فیصل آباد لٹریری فیسٹیول ‘ ادیبوں کی ایلیٹ کلاس کا اجتماع تھا


فیصل آباد (نیوزلائن)فیصل آبادلٹریری فیسٹیول کے منفی عزائم اور غیر فطری اقدامات اور ادب مخالف سرگرمیوں بارے فیصل آباد کی ادبی شخصیات اور تنظیمیں رطب اللسان ہیں۔فیصل آباد کے ادیبوں ‘ شاعروں‘ کالم نگاروں‘ رائٹرز کا کہنا ہے کہ لٹریری فیسٹیول میں فیصل آبادکے ادیبوں میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ لاہور‘ کراچی ‘ اسلام آباد سے چند اعلیٰ نسل کے ادیبوں کو بلا کر ایک کمرشل شو سجایا گیا جسی کسی طور فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ فیصل آباد آرٹس کونسل بھی اس سارے عمل میں برابر کی ذمہ دار ہے اور اس کیخلاف ایکشن لیا جانا چاہئے۔ ادیبوں کا کہنا ہے کہ پنجاب آرٹس کونسل اور سیکرٹری انفارمیشن کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے اور فیصل آباد کے ادب کا نام استعمال کرکے پیسے اکٹھے کرنے والی این جی او پر پابندی عائد کی جائے۔ ایک پرائیویٹ تنظیم کو فیصل آباد اور آرٹس کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ نجی تنظیم نے آرٹس کونسل کااور پنجاب حکومت کاسرکاری لوگو استعمال کیا۔ اس سارے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے کہ کس نے پنجاب حکومت کا سرکاری لوگو ایک نجی این جی او کو استعمال کرنے کی اجازت دی۔ پورے فیسٹیول میں فیصل آباد کے ادب اور فیصل آباد کی تاریخ کے حوالے سے کوئی مضمون شامل نہیں تھا۔ فیصل آباد کا ایک بھی ادیب مدعو نہیں کیا گیا ایسے میں اسے فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کا نام دینا فیصل آباد اور فیصل آباد کے ادب کیساتھ زیادتی ہے۔اس تمام معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے اور ذمہ دار سرکاری افسران کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہئے۔

Related posts

Leave a Comment