نمک کی کان میں زندگی کادلچسپ احساس

نمک کا پیٹ میں جانا معمول کی بات ہے مگرنمک کے پیٹ(نمک کی کان) میں زندہ انسانوں کو چلتے پھرتے دیکھ کر جو احساس پیدا ہوتا ہے اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان میں چار موسم, معدنیات کے ذخائر, خوبصورت علاقوں سمیت بے شمار ایسی نشانیاں ہیں جن کو دیکھ کر بے ساختہ صورت ائرحمان کی آیت”فبأي الاء ربكما تكذبان” کا ورد منہ سے خودبخود جاری ہو جاتا ہے۔کیونکہ بحیثیت انسان ہماری فطرت ہے کہ ہم ناشکری کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالٰی کی نعمتوں کو جھٹلاتے رہتے ہیں اور اس بات کا احساس مجھے تب بڑی شدت سے ہوا جب گذشتہ دنوں کھیوڑہ میں نمک کی کان دیکھنے کا اتفاق ہوا تو وہاں پر مختلف عمر کے لوگوں کو کان کے اندر قہقہے لگاتے اور ایک دوسرے پر آوازیں کستے ہوا دیکھا۔وہاں پر ایک بھی ایسا دکھائی نہیں دے رہا تھا جو اللہ کی اتنی بڑی عنایت پر اس کا شکر ادا کررہا ہو۔پتہ نہیں ہم صرف ہلڑ بازی کو ہی انجوائے منٹ کیوں سمجھتے ہیں۔اس موضوع پر مزید بات کرنے سے پہلے نمک کی کان کھیوڑہ کا تاریخی پس منظر, محلے وقوع اور دنیا بھر میں سالٹ مائینز کے حوالے سے معلومات قارئین کی نذر کرنا لازمی سمجھتا ہوں۔نمک کی کان کھیوڑہ کی سووئینر شاپ سے ملنے والے پفلٹ کے مطابق یہ کان پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے علاقہ کھیوڑہ میں واقع ہے۔یہ علاقہ دارالحکومت اسلام آباد سے 180 کلومیٹر اور صوبائی دارالحکومت لاہور سے 245 کلومیٹر دور ہےجبکہ پنڈ دادنخان سے اس کا فاصلہ 5 کلومیٹر ہے۔ بذریعہ موٹروے آنے والے ٹورسٹ للّلہ یا کلر کہار انٹرچنج سے اس علاقے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں سے نکلنے والا نمک اتنا خالص اور صاف ہے کہ اسے استعمال کے لیے کسی صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کھیوڑہ نمک کی کان کی لمبائی تقریبا260کلومیٹر اور چوڑائی 16 کلومیٹر ہے۔یہاں پر میں اپنے قارئین کو مشورہ دونگا کہ آپ جب کان کی سیر کیلئے جائیں تو بہتر ہوگا وہاں پر موجود گائیڈ کے ہمراہ جائیں تاکہ آپ بہتر طریقے سے سیاحت کے ساتھ ساتھ مفید معلومات سے بھی ہمکنار ہو سکیں۔ ہم جس گائیڈ کو ساتھ لے کر کان کے اندر گے تھے اس کا نام سرفراز شاہ تھا۔جو سرگودھا کے کسی دیہی علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔شاہ صاحب نے کان کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہمیں ضروری ہدایات کرتےہوئے بتایا کہ کان کے اندر جانے والا ریلوے ٹریک اور اس کے اوپر گزرنے والی الیکڑک تاروں کو نہیں چھونا۔اسی طرح کان کے مطلق بنیادی معلومات دیتے ہوئے ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ یہ کان کل 17 منزلوں پر مشتمل ہے جن میں 10 منزلیں زیر زمین اور 7 زمین کے اوپر ہیں۔ میری دیگر معلومات کے مطابق کان میں آکسیجن کی مقدار 17.40 فیصد اور درجہ حرارت سردیوں, گرمیوں دونوں موسموں میں 18ڈگری رہتا ہے۔ ٹورسٹ کو اڑھائی کلومیٹر رقبے کی سیر کروائی جاتی ہے۔سائرین کی سہولت کیلئے کان کے اندر جانے کے لئے چھوٹی ٹرین بھی موجود ہے۔یہ ٹرین بجلی سے چلتی ہے جو اپنی سواریوں کو کان کے دہانے سے لے کر ایک کلومیٹر اندر لے جاتی ہے۔اسے 1930ء کا ایک تاریخی انجن کھینچتا ہے۔اس سے پہلے اس ٹرین کو کھینچنے والے دو اسٹیم انجن ہوتے تھے جن کا دھواں کان میں پھیل جاتا تھا اسی لیے ان انجنز کی جگہ موجودہ الیکڑک انجن لگا کر اس مسئلے کا حل نکالا گیا۔اس سالٹ مائین کے اندر سیاحوں کی دلچسپی کے لیے نمک کی مسجد بھی بنائی گئی ہے جو 1960ء کی دہائی میں اس وقت کے چیف مائننگ انجینئر رانا محمد سلطان نے پوری کان میں سے بہترین رنگ برنگآ نمک نکلوا کر اس کی انٹیں تیار کروا کر بنوائی تھی۔اسی طرح کان کے اندر نمک کی اینٹوں سے مینار پاکستان بھی بنایا گیا ہے۔ کان میں دیگر قابل دید جگہوں میں پوسٹ آفس, اسمبلی حال,شیش محل, غار ثور, چاندنی چوک,انگوری باغ,ڈائمنڈ ویلی اور نتھیا گلی شامل ہیں جبکہ کھیوڑہ نمک کی کان کے اندر قدرتی طور پر بننے والے تالاب بھی موجود ہے ان کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں کوئی چیز ڈوبتی نہیں اور پانی اتنا شفاف ہے کہ متعدد تالابوں کی تہہ تک دکھائی دیتی ہے مگر ان شفاف تالابوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ لوگوں نے ان کے اندر خالی بوتلیں ودیگر اشیاء پھینک کر ان کے حسن کو برباد کردیا ہے۔ان قدرتی تالابوں کی تعداد 60 سے70 کے لگ بھگ ہے ان کی گہرائی 35 سے 80 فٹ تک ہے۔سب سے بڑا تالاب 70فٹ چوڑا اور 80 فٹ گہڑا ہے اسے بہرالکاہل کا نام دیا گیا ہے۔اب آتے ہیں دنیا کی دوسری اور ایشیا کی سب بڑی نمک کی کان کھیوڑہ کے تاریخی پس منظر کی طرف اس کان کی دریافت کے حوالے سے دو روایات کا حوالہ تاریخ میں موجود ہے۔تاریخی حوالہ جات کے مطابق ان معدنی ذخائر کی دریافت کھیوڑہ کے ایک باشندے اسپ خان نے مغل بادشاہ اکبر کے دور میں کی تھی۔اسپ خان نے حکومت کو اپنی اس دریافت کے متعلق اس شرط پر آگاہ کیا کہ حکومت وقت اسے بدلے میں دوسرے کان کنوں کی مجموعی آمدنی کے برابر تاحیات معاوضہ ادا کرے۔تاہم اس روایت پر تاریخ دان متفق نہیں ہیں۔تاریخ دانوں کے مطابق نمک کے ان ذخائر کا تذکرہ تو قدیم یونانیوں کی کتب میں بھی موجود ہے اس لئے یہاں دوسری روایت قرین قیاس اور درست مانی جاتی ہے۔اس دوسری روایت کے مطابق اس علاقے سے میں نمک کی دریافت کا تعلق یونان کے مشہور فاتح سکندر اعظم کی ہندوستان آمد سے ہے۔سکندر اعظم نے اس معدنی ذخائر کو کس طرح دریافت کیا اس کی تفصیل معلوم کرنے کے لیے ضروری ہےکہ سکندر اعظم کی زندگی اور اس کی ہندوستان آمد پر روشنی ڈالی جائے ۔دنیا میں آج تک جتنے لیڈرز‘ جتنے فاتح اور جتنے سپہ سالار گزرے ہیں سکندراعظم کا شمار چوٹی کے چند جرنیلوں اور لیڈروں میں ہوتا ہے۔ سکندر اعظم یعنی ایلگزینڈر دی گریٹ تین سو چھپن قبل مسیح میں مقدونیہ میں پیدا ہوا‘ بیس سال کی عمر میں بادشاہ بنا‘ بائیس سال کی عمر میں دنیا فتح کرنے نکلا‘ بتیس سال کی عمر میں اس نے 30ہزار کلومیٹر اور 70 ملک فتح کر لئے اور33 سال کی عمر میں وہ انتقال کر گیا۔اس کی اس ”ری مارک ایبل“ کامیابی نے تاریخ کو حیران کر دیا کیونکہ انسان اگر صرف پیدل چلے توبھی یہ دس سال میں 30ہزار کلومیٹر سفر نہیں کر سکتا جبکہ سکندر نے دس سال میں تیس ہزار کلومیٹر رقبہ فتح کیا تھا۔ سکندر اعظم پہلا شخص تھا جو ہندوستان میں گھوڑا لے کر آیا تھا۔اس سے پہلے ہندوستان میں گھوڑا نہیں تھا‘اس نے ہندوستان میں پینٹ یا پائجامہ بھی متعارف کرایا تھا ‘اس نے ہندوستانیوں کو ستون بنانے کا آرٹ بھی سیکھایا تھا اور یہ پہلا شخص تھا جس نے ہندوستانیوں کو بتایا تھا دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ سکندر اعظم نے کھیوڑہ میں نمک کے ذخائر کس طرح دریافت کیے۔سکندر جب دنیا فتح کرنے نکلا تو یہ یونانی فاتح اپنے پچاس ہزار فوجیوں کے ہمراہ وسط ایشیا کی جانب عازم سفر ہوا۔اس کے دو جرنیل ہیفسٹیان اور پروڈکس سکندر کے حکم پر کچھ فوج کے ساتھ ہندوستان پر حملہ آور ہوگئے۔ان کی آمد کی اطلاع سن کر یہاں کے متعدد سرداروں نے بغیر لڑے ہی ہتھیار ڈال دیئے۔کچھ عرصہ بعد سکندر بھی اپنی افواج اور جنگی سازوسامان سمیت کابل سے ہندوستان پہنچا تو اس کی متحدہ فوج بغیر دشواری کے دریا سندھ عبور کر گی۔سکندر اعظم براستہ ٹیکسلا کوہستان نمک میں داخل ہوا۔اب اس کی افواج پنجاب کے میدانوں کا رخ کررہی تھی مگر دریائے جہلم کی تیغیانی اور دریا کی دوسری جانب راجا پورس جو پنجاب کا ناموار حکمران تھا کی فوجیں سکندر اعظم اور اس فوج کے راستے میں حائل تھی۔لہٰذا سکندر کی فوجوں کو دریائے جہلم کے کنارے پڑاؤ کرنا پڑا۔اس پڑاؤ کے دوران انہوں نے دیکھا کہ ان کے گھوڑے اس علاقے میں چڑنے کے ساتھ ساتھ پتھر چاٹ رہے ہیں۔یہ پتھر چاٹنے سے بیمار گھوڑے تندرست ہورہے ہیں غور کرنے پر یہاں نمک کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔اسی زمانے سے یہاں سے نمک کی ترسیل جاری ہے۔سینکڑوں سال گزر گئے اس علاقے میں معروف مسلمان سیاح ابن بطوطہ ودیگر معرؤف لوگوں سے لے آج ہم جیسے ہزاروں لوگ سیاحت کے لیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ سکھوں, مسلمانوں اور انگریزوں سمیت ہر کسی کے زیر حکومت رہنے والے اس علاقے کو دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہاں جو بھی حکمران آیا صرف اس کے نمک کو چاٹنے (نمک کے ذریعے کمائی کرنے) ہی آیا کیونکہ اس علاقہ میں موجودہ جدید دور میں بھی معیاری سڑکوں سمیت دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔کھیوڑہ نمک کی کان کو دکھنے کے لیے آنے والے ٹورسٹ کےلئے بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔کھانے پینے کی چیزیں غیر معیاری اور انتہائی مہنگی ہیں۔ہم نے سالٹ مائین کے کیفے ٹیریا سے برگر لئے تو ان کی کوالٹی اور قیمت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔میں نے جب دوکاندار سے بات کی تو اس نے ٹکا سا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ مہنے کا 1 لاکھ 9 ہزار روپے ٹھیکا دینا ہوتا ہے۔اگر کوالٹی کو دیکھے تو پھر ہم نے کیا کمایا؟ بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ سووئینر شاپ سے ملنے والے معلوماتی پفلٹ کے مطابق کان کے اندر جانے کے لئے مختص کی جانے والے ریٹس کچھ یوں ہیں۔غیر ملکی بالغ افراد 10 امریکی ڈالرز یا ان کے برابر پاکستانی کرنسی جبکہ غیرملکی سٹوڈنٹس 5 امریکی ڈالرز یا ان کے برابر رقم ادا کرکے کان کے اندر داخل ہوسکتے ہیں۔اسی طرح پاکستانی بالغ افراد 150 روپے اور طالب علم 75 روپے کا ٹکٹ خرید کر کان میں جا سکتے ہیں۔مگر ٹکٹ کاؤنٹر پر جائے تو وہاں آپ کو 150 کی بجائے 200 روپے اور طالب علم کو اس کے تعلیمی ادارے کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ ہونے کے باوجود 75 کی بجائے 100 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔میں یہاں پر محکمہ پی ایم ڈی سی سمیت دیگر ارباب اختیار کو یہ ضرور کہوں گا کہ چلیں کھیوڑہ کے سارے علاقے کو ناسہی تو کم از کم اس کان کے ایریا کے نظم و ضبط کو تو منظم کریں۔ یہاں پر کھآنے پینے کی معیاری چیزوں کو مناسب قیمت پر ٹورسٹ کےلئے یقینی بنائیں۔واش رومز کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا چاہیے اور ان کی صفائی کابھی مناسب انتظام ہو کیونکہ اس جگہ پر آنے والے غیر ملکی ہمارے بارے میں منفی تاثرات لے کر نہ جائیں۔اگر ممکن ہو سکے تو کان کے اندر بھی واش رومز بنائے جائے تاکہ کان کے اندر جانے والے بزرگ اور بچوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسی طرح سائرین کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے کھیوڑہ سالٹ مائین کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے خاص کر کان کےاندر بنے ہوئے قدرتی تالابوں میں خالی بوتلیں ودیگر اشیاء پھینکنے سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ ان کا قدرتی حسن برقرار رہے۔


تحریر ….. افضال احمد تتلا
afzaal156@gmail.com

Related posts