پنجاب میں قانون سب کیلئے ایک نہیں‘ فیصل آباد پولیس کی سرزنش


فیصل آباد(نیوزلائن)عدالتی حکم پر مقدمہ درج کرکے قانون سب کیلئے ایک ہے کی کوشش کرنے والی فیصل آباد پولیس کو چیف سیکرٹری پنجاب کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ قانونی حلقوں نے غیرجانبدارانہ تفتیش اور ڈی جی ایف ڈی اے کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی یاور حسین نے اپنے کارندوں کیساتھ مل کر محمد علی نامی ایک شہری کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ اس مقدمہ کیلئے استعمال ہونے والے میڈیکولیگل کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے بوگس اور خودساختہ قرار دیا تو متاثرہ شہری ایف ڈی اے کیخلاد مقدمہ کے اندراج کیلئے سرگرم ہو گیا ۔شہری نے عدالت میں اندراج مقدمہ کی رٹ دائر کی تو عدالت نے شہری کے بنیادی حق کے پیش نظر اندراج مقدمہ کا حکم دیدیا۔ تھانہ سول لائن پولیس نے ڈی جی ایف ڈی اے یاور حسین اور اس کے کارندوں کیخلاف دہشت گردی کا جھوٹا مقدمہ درج کروانے کیلئے فراڈ‘ جعل سازی اور دھوکہ دہی سے کام لینے کی دفعات کے تحت ایف ڈی افسر کیخلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ اس ایف آئی آر کے اندراج سے اور کچھ ہوا یا نہیں مگر پنجاب حکومت کے قانون کی حکمرانی اور صوبے میں تمام شہریوں کو ایک جیسے حقوق حاصل ہونے کے دعووں کے ڈھول کا پول کھل گیا۔ مقدمہ کا اندراج ہونا تھا کہ چیف سیکرٹری پنجاب نے فیصل آباد پولیس کی مقدمہ کے اندراج پر سرزنش کر ڈالی۔ چیف سیکرٹری کو اعتراض مقدمہ کے اندراج پر نہیں ہے بلکہ ڈی جی ایف ڈی اے کیخلاف مقدمہ کے اندراج پر اعتراض ہے۔ چیف سیکرٹری کے سرزنشی لیٹر نے پنجاب حکومت کا مؤقف واضح کر دیا کہ پنجاب حکومت ڈی جی لیول کے افسران کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے اور اس کے خلاف مقدمہ کے اندراج پر ہی چیف سیکرٹری سیخ پا ہو گئے اور پولیس سے جواب طلبی شروع کر دی۔اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری کا پولیس کو خط لکھنا تفتیشی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے اور ایسا خط لکھنے پروزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو چیف سیکرٹری کے خلاف ایکشن لینا چاہئے۔ قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہے۔ کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا چاہئے۔ ڈی جی ایف ڈی اے کوئی آسمان سے اترا ہوا نہیں ہے کہ اس کیخلاف قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ شہری کیخلاف دہشت گردی کا بوگس مقدمہ درج کروانے والے قابل معافی نہیں ہو سکتے۔ دوسرا یہ کہ مقدمہ کے اندراج کا حکم عدالت نے دیا تھا۔ ایسے میں تفتیشی عمل کو غیرجانبدارانہ رکھا جانا چاہئے مگر ان چیف سیکرٹری نے خط لکھ کر پولیس کو واضح پیغام دیا ہے کہ ڈی جی ایف ڈی اے کو رعائت دی جائے۔ ان حالات میں اس مقدمہ کی تفتیش درست نہ ہونے کا احتمال ہے۔ قانون کا تقاضا ہے کہ ڈی جی اب گرفتاری دیں اور ان سے پولیس غیرجانبدارانہ تفتیش کرے۔

Related posts