پنجاب حکومت نے 10 سال میں کچھ نہیں کیا، ناکامی کا اشتہار دے


اسلام آباد(نیوزلائن)سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ صاف پانی فراہم کرنے کیلئے مختص رقم سے بلٹ پروف گاڑیاں لی جا رہی ہیں،چیف سیکرٹری صاف پانی کمپنی کی تمام تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صاف پانی سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس پاکستان آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں بنائی جارہی ہیں،پیسے کوافسران پرخرچ کیاجارہاہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی کیاضرورت ہے؟،اس پر چیف سیکرٹری نے بتایا کہ عدالتی حکم پربلٹ پروف گاڑیاں فراہمی کاعمل روک دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کروڑوں اربوں روپے کے اخراجات کئے جارہے ہیں یہ معاملہ بھی دیکھا جائے،عدالت نے چیف سیکرٹری کو صاف پانی کمپنی کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ 10 سال میں کچھ نہیں کیا، حکومت اپنی ناکامی کا بھی اشتہار دے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالتی معاون نے بتایا کہ ملتان کا گندا پانی 297 ملین گیلن ہے ، محمود بوٹی کے پلانٹ کی قیمت 9 ارب روپے ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ لوگوں کی زندگی موت کا معاملہ ہے اورنج ٹرین پر 180 بلین لگادیے گئے لیکن صحت پر نہیں لگائے گئے صحت تو آپ کی ترجیح ہی نہیں ہے مجھے کہا گیا کہ ہسپتال نہ جا?ں، کیوں نہ جا?ں؟ سروسز ہسپتال میں لوگ آہ وہ بکا کر رہے تھے، پنجاب حکومت نے گزشتہ 10 سال میں کچھ نہیں کیا، حکومت اپنی ناکامی کا بھی اشتہار دے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سے گندے پانی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

Related posts