شہباز حکومت نے نواز شریف پر جوتا پھینکنا دہشت گردی قرار دیدیا


لاہور(نیوزلائن)میاں شہبازشریف کی حکومت نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر جوتا باری کرنے کو دہشت گردی قرار دیدیا ہے۔جامعہ نعیمیہ میں پیش آنیوالے واقعہ کی ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کا اضافہ کرلیا گیا ہے اور گرفتار ملزمان کیخلاف کیس جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے تبدیل کرکے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں بھجوا دیا گیا ہے۔نیوزلائن کے مطابق جامعہ نعیمیہ لاہور میں ایک تقریب کے دوران سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف پر ایک شخص نے جوتا پھینکا تھا جو میاں نواز شریف کو کندھے پر لگا اور چہرے کو چھوتا ہوا پیچھے گر گیا۔جوتا پھینکنے والے اور اس کے دو ساتھیوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اور ان کیخلاف پولیس کی مدعیت میں افوہیں پھیلانے‘ دھمکیاں دینے اور شہری کی توہین کرنے کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی۔ مگر وقوعہ کے کئی روز بعد اچانک ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کر لی گئی ہیں ۔مقامی پولیس کے مطابق کیس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات اعلیٰ افسران کے حکم پر شامل کی گئی ہیں۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ واقعہ میں دہشت گردی کا پہلو نکلتا ہے کہ نہیں اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مقدمہ کی تفتیش میں جو صورتحال سامنے آئے گی اسی کے مطابق رپورٹ تیار ہو گی اور چالان مکمل ہو گا۔لاہور پولیس نے مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی رپورٹ مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بھی جمع کروا دی ہے جس کے بعد کیس کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کو ٹرانسفر کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعہ کو دہشت گردی قرار دینے سے مسلم لیگ ن کی حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایک طرف تو شہباز شریف حکومت میاں شہباز شریف کے بھائی پر جوتا پھینکنے کو دہشت گردی قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب عمران خان پر جوتا پھینکنے کی کوشش کرنیوالے فیصل آباد کے ن لیگی ورکر کی فوری ضمانت بھی منظور ہو گئی اور اس کے کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کی گئیں۔ گجرات میں بھی عمران خان پر جوتا پھینکنے کے واقعہ کو بھی دہشت گردی قرار نہیں دیا گیا۔لاہور میں میاں نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعہ میں تو کوئی ن لیگی رہنما مدعی بھی نہیں ہے۔ پولیس خود مدعی ہے ایسے میں صرف لاہور کے واقعہ کو دہشت گردی قرار دے کر پنجاب پولیس حکومت کو تو خوش کرسکتی ہے مگر دوہرے معیار کی روشن مثال بھی قائم کررہی ہے۔

Related posts