مسلمانوں کی سائنسی ترقی‘ فتوے ‘ مناظرے اور ہلاکتیں

عباسی دور خلافت کے اواخر تک مسلمانوں نے جدید سائنسی اور طبی علوم پر مہارت تو حاصل کرلی تھی لیکن ان سائنسدانوں کی اکثریت کا تعلق بظاہر لبرل یا ‘ غیر مولوی ‘ طبقے سے تھا، چنانچہ ایک ایک کرکے ان سائنسدانوں پر کبھی کفر کا فتوی لگا تو کبھی ان کی تصانیف کو گستاخی سے تعبیر کرکے جلایا جانے لگا۔ مسلمانوں میں انتہا پسندی بڑھنے لگی تو ہر دوسرا شخص فتوی جاری کرنے لگ گیا۔ پھر جب ان فتووں کا فکری ٹکراؤ ہونے لگا تو گروہ بندی شروع ہوگئی۔…

Read More