ساڑھے8سال بعد غلام محی الدین کی پریس کلب میں انٹری


میں آج بہت خوش ہوں ۔فیصل آباد پریس کلب کی تعمیر کیلئے شمس الاسلام ناز کے ساتھ مل اپنا خون پسینہ ایک کرنے والے غلام محی الدین کیلئے فیصل آباد پریس کلب میں داخل ہونے کی پابندی ختم ہوگئی۔چاہے یہ پابندی اس کی موت کے بعد ختم ہوئی۔ اس کا خاکی جسم تو دوبارہ پریس کلب میں نہیں جا سکا مگر فیصل آباد پریس کلب کی انتظامیہ نے اس کے مرنے کے بعد اس کی روح کیلئے کلب کے دروازے کھول دئیے۔
وقت بھی کیا ظالم ہے‘ انسان سے وہ وہ کام کروا دیتا ہے جس کا کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔نمود و نمائش کے کام کرنا مجھے اول روز سے پسند نہیں ہے۔ سچ بولنے کی تربیت ملی تھی مگر ایسے شعبے میں آگیا کہ جھوٹ قدم قدم پر ملا۔ مگر اس میں بھی پھر چند نام مل گئے جو کہتے تھے کہ سچ بولو۔ سچ کا ساتھ دو۔مگرجھوٹوں کی اس بستی میں سچ بولنے کے نقصانات بھی سامنے ہی ہوتے تھے۔ مگر ہم ہنس کر اسے جھیل جاتے۔اس ہم میں میرے ساتھیوں میں ایک نام غلام محی الدین کا بھی تھا۔ دوسروں کیساتھ وہ کیسا تھا مجھے اس کا علم نہیں مگر میرے ساتھ وہ جھوٹ سے کام نہیں لیتا تھا۔ میرے لئے یہ بھی کافی تھا کہ مجھے خدا نے ایسے لوگوں میں نہیں رکھا کہ جن سے جھوٹ بولنا ہے۔بات کر رہا تھا نمودنمائش والے کاموں کی۔میرا منافقت سے کبھی یارا نہیں رہا۔ میں آج بھی یہ معاملات کاغذ کے سینے پر نہیں لاتا ۔آج جب غلام محی الدین اس دنیا میں نہیں رہا تو ان الفاظ نے مجھے مجبور کیا کہ کچھ لکھوں۔’’ہمارے مرحوم ساتھی غلام محی الدین نے میدان صحا فت میں جس انداز سے اپنے فرائض کی انجام دہی کی وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے ان کا نام فیصل آبا د کی صحا فت میں ہمیشہ تابندہ رہے گا اور نئے آنے والے صحا فیوں کو راہنمائی فراہم کر تا رہے گا‘‘۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو ایسے لوگ کہہ رہے تھے جنہوں نے 12نومبر 2017سے پہلے تک کبھی ایک خیر کا لفظ اس خدا کے بندے کیلئے نہیں کہا۔ یہ الفاظ اس شخص کیلئے اس عمارت میں بیٹھ کر کہے جا رہے تھے کہ جس کی بنیادوں میں بلاشبہ اس کا خون‘ پسینہ شامل تھا۔ مگر سچ بولنا اتنا آسان کہاں ہوتا ہے۔
غلام محی الدین میرا جدوجہد کے دنوں کا ساتھی ہے۔ اس کے نام کیساتھ مرحوم کا لفظ لکھنے کا حوصلہ ہی نہیں ہو رہامگر کیا کریں وقت اور قدرت کا یہی فیصلہ ہے۔ قدرت کے اس کھیل میں بعض ایسی انہونیاں بھی ہوتی ہیں بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔غلام محی الدین کے اس دنیا فانی سے کوچ کرنے کی اطلاع مجھے اتوار کو علی الصبح ملی۔ ابھی صبح کی نماز کا وقت تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ مجھے ان اوقات میں موبائل کی گھنٹی سننے کی عادت ہی نہیں اور نہ اتنی صبح میں عوامی میل جول کی طرف مائل ہوتا ہوں ۔ یہ وقت ’’میرا اپنا‘‘ ہوتا ہے اور میں اسے صرف اس کیساتھ شیئر کرتا ہوں جس نے مجھے اس فانی دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے قابل بنایا۔ اس وقت کو میں کسی انسان کے ساتھ شیئر کرنا مناسب ہی نہیں سمجھتا۔انسانوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی میں ایسے وقت میں انسانوں کے درمیان نہیں ہوتا۔ غلام محی الدین ان چند انسانوں میں تھا جسے میرے اس وقت کے معمول کا علم ‘ کیوں نہ ہوتا ہم نے سینکڑوں شب و روز اکٹھے بتائے تھے۔اس وقت موبائل نے گنگناناشروع کیا تو میرے منہ سے بے ساختہ ’’یا اللہ خیرکریں‘‘ کے الفاظ نکلے۔ مگر بے جان ہو کر بھی بولنے والا موبائل ایسے وقت میں’’خیر‘‘ کی خبر کیلئے نہیں بولا تھا۔ دوسری طرف سے بولنے والے کے غلام محی الدین کی ہمیشہ کیلئے رخصتی کے الفاظ کے علاوہ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی ۔گلا رندھ سا گیا ۔ آنکھوں میں نمی آگئی ۔ پہلے جہاں اپنے لئے جھکا ہوا تھا پھر غلام محی الدین کیلئے سر جھکا دیا ۔ کچھ لمحات بعد اس اطلاع کی تصدیق کا خیال آیا ۔ ذہن میں پہلا ہی خیال محی الدین کیلئے پدرانہ جذبات رکھنے والے شمس الاسلام ناز کا آیا۔فون کی بیل بجنے کے دوران ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ یا الٰہی یہ اطلاع جھوٹ ہو جائے۔ شمس صاحب اس کی تصدیق نہ کریں مگر فون سننے والا بھی جانتاتو مجھے سالوں سے جانتا ہے۔ میرے روز و شب کے معمولات سے آگا ہ ہے۔ اسے علم ہے کہ اتنی صبح میں فون نہیں کرتا۔ ’’ہیلو‘‘کے ساتھ ہی رونے اور ہچکیاں لینے کی آواز نے مجھے بغیر پوچھے اداس کر دینے والی اطلاع کی تصدیق کر دی۔ مگر پھر بھی دل کی تسلی کیلئے ایک اور نمبر ملا لیا۔ مگر وہاں سے بھی تصدیق ہی ہونی تھی۔ لمحات کی ہی بات تھی کی فون پر فون آنے لگے۔ دوست مجھ سے اس خبر کی تصدیق چاہ رہے تھے۔ انکار کی مجال نہیں تھی کہ سچ اور انہونی کو بلا وجہ کے انکار و اصرار سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ انہونیاں تو ہو کر رہتی ہیں۔
وہ جسے لوگ غلام محی الدین صحافی کی حیثیت سے جانتے ہیں۔میرے لئے وہ بھائیوں سے بڑھ کر تھا۔ بیس سال کی دوستی بھائیوں کی طرح گزاری تھی۔میرے اور اس کے روزوشب اکٹھے گزرے ہیں۔ صحافتی معاملات سے ہٹ کر بھی ہم دونوں کا بہت کچھ مشترکہ تھا۔بیس سال سے زائد کے سفر میں چند معمولی رنجشیں بھی آئیں مگر بھائیوں جیسے احساسات آخری لمحات تک رہے۔(اس کا بھانجا بتا رہا تھا 2دن قبل ہی تو سارا دن اس کے ساتھ سرگودھا رہا اور وہ دونوں سارا دن میری باتیں کرتے رہے‘ فیصل آباد کی صحافت میں اس کے بھانجے اور اس کے درمیان اورمیرے اور شمس الاسلام ناز کے علاوہ کچھ مشترکہ تھا بھی نہیں)۔میرے ذاتی معاملات کے بارے میں چند ایک گنتی کے صحافتی ناموں میں سے ایک محی الدین بھی تھا جو سب جانتا تھا یہی حال اس کے بارے میں تھا، شائد ہی زندگی بھر مجھ سے کچھ چھپایا ہو۔ بہت سی باتیں جن کے بارے میں وہ شائد اپنے گھر بھی سچ نہ بولتا ہو مگر مجھے کبھی پورا کبھی ادھورا بتا دیتاتھا۔ ابھی چند روز پہلے ہی تومیں اسے اس کے آفس میں ہنستا کھیلتا مل کر آیا تھا۔زندگی کو بھرپور طرح انجوائے کر چکا تھا ۔ میں نے زندگی کی رعنائیوں کاذکر چھیڑااور بیماری سے جنگ میں خدا سے لو لگانے کا ذکر کیا۔ اسے جب کہا کہ اب غم نہ کر ہم نے اپنی زندگی بھرپور گزاری ہے ۔ تو اس نے آہ بھر کر ایک ہی غم کا اظہار کیا اور وہ یہ تھا کہ ’’بچے ابھی چھوٹے ہیں‘‘۔ مگر پھر اس بات کو بھی حسب عادت ہنسی میں اڑا گیا۔
غلام محی الدین صرف فیصل آباد کی صحافت کا ہی نہیں صحافتی سیاست کا بھی درخشاں باب تھا۔صحافتی سیاست کا سفر ہم نے ایک ساتھ جرنلسٹس ایسوسی ایشن فیصل آباد کے پلیٹ فارم سے شروع کیا تھا۔90کی دہائی کے آخری سالوں میں یہ وہ وقت تھا جب فیصل آباد میں یونین آف جرنلسٹس نام کی کوئی چیز پائی ہی نہیں جاتی تھی۔چند سال ایسوسی ایشن کا سفر رہا پھر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے نام پر جمع ہوگئے۔ مگر ہم میں یونین کو سمجھنے والا کوئی تھا ہی نہیں۔ سب ہی تو نئے تھے۔ جو کچھ کچھ سینئر تھے انہیں بھی یونین کے معاملات سے یارا نہیں تھا۔ کچھ نام تھے جن کا ہم سن چکے تھے کہ صحافتی سیاست میں بہت سرگرم رہے ہیں مگر وہ ہمارے ہم سفر بننے کو تیار نہ تھے۔ ایسے ہی ناموں میں ایک نام شمس الاسلام ناز تھا جو یونین جیسے کاموں کا سننے کو بھی تیار نہ ہوتے تھے ۔الٹا ہمیں ڈانٹتے تھے کہ دفع کرو۔اس کام میں منافقت کرنے والے بہت ملیں گے۔ سچ کا ساتھ بہت کم لوگ دیں گے۔ مگر ہم تھے کہ اپنی دھن میں مگن تھے۔ مگر پھر وہ ہو گیا جس کا ہم نے سوچا بھی نہیں۔ مشرف نے فیصل آباد میں جلسے کے دوران اہل صحافت کیلئے ایسے الفاظ استعمال کئے کہ ہم برداشت نہ کرسکے۔ احتجاج کرنا پڑا۔ آمر کا دور تھا۔ ضلعی ناظم اور ڈی سی او کے حکم پر پولیس ڈنڈے لے کر چڑھ دوڑی۔ لاٹھی چارج ہوا۔ زخم لئے ہم منتشر ہوئے۔ مگر پھر پریس کلب میں دوبارہ اکٹھے ہوئے۔ احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جو مہینوں تک پھیل گیا۔اس سے اور تو کچھ حاصل نہ ہوا مگر فیصل آباد کے صحافی ’’فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس‘‘ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوگئے۔فیصل آباد میں صحافیوں کا ایسا اتحاد اور اکٹھ شائد تاریخ نے کبھی نہ دیکھا ہو۔باہمی اختلافات کے باوجود ہم اس تنظیم میں اکٹھے تھے۔ الیکشن بھی ہوتے دھواں دار تقریریں بھی ہوتیں مگر اکٹھے رہتے۔ہر سال الیکشن کروانا ہماری عادت بھی تھی آئینی ضرورت بھی۔ مگر اس نے ہمارے اتحاد کا کچھ نہیں بگاڑا۔مگر اس اتحاد کو اتحاد کا ہی ایک مظاہرہ گہنا گیا۔ شاہد علی نے وقت کے ایک اور فرعون ایس ایس پی کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرأت کی۔ سب دوست خم ٹھونک کر اس فرعون کے سامنے ڈٹ گئے۔ کون کون نہیں تھا جس کو پولیس والوں کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں۔ سفارشیں کروائی گئیں مگر سب ڈٹے رہے۔اور پھر ایف یو جے کے مطالبے پر وقت کے اس فرعون کو پریس کلب میں آکر فیصل آباد کے صحافیوں کے اجتماع میں معذرت کے الفاظ کہنے پڑے۔مگر اس موقع پر پولیس کا ساتھ دینے والے ہماری ہی صفوں میں شامل کچھ لوگوں نے کھلے عام دھمکیاں دیں کہ دیکھ لیں گے اس یونین کو۔یہیں سے ہماری جدوجہد کا آغاز ہوا۔ کون کون سی سازش نہ تھی جو ہمارے اتحاد کو پارا پارا کرنے کیلئے نہیں کی گئی۔مگر ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے جو چند دوستوں کا قافلہ چلا تھا چند ایک کے علاوہ سب ہی یونین میں ایک ہی طرف کھڑے رہے۔کئی لوگ آئے اور گئے مگر ورکنگ لوگ ہمیشہ ایک طرف رہے۔ پولیس کے مفاد کی خاطر ہم سے جدا ہونے والے دوبارہ ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہو سکے۔اسی سال کے الیکشن میں پولیس کا بھرپور ساتھ نبھانے والے ایک سینئر ساتھی ہمارے خلاف میدان میں اتر آئے۔اس الیکشن میں ہمارے خلاف پولیس کا ہر حربہ استعمال ہوا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا ایک سوا چھے فٹ قد کے بھاری بھر کم صحافی کوبھرے بازار سے اغواء کرنے کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست ایس ایس پی نے منظور کرکے بھجوا دی۔ اس درخواست میں ملزم سارے ہی صحافی تھے ۔محمد یوسف‘ غلام محی الدین‘ حامد یٰسین‘ اعجاز انصاری‘ طاہر رشید کے نام اور پانچ چھے گمنام ساتھی اس درخواست کا ماخذ تھے۔خدا کا شکر ہے کہ اس مرحلے کو ہم نے آسانی سے پار کیا۔وقت کا پہیہ رکا نہیں مگر کچھ لوگ پہچانے گئے۔اختلافات تھے مگر صحافیوں کی بڑی اکثریت ہمارے ساتھ تھی۔
مشرف کے ایک لاٹھی چارج سے فیصل آباد میں صحافیوں کے تاریخی اتحاد نے جنم لیا تھا تو مشرف کی لاٹھیوں کے ایک دوسرے مظاہرے نے فیصل آباد کے صحافیوں کے اتحاد کو کرچی کرچی کردیا۔ اس وقت تک ایف یو جے کی صدارت غلام محی الدین کے پاس آچکی تھی۔ میں اس کے ساتھ جنرل سیکرٹری تھا۔ مشرف کی نومبر 2007کی ایمرجنسی کیخلاف جدوجہد کو فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس بہت بڑا اعزاز جانتی ہے۔اس میں ہم نے تاریخی مظاہرے کئے۔ چار نومبر کو پولیس نے فیصل آبادپریس کلب پر قبضہ کر لیا تھا مگر یہ ہماری ایک دن کی جدوجہد تھی کہ رات تک پولیس کو وہاں سے جاتے ہی بنی۔ پانچ نومبر کو فیصل آباد پریس کلب میں فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔اس جدوجہد میں سول سوسائٹی 12نومبر کو جا کر شامل ہوئی۔ وکلاء اور سیاسی شخصیات تو دور دور تک نظر نہیں آتین تھیں۔ سول سائٹی سے بھی پہلے مزدور رہنما صحافیوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کیلئے ساتھ آشامل ہوئے تھے۔ رانا احمد علی‘ میاں شہباز‘ اسلم وفا‘ فقیرحسین ساغر‘ میاں قیوم‘ رانا طاہر‘ افضل اعوان‘ ایسے نابغہ روزگار مزدور رہنما ہماری جدوجہد کا ساتھ بنے۔ روزانہ آتے۔ احتجاج کرتے اور پسینہ بہا کر چلے جاتے۔ہر احتجاج میں غلام محی الدین فرنٹ پر ہوتا تھا۔ غلام محی الدین‘ اجمل ملک‘ محمد شفیق‘ شمس السلام ناز‘حامد یٰسین‘ قدیر سکندر‘ ندیم جاوید‘ اعجاز انصاری‘ رانا حبیب‘ مرزا جاوید اقبال‘ محمد خلیل‘مظاہروں کا انتظام‘ اس کیلئے لوگوں کو بلانے والوں میں شامل ہوتے تھے۔ہم احتجاج کیلئے نئے نئے آئیڈیئے لائے۔پیمرا کیخلاف پہلا احتجاج بھی فیصل آباد میں ہوا۔ پیمرا کو تاریخی نام’’ منہ اور کان کو تالے لگانے والا ادارہ‘‘ بھی فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس ہی نے دیا تھا جو بعد ازاں زبان زد عام ہو گیا۔ یہ بات تاریخ کے صفحات میں درج ہے کہ تین نومبر 2007کی ایمرجنسی کے بعد مشرف کیخلاف پورے ملک میں خاموشی تھی مگر فیصل آباد سے ایک توانا آواز روزانہ ابھرتی تھی۔ پہلی بار سیاستدان ہمارے مظاہرے میں 20نومبر کو شامل ہوئے۔ دوسری بار 21نومبر کو آئے ۔ اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ ہم 20سے 25ساتھی فرنٹ لائن میں تھے اور ہم سب ایک ہی سنگل کیساتھ ایک دوسرے سے بندھے ہوئے جس کا مقصد کسی کو بھاگنے نہ دینا اور گرنے پر ایک دوسرے کو سنبھالا دینا بھی تھا۔ ہمیں خدشہ تھا کہ آج پولیس راست اقدام کرے گی مگر مظاہرے نہ کرنے کی وارننگ ہم جھٹلا چکے تھے اور وارننگ کے باوجود احتجاج کیلئے پریس کلب میں جمع ہو چکے تھے۔ ہمارا خدشہ بے جا نہ تھا ۔اس روز پریس کلب پر پولیس نے تاریخی دھاوا بولا۔ آنسو گیس کا ایسا بے دریغ استعمال اس سے قبل یا بعد میں فیصل آباد میں میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ کئی گھنٹے تک پولیس اور ہمارے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی۔ اس مظاہرے میں ہمارے کئی ساتھی زخمی ہوئے اور گرفتار بھی ہوئے۔ بائیس نومبر کو دوبارہ احتجاج کیلئے ہم موجود تھے۔ آج وکلاء بھی ہمارے شانہ بشانہ تھے۔ کل گرفتار ہونے والے ساتھیوں کو رات ہی ہم مذاکرات کا راستہ اپنا کر واپس لا چکے تھے۔جدوجہد تو تاریخی تھی مگر اس کا انعام تو کیا ملنا تھا الٹا اس کاتاریخی نقصان ہوا۔
اسٹیبلشمنٹ نے پریس کلب کو جدوجہد کرنے والوں کے ہاتھ سے چھیننے کا فیصلہ کرلیا۔ چند ماہ تو جدوجہد کے ہی تھے۔ مگر اگلے سال وہی ہوا جو کہیں اور فیصلہ کیا جا چکا تھا۔پولیس اور انتظامیہ کی مدد سے پریس کلب پر’’ ان‘‘ کے دوستوں نے قبضہ کرلیا۔مارچ 2009تھا۔ شمس الاسلام ناز کو دھکے دے کر کلب سے نکالا گیا ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کیلئے تھانہ ریل بازار میں درخواست دیدی گئی۔اسی شام اپنے گرفتار ساتھیوں کیلئے میں ‘ اجمل ملک اور غلام محی الدین تھانے گئے تو مجھے اور اجمل کو دھکے دے کر تھانے سے نکال دیا گیا اور محی الدین کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔اس رات تھانہ ریل بازار کے باہر کئی گھنٹے تک ہمارے احتجاج کا نتیجہ تھا کہ پولیس کو غلام محی الدین اور ہمارے دیگر ساتھیوں کو رہا کرتے ہی بنی۔ یہ وہ دن تھا جس کے بعد سے غلام محی الدین پر فیصل آباد پریس کلب کے دروازے بند کر دئیے گئے۔ مارچ 2009کو گزرے تین سال ہی ہوئے تھے کہ پریس کلب پر ’’ان‘‘ کی مدد سے قبضہ جمانے والے اس وقت بے نقاب ہو گئے جب 2012میں وہ آپس میں ہی دست و گریباں ہوئے۔یہ تماشا بھی ہم دونوں(میں اور غلام محی الدین) نے اکٹھے ہی دیکھا ہمارے ساتھ اجمل ملک ‘ ندیم جاوید‘ شہزاد شامی اور بعض دیگر ساتھی بھی تھی جب کلب پر پولیس نے ایک مرتبہ پھر دھاوا بولا۔ کلب کی تاریخ میں پہلی بار قبضہ لینے کیلئے کھلے عام پولیس کا استعمال ہوا۔ ایک ’’ڈوگر‘‘ ایس ایس پی ‘ ایک وزیر قانون کے رشتہ دار کی معیت میں پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری کیساتھ کلب پر حملہ آور ہوا۔ دو گھنٹے تک ہم کلب سے کچھ ہی دور کھڑے گولیاں چلتی اور چلانے والوں کو دیکھتے رہے۔محی الدین مجھے اور میں اسے بار بار کھڑکیوں سے پیچھے ہٹ کر محفوظ مقام پر بیٹھنے کا مشورہ دیتے رہے۔ دونوں کے پیش نظر ایک دوسرے کی حفاظت تھی مگر عمل نہ اس نے کیا اور نہ میں کرنے والا تھا۔دو ایک بار زخمی ہو کر بیٹھے اجمل ملک نے بھی ہمیں کھڑکیوں سے ہٹ جانے اور کمرے کے اندر محفوظ جگہ بیٹھنے کی ہدائت کی مگر ایسا نہ محی الدین کو کرنا تھا اور نہ میں کرسکا۔ ساڑھے آٹھ سال بعد پریس کلب میں غلام محی الدین کی انٹری ہوئی ہے۔ مگر افسوس 25سال فیصل آباد کی صحافت کو دینے والے غلام محی الدین پر ساڑھے آٹھ سال فیصل آباد پریس کلب کے دروازے بند رہے۔اس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ فیصل آباد پریس کلب کیلئے شمس الاسلام ناز کے شانہ بشانہ کام کرتا رہا ۔ساڑھے آٹھ سال بعد بھی محی الدین کا خاکی جسم تو پریس کلب نہ جا سکا مگر خوشی اس بات کی ہے کلب والوں نے اس کی روح کو یہ موقع فراہم کردیا کہ وہاں آسکے ۔اس کے ساتھ ہی غلام محی الدین کا نام بھی عرصہ بعد کلب کے اس حال میں متعدد بار گونجا جس کی ایک ایک اینٹ محی الدین نے خود لگوائی تھی۔ خدا بڑا غفور و رحیم ہے ۔میں دست بدعا ہوں کہ ربِ رحمان ۔غلام محی الدین کے گناہ معاف ‘ نیکیاں قبول کرے اور آخری منازل میں اس کیلئے آسانیاں پیدا کرے۔

فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے دو مرتبہ فنانس سیکرٹری اور چار مرتبہ صدر رہنے والے غلام محی الدین کی

یادیں دہراتے ہوئے فیصل آباد سے حامد یٰسین کے چند الفاظ

Related posts

Leave a Comment