی کا اشارہ دیا۔ شمس الاسلام ناز اور ظفر ڈوگر نے لاہور کے دونوں دوستوں کے ذریعے فیصل آباد کے صحافیوں کی طرف سے چوہدری پرویز الہیٰ کو یقین دہانی کروائی کہ باہمی اختلافات مل جل کر حل کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے ۔ پریس کلب اور صحافی کالونی کے حوالے سے وہاں اب کوئی اختلاف نہیں ہے۔

دوستوں کی مسلسل کوششوں اور بار بار کی ملاقاتوں اور خط و کتابت و یقین دہانیوں کے بعد چوہدری پرویز الہیٰ نے فیصل آباد میں صحافی کالونی کے قیام کی حامی بھر لی اور فیصل آباد جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کیلئے دوبارہ کام شروع ہوگیا۔ اس حوالے سے صدر پریس کلب کے طور پر شمس الاسلام ناز کے ساتھ خط وکتابت ہورہی تھی۔ انگلش کی تمام خط و کتابت غلام محی الدین اور اردو کی تمام خط و کتابت کی ذمہ داری راقم کے ذمہ تھی۔ اس وقت تو حالات کا اتنا ادراک نہیں تھا مگر اب احساس ہوتا ہے کہ کتنی اہم ذمہ داری ادا کر رہے تھے۔ خدا خدا کرکے چوہدری پرویز الٰہی نے فیصل آباد میں دس دس مرلے کے چار سو پلاٹوں پر مشتمل 16ایکڑ کی کالونی کیلئے کام شروع کروا دیا۔ اس وقت کے ای ڈی او ریونیو اس پر کام کررہے تھے مگر بہت بعد میں جا کر اندازہ ہوا کہ بظاہر حالات سب اچھا ہونے کی رپورٹ ہونے کے باوجود کہیں نہ کہیں کالونی کی مخالفت کی جارہی تھی ۔ تاہم آخر کار فیصل آباد کے صحافیوں کیلئے اس وقت تک کی سب سے بڑی خوشخبری (فیصل آباد جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کا اعلان کرنے ) کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی فیصل آباد پہنچ گئے۔ سرکاری تقاریب اور متعدد افتتاح کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ شہر کے واحد پنج ستارہ ہوٹل میں آرام کرنے پہنچ گئے۔ یہیں انہیں وکلاء ‘ تاجروں ‘ صنعتکاروںاور پریس کلب کے وفود سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔ جس کے بعد پریس کلب میں ان کی آمد تھی اور وہاں فیصل آباد جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کا اعلان کرنا تھا۔ پریس کلب کے وفد کے طور پر تین نام شمس الاسلام ناز’ اجمل ملک’ حامد یٰسین دئیے گئے تھے۔ ظفر ڈوگر اور محسن گورایہ بھی میٹنگ میں ساتھ ہونا تھے۔ سرینا ہوٹل میں تمام وفود پہنچ چکے تھے کہ اچانک صحافیوں کا ایک گروپ ہوٹل پہنچ گیا اور ایک اختلافی نقطہ نطر سامنے رکھ دیا۔ قریب تھا کہ معاملات بگڑ جاتے مگر ساتھیوں نے افہام و تفہیم کا مظاہرہ کیا شمس السلام ناز نے موقع کی نذاکت کو بھانپ کر چوہدراہٹ کی پگ لینے کی خواہش کے ساتھ آنے والوں کو ساتھ بٹھایا موقع پر ہی ایک مجلس مشاور ت بٹھا لی ۔ محسن گورایہ اور محمد اقبال بھی مجلس مشاورت میں موجود تھے۔اختلاف کرنے والوں کی باتیں سن کر محمداقبال نے دو توک انداز میں بتا دیا کہ وزیر اعلیٰ اختلافی معاملہ سننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اختلافات آپ کو خود ہی حل کرنا ہوں گے۔ اگر وزیراعلیٰ سے میٹنگ میں اختلافات کی بات کریں گے تو پھر کالونی کو بھول جائیں۔دوستوں کو موقع پر منت ترلوں کے ساتھ اختلافات کو پس پشت ڈالنے اورچار سو صحافیوں کے اجتماعی مفاد کی خاطر باہمی ذاتی چپقلش اور ذاتی پسند ناپسند کو پس پشت ڈالنے کی درخواست کی گئی۔ محسن گورایہ نے ذاتی کوئی مفاد نہ ہونے کے باوجود صحافی کالونی کیلئے مخلصانہ کوشش کی اور فریقین کو اس بات پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وزیر اعلیٰ کے سامنے کوئی اختلافی بات نہیں کی جائے گی۔ اس سب کے دوران ظفر ڈوگر صاحب نے انتہائی نکتہ بھی اٹھایا کہ اس طرف یونین کی طرف سے 192کی لسٹ دی جارہی ہے اور اس یونین کی طرف سے 147کی لسٹ بنائی گئی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ تو 400پلاٹ دینے پر رضامند ہیں۔دونوں لسٹوں میں اگر کوئی نام نہیں بھی شامل ہوا تو اسے بھی پلاٹ مل جانا ہے ۔ بس اپنے اختلافات کو پس پشت ڈالے رکھیں۔ تاہم اختلافی مؤقف لے کر آنیوالوں کی یہ بات مان لی گئی کہ انہیں بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنیوالے وفد میں شامل کرلیا جائے۔ مگر اس سب کوشش کے باوجود کالونی پھر بھی فیصل آباد کے صحافیوں کا مقدر نہ بن سکی۔

صدر پریس کلب کے طور پر شمس الاسلام ناز کے ساتھ خط وکتابت ہورہی تھی۔ انگلش کی تمام خط و کتابت غلام محی الدین اور اردو کی تمام خط و کتابت کا ذریعہ میں ہوتا تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے فیصل آباد میں دس دس مرلے کے چار سو پلاٹوں پر مشتمل 16ایکڑ کی کالونی کیلئے کام شروع کروا دیا تھا۔ اور آخر کار فیصل آباد کے صحافیوں کیلئے اس وقت تک کی سب سے بڑی خوشخبری (فیصل آباد جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کا اعلان کرنے ) کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی فیصل آباد پہنچ گئے۔ سرکاری تقاریب اور متعدد افتتاح کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ شہر کے واحد پنج ستارہ ہوٹل میں آرام کرنے پہنچ گئے۔ یہیں انہیں وکلائ’ تاجروں ‘ صنعتکاروںاور پریس کلب کے وفد سے ملنا تھا ۔ جس کے بعد پریس کلب میں ان کی آمد تھی اور وہاں فیصل آباد جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کا اعلان کرنا تھا۔ پریس کلب کے وفد کے طور پر تین نام شمس الاسلام ناز’ اجمل ملک’ حامد یٰسین دئیے گئے تھے۔ ظفر ڈوگر اور محسن گورایہ بھی میٹنگ میں ساتھ ہونا تھے۔ سرینا ہوٹل میں تمام وفود پہنچ چکے تھے کہ اچانک صحافیوں کا ایک گروپ ہوٹل پہنچ گیا اور ایک اختلافی نقطہ نطر سامنے رکھ دیا۔ قریب تھا کہ معاملات بگڑ جاتے مگر ظفر ڈوگر نے افہام و تفہیم کا مظاہرہ کیا اور موقع پر ہی ایک مجلس مشاور ت بٹھا لی ۔ محسن گورایہ اور محمد اقبال بھی مجلس مشاورت میں موجود تھے۔اختلاف کرنے والوں کی باتیں سن کر محمداقبال نے دو توک انداز میں بتا دیا کہ وزیر اعلیٰ اختلافی معاملہ سننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اختلافات آپ کو خود ہی حل کرنا ہوں گے۔ اگر وزیراعلیٰ سے میٹنگ میں اختلافات کی بات کریں گے تو پھر کالونی کو بھول جائیں۔دوستوں کو موقع پر منت ترلوں کے ساتھ اختلافات کو پس پشت ڈالنے اورچار سو صحافیوں کے اجتماعی مفاد کی خاطر باہمی ذاتی چپقلش اور ذاتی پسند ناپسند کو پس پشت ڈالنے کی درخواست کی گئی۔ظفر ڈوگر اور محسن گورایہ نے ذاتی کوئی مفاد نہ ہونے کے باوجود صحافی کالونی کیلئے مخلصانہ کوشش کی اور فریقین کو اس بات پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وزیر اعلیٰ کے سامنے کوئی اختلافی بات نہیں کی جائے گی۔اس سب کے دوران ظفر ڈوگر صاحب نے انتہائی نکتہ بھی اٹھایا کہ اس طرف یونین کی طرف سے 192کی لسٹ دی جارہی ہے اور اس یونین کی طرف سے 147کی لسٹ بنائی گئی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ تو 400پلاٹ دینے پر رضامند ہیں۔دونوں لسٹوں میں اگر کوئی نام نہیں بھی شامل ہوا تو اسے بھی پلاٹ مل جانا ہے ۔ بس اپنے اختلافات کو پس پشت ڈالے رکھیں۔ تاہم اختلافی مؤقف لے کر آنیوالوں کی یہ بات مان لی گئی کہ انہیں بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنیوالے وفد میں شامل کرلیا جائے۔ چنانچہ فیصل آباد کے تین رکنی وفد کو چھے رکنی کرنے ر اتفاق ہوا ۔ اختلافی مؤقف رکھنے والے دوستوں سے تین نام مانگے گئے تو موقع پر موجود پانچ چھے لوگ تین نام پر بھی متفق نہ ہونے پائے۔ کافی دیر کے بحث مباحثے کے بعد یہاں بھی ظفر ڈوگر اور محسن گورایہ نے ہی مداخلت کرکے ان کا مسئلہ حل کرایا اور تین ناموں خالد عباس سیف’ مقبول لودھی’ عامر ادریس بٹ پر اتفاق کرلیا گیا۔ مگر کوشش کے باوجود چھے رکنی وفد کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی ۔ ۔ تو وفد کو چار رکنی پر اتفاق ہوا ۔ کلب کی طرف سے میرا نام ڈراپ کیا گیا جب کہ مخالفین کی طرف سے عامر ادریس بٹ کا نام واپس لیا گیا ۔ چار رکنی وفد نے وزیر اعلی پرویز الہٰی سے ملاقات کی مگر کالونی پھر بھی فیصل آباد کے صحافیوں کا مقدر نہ بن سکی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ملاقات کیلئے یہ وفد اندر گیا۔چوہدری پرویز الٰہی نے وفد کا تپاک سے استقبال کیا۔ رسمی جملوں کے تبادلے کے بعد چوہدری پرویز الٰہی نے محمد اقبال اور محسن گورایہ سے استفسار کیا ” کیا تمام بات چیت کر لی ہے۔” محسن گورایہ کے بولنے سے پہلے محمد اقبال کا جواب آیا ”جی بات ہوگئی ہے”۔چوہدری پرویز الٰہی نے وفد سے مخاطب ہو کر استفسار کیا کہ آپ لوگ راضی ہیں ناں’ کوئی اختلاف تو نہیں ناں اب آپ میں۔ شمس الاسلام ناز نے سب کی نمائندگی کرتے ہوئے جواب دیا ”جی ۔ جیسے آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا۔ اقبال اور گورایہ صاحب کے ساتھ ساری بات ہو گئی ہے”۔ شمس الاسلام ناز کے چپ کرتے ہی اختلافی مؤقف لینے والوں کی طرف سے وفد میں شامل ایک سینئر ترین ساتھی بولے ”باقی سب تو ٹھیک ہے جی۔ کالونی سے ہمیں کوئی انکار نہیں مگر کلب کے باقی معاملات بھی آپ دیکھیں۔کلب کا آڈٹ بھی نہیں ہوا اور ممبر شپ کا بھی مسئلہ ہے”۔ یہ سن کر چوہدری پرویز الٰہی نے پہلے محسن گورایہ اور پھر محمد اقبال کی طرف دیکھا مگر جواب اختلاف کرنے والے اسی بزرگ صحافی کو ہی دیا۔ ”ٹھیک ہے۔ آڈٹ بھی کروا لیتے ہیں۔ کالونی کا اعلان پھر اگلے دورے پر رکھ لیتے ہیں”۔ اور ساتھ ہی انہوں نے میٹنگ ختم کردی۔ بارہ سال ہو گئے اس واقعہ کو ۔ آج تک نہ پریس کلب کا آڈٹ ہوا اور نہ فیصل آباد میں جرنلسٹ ہاؤسنگ کالونی کے قیام کا دوبارہ موقع آیا۔ مشترکہ لسٹ کی تیاری بھی ایک کٹھن مرحلہ رہی۔ اختلافات کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی گئے۔ اختلافات کے کوہ گراں سب کے راستے کی دیوار بن گئے۔ چند ساعتوں بعد متوقع فیصل آباد جرنلسٹ ہاؤسنگ کالونی بارہ سال سے ایک ہی پوائنٹ پر رکی ہوئی ہے۔ اس کے بعد کس کس نے کوشش نہیں کی کہ کالونی مل جائے مگر افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔باہمی اخلافات کا خوفناک اژدھا سب کو نگلنے کو تیار ہے اور سب ہی خوشی خوشی اس کا شکار بنتے جارہے ہیں۔

چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ملاقات کے بعد بے نیل و مرام وہاں سے لوٹ کرپریس کلب پہنچے تو چند ساعتوں کے فاصلے پر رہ جانے والی کالونی کے عدم قیام پر ہم سب کی حالت فیض احمد فیض کے ان اشعار کے جیسی تھی

یوں بہار آئی ہے اس بار کہ جیسے

قاصدکوچہء یار سے بے نیلِ‌ مرام آتا ہے

ہر کوئی شہر میں پھرتا ہے سلامت دامن

رند میخانے سے شائستہ خرام آتا ہے

ہوسِ‌ مطرب و ساقی میں‌پریشاں اکثر

ابر آتا ہے کبھی ماہِ تمام آتا ہے

شوق والوں‌ کی حزیں‌ محفلِ شب میں اب بھی

آمدِ صبح کی صورت ترا نام آتا ہے

اب بھی اعلانِ سحر کرتا ہوا مست کوئی

داغِ دل کرکے فروزاں سرِ شام آتا ہے

تحریر حامد یٰسین ۔۔۔۔۔۔۔ سابق اسسٹنٹ سیکرٹری ۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس


Related posts