سعودی عرب کی124 اہم دفاعی رپورٹس ایران کے ہاتھ لگ گئیں

ریاض(نیوز لائن)سعودی عرب کی 124اہم خفیہ رپورٹس ایران کے ہاتھ لگنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ کام سعودی دارالحکومت میں سرگرم بتیس جاسوسوں پر مشتمل سیل نے کیا۔ ایران کیلئے جاسوسی کرنے والے اس انٹیلی جنس گروپ میں متعدد اہم شخصیات اور سعودیہ کے معززین شامل تھے۔نیوز لائن کے مطابق جاسوس نیٹ ورک نے یہ کام سال 2014سے 2015کے درمیان کیا۔ ایران کے ہاتھ لگنے والی رپورٹس میں سعودی عرب کے دفاع اور سکیورٹی کے حوالے سے اہم دستاویزات اور ڈیٹا شامل ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس جاسوسی سیل میں شامل افراد نے ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر کو بالمشافہ ملاقاتوں میں رپورٹس فراہم کیں۔سعودی حکام دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ عناصر ریاض میں ایرانی سفارت خانے، جدہ میں قونصل خانے اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں ایرانی مشن میں سفارت کار کے بہروپ میں کام کررہے تھے۔وہ ای میلز کے ذریعے بھی خفیہ پیغامات ایرانی انٹیلی جنس کو بھیجا کرتے تھے۔انھیں ایرانی خفیہ اداروں کے عناصر ہی نے خفیہ پیغام رسانی کی تربیت دی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس سیل کے ارکان نے سعودی عرب اور اس سے باہر ایرانی خفیہ اداروں کے چوبیس عناصر سے بالمشافہ ملاقاتیں کی تھیں۔اس جاسوسی سیل کے ارکان کے تہران میں انٹیلی جنس بیوروکے ڈائریکٹر،اوآئی سی میں ایرانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ڈائریکٹر سے براہ راست روابط تھے۔اس سیل میں شامل سات سعودی فوجی اہلکار ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر کو حساس فوجی مقامات، لڑاکا طیاروں،فوجی ہوائی اڈوں اور خفیہ فوجی مراسلت کے بارے میں معلومات، تصاویر اور دوسرا ڈیٹا مہیا کرتے رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فوجی جاسوس سعودی تنصیبات کی تصاویر بنانے کے لیے چھوٹے کیمرے استعمال کیا کرتے تھے اور انھیں تہران بھیجا کرتے تھے۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ الریاض میں شاہ فیصل اسپتال میں تعینات ایک میڈیکل کنسلٹینٹ تہران کو مرحوم شاہ عبداللہ اور ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کی صحت سے متعلق طبی رپورٹس بھیجا کرتے تھے۔یہ تمام انکشافات خفیہ جاسوسی سیل کے پکڑے جانے پر ہوا۔بعد ازاں پکڑے جانے والے جاسوسی سیل میں شامل15 افراد کوایک سعودی عدالت نے مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھیں۔ پندرہ کو چھے ماہ سے پچیس سال تک سزائے قید کا حکم دیا تھا اور دو کو بری کردیا تھا۔ان میں ایک سعودی اور ایک افغان شہری تھا

Related posts