مرثیۂ سیاست

دورِ زوّال ہے ورنہ میرزا داغؔ دہلوی زندہ ہوتے تو دہلی کی تباہی پر جس طرح کا شہرآشوب مسدّس انہوں نے لکھا تھا وہ آج تحریر کرتے تو موجودہ سیاست کا حال سننے والے دل تھام کر ہی اسے سن پاتے۔ الطاف حسین حالیؔ کا دور ہوتا تو وہ ”دہلی مرحوم‘‘ یا ”مدّوجزر اسلام‘‘ جیسا قومی مرثیہ لکھ دیتے۔ حضرت علامہ اقبالؔ ہوتے تو ”صقلیہ‘‘ اور ”گورستان شاہی‘‘ جیسے قومی مرثیے کو یوں لکھتے کہ مرثیہ کا دورِ خلیقؔ و ضمیرؔ اور زمانۂ انیسؔ و دبیرؔ زندہ ہو جاتا مگر…

Read More