پاکستان کرکٹ بورڈ: شہریا ر اورنجم سیٹھی کی’’ ترلے ‘‘کی سفارت

لاہور (ایچ وائی احمد) پاکستان کرکٹ کی شان و شوکت اب قصہ ماضی بن چکی ہے۔ ایک طرف تو کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی غلطیاں‘جوئے‘ میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی سزا بحیثیت قوم ہمیں مل رہی ہے تو دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کی بد انتظامی اور بعض افراد کی غلط پالیسیاں پاکستان کو بھگتنا پڑ رہی ہیں۔ بھارت کیساتھ کرکٹ تعلقات کی بحالی بھی ایسا ہی ایشو ہے جس پر پی سی بی نے مسلسل غلطیوں پر غلطیاں کی ہیں اور قوم کو دھوکے میں رکھا ہے۔سابق چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف آئی سی سی میں مسلسل بگ تھری کی حمائت سے انکاری اور اس معاملے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی حامی تھے مگر نجم سیٹھی نے قوم کو مژدہ سنایا کہ بگ تھری کی حمائت کرنے پر بھارت پاکستان کیساتھ کرکٹ سیریز کھیلنے کے معاہدے کر رہا ہے ۔ قوم کو ایک ’’ایم او یو‘‘ سائن کئے جانے کا بھی دھوکہ دیا گیا۔بگ تھری بن کر ختم بھی ہو چکا مگر بھارت نے پاکستان کیساتھ سیریز تو کیا ایک میچ کھیلنا بھی گوارا نہیں کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اورسابق چیئرمین نجم سیٹھی نے گزشتہ چار سالوں کے دوران بھارت کیساتھ کرکٹ بحالی کیلئے مسلسل ’’ترلے‘‘ کی سفارت کا طریقہ کار اپنا رکھا ہے مگر ان کے ’’ترلے‘‘ کسی طور کامیاب ثابت نہیں ہو رہے۔بھارت کی مسلسل منتیں کی جارہی ہیں کم سے کم ایک سیریز کی بھیک ہی ہماری جھولی میں ڈال دے مگر وہ بھی بھارت ہے وہ مسلسل دھتکار دیتا ہے ساتھ میں ہے آئندہ بھیک منگوانے کا انتظام بھی کردیتا ہے کہ اس پر پھر بات کریں گے۔ پی سی بی کے عاقبت نااندیش سربراہان ہیں کہ بھارتی پالیسی کو سمجھتے ہوئے بھی مسلسل ’’ترلے‘‘ کی سیاست کر رہے ہیں۔ پی سی بی جتنے ترلے کر رہا ہے بھارتی بورڈ حکام اتنے ہی پھیلتے جا رہے ہیں۔ اس معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ بھارت کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ’’ایم او یو‘‘ سائن ہی نہیں ہوا۔ اگر ایم او یو سائن نہیں ہوا تو جو نجم سیٹھی نے قوم کو دکھایا تھا وہ کیا تھا۔ نجم سیٹھی نے ایم او یو کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا تھا۔ اگر وہ ایم او یو تھا تو پی سی بی اس کو آئی سی سی کے پاس کیوں لے نہیں گیا۔ نجم سیٹھی اور شہریار خان قوم سے ایسا کیا چھپا رہے ہیں۔اس معاملے کی اوپن انکوائری ہو نی چاہئے۔وزیر اعظم پاکستان اپنے خلاف ہونے والی انکوائریوں سے تھوڑا بہت ٹائم نکال کر پی سی بی میں ہونیوالی گڑ بڑ کا نوٹس لیں ۔ وزیر اعظم نے خود ایسا نہیں کیا تو شائد پھر اس معاملے میں بھی عدالت کو ہی زحمت کرنی پڑے ۔

Related posts