غیرقانونی پیوندکاری کیخلاف مربوط حکمت عملی بنانے پر غور


فیصل آباد(نیوزلائن)ضلع بھر میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے غیر قانونی فعل پرکڑی نظر رکھی جائے اس ضمن میں خفیہ اداروں سمیت تمام محکمے مربوط حکمت عملی کے تحت سراغ رسانی کاکام جاری رکھیں تاکہ کسی جگہ اس منفی کاروبار کا احتمال نہ رہے۔یہ بات ڈپٹی کمشنر سلمان غنی کی ہدایت پر منعقدہ ڈسٹرکٹ ویجیلینس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ہیڈ کوارٹرز)میاں آفتاب احمدنے کہی جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر آصف شہزاد نے پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے مروجہ طریقہ کار اورمتعلقہ قوانین کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں انچارج شعبہ یورالوجی الائیڈ ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر صفدر حسن سیال،انچارج شعبہ امراض چشم الائیڈ ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر محمد سلطان،انچارج شعبہ میڈیسن پروفیسر ڈاکٹر عامر شوکت،ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ڈاکٹر ریاض چدھڑ،سپیشل برانچ،پولیس اور خفیہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ گردوں،آنکھوں وجگر کی پیوند کاری کے لئے قانونی وطبی تقاضوں کو مدنظر رکھنے سے متعلق آگاہی کے لئے خصوصی اقدامات پر عمل کیا جارہا ہے اس سلسلے میں سرکاری ونجی ہسپتالوں کو تمام تر قانونی شرائط،طبی ضروریات اور دیگر انتظامی امور پر عمل پیرا ہونے سے متعلق مشاورتی نوٹسز دئیے گئے ہیں۔صدر اجلاس نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ خصوصی طور پر گردوں کی خریدوفروخت اورپیوندکاری کے غیر قانونی کاروبار کو چیک کرنے کے لئے چوکس رہیں تاکہ ایسا کوئی واقعہ رونمانہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اس ضلع میں گردے کی خریدکے لئے لوگوں سے رابطہ کرنے والوں کا خفیہ طریقے سے سراغ لگایا جائے۔انہوں نے کہا کہ گردوں کی خریدوفروخت یا پیوندکاری کے لئے گیٹس کی حامل ہاؤسنگ کالونیوں کے خفیہ گھر بھی استعمال ہوسکتے ہیں لہذا ایسی حرکات وسکنات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر ماہر امراض گردہ پروفیسر ڈاکٹر صفدر حسن سیال نے بتایا کہ پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے اب تک 14ہسپتالوں کو گردے کی پیوندکاری کی اجازت دی ہے جن میں چارسرکاری اور 10پرائیویٹ ہسپتال شامل ہیں۔

Related posts