افغانستان :آرمی پبلک سکول حملے میں ملوث ملا فضل اللہ ہلاک


راولپنڈی(نیوزلائن)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو افغان صدر اشرف غنی کا فون، صوبے کنڑ میں مولوی فضل اللہ کے ہلاکت کی خبر شئیر کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغان صدر اشرف غنی نے ٹیلی فونک رابطہ کر کے مولوی فضل اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبر شیئر کی۔ مولوی فضل اللہ کو افغان صوبے کنڑ میں ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مولوی فضل اللہ 2009ء سے افغانستان میں موجود تھا۔ مولوی فضل اللہ آرمی پبلک سکول پشاور سمیت متعدد دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث تھا۔ تحریکِ طالبان کے کمانڈر کا مارا جانا مثبت پیش رفت ہے، اس کی ہلاکت بہت سارے ان پاکستانیوں کے لیے اطمینان کا باعث ہو گی جو ان دہشت گردی کی کارروائیوں کو نشانہ بنے۔ اس سے قبل افغان وزارتِ دفاع کے حکام نے صوبہ کنّڑ میں امریکی فوج کی کارروائی میں پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی تھی۔ وزارتِ دفاع نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ملا فضل اللہ 13 جون کو کنّڑ میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل مارٹن اوڈونیل نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ 13 جون کو صوبہ کنڑ میں انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کی گئی، جس میں دہشت گرد تنظیم کے ایک سینئر رہنما کو ہدف بنایا گیا۔ افغان حکام کے مطابق حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے، جنہیں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال طالبان کی جانب سے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔امریکا نے ملا فضل اللہ کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ یاد رہے ملا فضل اللہ کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی بابو کارخیل شاخ سے تھا، اس نے 17 ماہ جیل بھی کاٹی تھی۔ ملا فضل اللہ جولائی 2007ء میں لال مسجد آپریشن میں بھی ملوث تھا۔ وہ پاکستان میں متعدد خود کش حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ کراچی ایئرپورٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی ملا فضل اللہ تھا۔ ملا فضل اللہ 2013ء میں کالعدم ٹی ٹی پی کا سربراہ مقرر ہوا تھا۔ وہ سانحہ اے پی ایس اور دیگر دہشتگردی کے واقعات میں ملوث تھا۔ سانحہ اے پی ایس میں ملا فضل اللہ نے 132 بچوں کو شہید کیا تھا۔ ملا فضل اللہ نے سوات کی ملالہ یوسفزئی کو بھی حملے میں نشانہ بنایا تھا۔ میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کو 2013ء میں فضل اللہ گروپ نے شہید کیا۔ سوات میں پاک فوج کے آپریشن کے دوران ملا فضل اللہ افغانستان فرار ہو گیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایک دوسرے کیساتھ تعاون اور رابطہ دہشتگردی کی لعنت کیخلاف بہترین جواب ہے، پاکستان کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے۔ ادھر افغان صدر اشرف غنی نے نگران وزیرِاعظم ناصر الملک کو بھی فون کر کے طالبان کمانڈر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ وزیرِاعظم نے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاع دینے پر افغان صدر کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبر پر اطمینان کا اظہار کیا، اس کی ہلاکت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اہم پیش رفت ہے۔ ملا فضل اللہ عوام اور ریاست پاکستان کا دشمن تھا۔ پاکستانی عوام تحریک طالبان سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ملا فضل اللہ پاکستان کیخلاف افغان سرزمین استعمال کر کے دہشتگردوں کی معاونت کرتا رہا، ملا فضل اللہ آرمی پبلک سکول سانحے کا ذمہ دار تھا جس میں معصوم بچوں کی جانیں گئیں۔

Related posts