پارٹی ٹوٹنے کا خدشہ: ن لیگ اور تحریک انصاف اپنوں سےخوفزدہ


فیصل آباد(ندیم جاوید)مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت پارٹی ٹوٹنے کے خدشہ کے پیش نظر اپنے امیدواروں سے پارٹی نہ چھوڑنے کا حلف نامہ لینا شروع کردیا ہے۔ مسلم لیگ ن سے بھی زیادہ تحریک انصاف کو اپنی پارٹی ٹوٹنے اوربہت بڑی تعداد میں رہنماؤں کے دوسری جماعتوں میں جانے کے خطرے کا سامنا ہے ۔ نیوزلائن کے مطابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو ہی نہیں پاکستان تحریک انصاف کو بھی اپنی پارٹی ٹوٹنے اور بڑی تعداد میں انتخابی سیاست کے شہ سواروں کے دوسری جماعتوں میں جانے کے خطرے نے گھیر رکھا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر پارٹی ٹکٹ کی درخواست کیساتھ امیدواروں سے حلف نامہ لیا جا رہا ہے کہ وہ ٹکٹ نہ ملنے پر بھی پارٹی کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے متعدد موجودہ ارکان اسمبلی پی ٹی آئی کیساتھ رابطے میں ہیں۔ مگر ان کی شمولیت پارٹی ٹکٹ کیساتھ مشروط ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی پہلے سے پی ٹی آئی میں شامل اہم افراد کی پوزیشن مشکوک ہوتی جارہی ہے۔ پی ٹی آئی ایک ایک حلقے میں نصف درجن اہم شخصیات کو جمع کررہی ہے جس سے اس کیلئے صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ مسلم لیگ ن کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی بڑی تعداد دوسری جماعتوں میں جانے اور آزاد الیکشن لڑنے کی تیاریاں بھی کررہے ہیں۔فیصل آباد میں سیاستدانوں کا ایک بڑا گروپ پیپلز پاٹی کیساتھ بھی رابطے میں ہے ۔ پی ٹی آئی میں جانے والی متعدد شخصیات بھی پی پی پی میں واپسی کیلئے پر تول رہی ہیں۔پی ٹی آئی کی اندرونی دھڑے بندی بھی حالات کو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ دھڑے بندی کا نقصان مسلم لیگ ن کو بھی ہو رہا ہے۔اور ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت بڑی تعداد میں اہم سیاسی شخصیات کے ادھر ادھر ہونے کا خدشہ دونوں جماعتوں کو لاحق ہے۔ خدشات اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ دونوں جماعتوں کو اپنے ہی رہنماؤں پر اعتماد نہیں رہا۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ کی مرکزی قیادت اپنے ہی رہنماؤں پر بداعتمادی کا مظاہرہ کررہی ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی اپنے رہنماؤں سے حلف نامے لے رہی ہیں کہ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر وہ اپنی جماعت کو چھوڑ کر کسی دوسری جماعت میں نہیں جائیں گے۔حلف نامہ کو دونوں جماعتیں ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی بدلنے والوں کے حلف نامے کو اس کیخلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔اور حلف نامے کی بنیاد پر اس کی نااہلی کیلئے بھی کوشش کی جا سکتی ہے۔بداعتمادی کے اس ماحول میں دونوں جماعتوں کے رہنما اپنی ہی قیادت سے بدظن ہوتے جا رہے ہیں۔سیاسی حلقوں کے مطابق جوں جوں ایکشن قریب آئے انتخابی میدان میں متعدد تبدیلیاں آئیں گی اور صورتحال دلچسپ سے دلچسپ تر ہوتی جائے گی۔

Related posts