صحافت یا کاروبار: فیصل آباد میں تمام اخبارات کے بیورو فروخت


فیصل آباد(ندیم شہزاد )فیصل آباد میں تمام اخبارات اور ٹی وی چینل کے بیوروز برائے فروخت اور لوٹ مار کی کھلی اجازت ہے۔تمام قومی اخبارات اور چھوٹے بڑے تمام ٹی وی چینل صحافت کو بھلائے بیٹھے ہیں اور صحافت کے نام پر کھلے عام کاروبار سجائے بیٹھے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق کوئی ایک بھی اخبار یا ٹی وی چینل ایسا نہیں ہے جو اپنے تمام نمائندوں اور ورکرز کو تنخواہیں دے رہا ہو۔ چند اخبار یا ٹی وی چینل شہر کی حد تک اپنے انتہائی کم تعداد میں ورکرز کو تنخواہیں دے رہے ہیں تا ہم یہ بھی نواحی علاقوں اور فیصل آباد ریجن کے دیگر شہروں میں اپنے بیوروز فروخت کرتے ہیں۔بیوروز کی فروخت کے دھندے میں تمام چھوٹے بڑے اخبار اور ٹی وی چینل ملوث ہیں۔ جیو‘ اے آر وائی‘ ایکسپریس‘ سماء ٹی وی‘ نیو ٹی وی ‘ 92نیوز‘ دنیا ٹی وی‘ بول ٹی وی ‘ کیساتھ آج‘ کے ٹی این‘ میٹرو‘ ویلیو‘ روز‘ رائل‘ چینل فائیو‘ نیوز 1‘ سیون نیوز‘ سمیت تمام چھوٹے بڑے ٹی وی چینل اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ہیں۔ملک کا سب سے بڑا اخبار ہونے کا دعویدار روزنامہ جنگ ہو یا فیصل آباد میں سب سے بڑا اخبار کہلانے والا روزنامہ ایکسپریس اپنے بیورو فروخت کرنے میں کوئی بھی پیچھے نہیں ہے۔روزنامہ خبریں نے ایسی طرح ڈال دی ہے کہ اب کوئی بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہتا۔ ایکسپریس ‘ جنگ‘ دنیا‘ نئی بات اور اب روزنامہ 92نیوزشہر میں اپنے رپورٹرز اور دیگر عملے کو تنخواہ پر رکھے ہوئے ہیں مگر فیصل آباد ریجن کے دیگر تمام اضلاع ‘ تحصیلوں اور موضع جات میں اپنے بیورو یہ اخبار بھی فروخت کررہے ہیں۔ اپنے نمائندں کو نوٹ بنانے کی مشین بنا کر ان سے کام لیتے ہیں۔ خبریں‘ سرکولیشن‘ اشتہارات اور بلیک میلنگ کا دھندہ سب ایک ہی بندے سے کروایا جا رہا ہے۔ بیوروز کی بولی لگتی ہے۔ تجربہ اور قابلیت کی بجائے نوٹوں کی بنیاد پر بیوروز مقرر کئے جا تے ہیں۔خبریں‘ نوائے وقت‘ پاکستان لاہور‘ پاکستان راولپنڈی‘ یلغار‘ جسارت‘ جرأت سمیت لاہور اور راولپنڈی سے آنیوالے تمام اخبارات کے بیورو کھلے عام فروخت ہوتے ہیں۔روزنامہ خبریں اور روزنامہ جنگ نے فیصل آباد شہر میں دو دو دفاتر بنا کر ایک نئی ہی روائت ڈال دی ہے ۔

Related posts