خواتین کو بااختیار بنائے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں: ویمن لیڈرز کا اتفاق


فیصل آباد (احمد یٰسین) مختلف سیکٹرز میں نمایاں مقام رکھنے والی خواتین کا اتفاق ہے کہ حقوق نسواں بارے آگاہی کیلئے ہر سطح پر اور مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف حکومت ہی نہیں معاشرے کے تمام طبقات کو اس حوالے سے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا ہوگا۔اگرچہ خواتین کی بڑی تعداد مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہے اور تعلیمی میدان میں بھی خواتین نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں مگر اس کے باوجود خواتین کی بہت بڑی تعداد اپنے حقوق سے آگاہ ہی نہیں اور اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین کویکساں تعلیم ‘ مساوی تنخواہوں’ جیسے حقوق حاصل نہیں اور امتیازی سلوک’ تشدد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔نیوزلائن سے گفتگو کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے ایس ڈی پی امینہ زمان نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کے حوالے سے امتیازی سلوک کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ خواتین پر گھریلو تشدد آج بھی عام ہے۔ انہیں وراثت میں حق نہیں دیا جاتا۔ بہت سے علاقوں میں انہیں ووٹ کا حق نہیں ملتا۔ خواتین کو انکے حقوق کی فراہمی کیلئے کام کرنا پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کی وائس چانسلر ڈاکٹر صوفیہ انور نے کہا کہ خواتین دنیا کی مجموعی آبادی کا 48 فیصد ہیںاور معاشی ترقی کیلئے انہیں نظرانداز کرنے کی پالیسی ختم کرنا ہوگی۔ نصف آبادی کو معاشی معاملات سے دور کرکے ترقی کا خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں ہے۔ خواتین کواچھی صحت اور زیور تعلیم سے آراستہ کرکے ہی خوشحالی کا حصول ممکن ہے۔ پاکستان میں 21ملین نوجوان خواتین میں سے بہت کم اعلیٰ تعلیم حاصل کرپاتی ہیں۔ عمومی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کو فنی تعلیم سے بھی روشناس کروانا چاہئے ۔ جی سی ویمن یونیورسٹی میں ہم طالبات کو عمومی تعلیم کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ فنی تعلیم کے حصول کے مواقع بھی فراہم کررہے ہیں۔ اس سے وہ مستقبل میں اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوسکیں گی اور ملازمتوں پر انحصار کم ہوسکے گا۔جی سی یونیورسٹی کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر زہرہ بتول کا کہنا تھا کہ خواتین سماجی زندگی کا لازمی حصہ ہیں اور ان کے بغیر معاشرتی زندگی کا تصور ہی محال ہے۔ خواتین کو حصول تعلیم اور معاشرے میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں اسی صورت میں قوم ترقی کی منازل طے کرسکے گی۔ جی سی یونیورسٹی کے ماس کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ارم سلطانہ کا کہنا ہے کہ امتیازی سلوک صنف کی بنیاد پر ہو یا کسی بھی دوسری وجہ سے اس کا خاتمہ کیا جانا ضروری ہے۔ سب کو اس حوالے سے اپنی اپنی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر تعلیم حاصل کرنے کا حق ملنا چاہئے ۔ اس حوالے سے تمام والدین اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور امتیازی سلوک سے گریزکرنا چاہئے۔ پیپلزپارٹی کی سابق ممبر پنجاب اسمبلی نورالنساء ملک نے کہا کہ اصل میں ہیومن رائٹس ہی خواتین کے حقوق ہیں۔ خواتین کے ساتھ کسی بھی معاملے میں امتیازی سلوک روا نہ رکھنا ہی انسانیت کی معراج ہے۔ پاکستان میں حقوق نسواں کے تحفظ اور خواتین کو حقوق دینے کیلئے سب سے زیادہ کام پیپلزپارٹی نے کیا ہے۔ ویمن بنک اور ویمن پولیس سٹیشن اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہی بنائے تھے۔ عوام پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نازیہ سردار نے کہا کہ پاکستان میں حقوق نسواں کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے اس حوالے سے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین پر تشدداور صنفی امتیازات جیسے معاملات ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ ہیں۔ خواتین کو حقوق کی فراہمی کے اور امتیازی سلوک کیخلاف شکایات کے طریقہ کارکو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ پنجاب کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن کی سابق ممبر شازیہ جارج کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہر سطح ہر اور ہر سیکٹر میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ خواتین کام تو کرہی ہیں مگر تنخواہوں کے معاملے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ حکومتی اعدادوشمار گواہ ہیں کہ سکول نہ جانے والے بچوں میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اعتبار فاؤنڈیشن کی صدر نسرین بخاری نے کہا کہ خواتین مساوی حقوق کیلئے اسی صورت آواز اٹھا سکیں گی اگر انہیں اپنے حق کے بارے میں علم ہو گا۔ خواتین کی بہت بڑی تعداد کو اپنے بنیادی حقوق کا بھی علم نہیں ہے۔ اس حوالے سے ہر سطح پر آگہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ بھی اپنا کردار ادا کرے مگر اس کے ساتھ حکومتی اداروں کو بھی اپنا فرض بہتر طریقے سے نبھانا ہوگا۔

Related posts